رومی:ایک تعارف
مولانا جلال الدین رومی بہت بڑے صوفی تھے۔ وہ 1207ء میں بلخ (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔ 1273ء میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے پہلے علوم ظاہری کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1244میں قونیہ میں ان کی ملاقات ایک درویش شمس الدین تبریزی سے ہوئی۔ وہ ان کے ساتھ چند مہینے رہے۔ شمس الدین تبریزی کی صحبت نے مولانا روم میں زبر دست روحانی انقلاب پیدا کر دیا۔
اس کے بعد وہ شعر کی زبان میں اپنے احساسات کا اظہار کرنے لگے۔ انھوں نے وہ مجموعہ تیار کیا جو مولانا روم کی مثنوی کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں تقریباً 26 ہزار اشعار ہیں۔ اس مثنوی کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ کہا جانے لگا کہ وہ فارسی زبان کا قرآن ہے:
مثنوی مولوی معنوی هست قرآن در زبان پهلوی
تصوف کی کتابوں میں مثنوی مولانا روم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا روم کی اس مثنوی کو مثنوی معنوی بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس میں عالم معنوی اور احوال باطن کے اسرار و معارف کا تذکرہ ہے۔ اگرچہ تصوف اور روحانیت کے موضوع پر بہت سی مثنویاں فارسی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن جو مقبولیت مثنوی مولانا روم کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو حاصل نہ ہوسکی۔
مثنوی مولانا روم میں کثرت سے اخلاق اور روحانیت کی باتیں ہیں ۔ تاہم مثنوی کے آغاز میں مولانا نے بانسری کی مثال سے جو مضمون بیان کیا ہے وہی گویا پوری کتاب کا خلاصہ ہے۔
مولانا روم نے مثنوی کو بانسری سے شروع کیا ہے ۔ بانسری کی مثال لے کر نہایت گہرے مضامین بیان کیے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بانسری کے ذریعہ انھوں نے معرفت کے جو مضامین بیان کیے ہیں وہ کسی اور ساز کی مثال سے نکالے نہیں جا سکتے تھے۔
ہندو مذہب میں خاص طور پر بانسری کا تعلق روحانیت کے ساتھ مانا گیا ہے۔ کرشن جی کی تصویروں میں بانسری کا شامل ہونا اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مولانا روم نے بانسری کی تشبیہ کو خصوصیت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے روح کی ماہیت اور اس کی حقیقت کو موثر انداز میں نظم کیا ہے ۔ چنانچہ مثنوی مولانا روم اس شعر سے شروع ہوتی ہے کہ بانسری کو سنو کہ وہ کیا بیان کرتی ہے ۔ وہ جدائی کے اوپر نالہ کررہی ہے:
بشند از نے چوں حکایت می کند وز جدائی ہاشکایت می کند
مولانا روم نے اس میں بتایا ہے کہ بانسری سے جو دل سوز نغمے نکلتے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ وہ اپنی اصل سے جدا ہو گئی ہے۔ بانسری سے نکلنے والی آواز کا درد و سوز اس بنا پر ہےکہ وہ اپنے نیستاں سے کاٹ کر الگ کر دی گئی ہے۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانی روح در اصل روح الارواح یا ہستی مطلق سے جدا ہو کر اس موجودہ دنیا میں آئی ہے جس کو عالم شہود کہا جاتا ہے، اس علیحدگی کی بنا پر وہ مسلسل اضطراب اور بے چینی میں رہتی ہے۔ روح کی یہ حالت چوں کہ اپنی اصل سے جدائی کی بنا پر ہے، اس لیے جب تک وہ اپنی اصل کی طرف واپس نہ ہو جائے اس کو سکون حاصل نہ ہو گا۔ ان کے نزدیک یہی مطلب ہے اس آیت قرآنی کا کہ اے نفس مطمئن ، چل اپنے رب کی طرف ، تو اس سے راضی ، وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں (89:27-30)۔
مولاناروم کا یہ فلسفہ وحدت الوجود کے تصور سے جڑا ہو اہے۔ اکثر صوفیا وحدت الوجود کو بطور حقیقت مانتے ہیں۔ مگر اکثر علما نے اس سے اختلاف کیا ہے ۔
اہل ظاہر کے یہاں لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انسان عبد اور مخلوق ہے اور اس کو چاہیے کہ اسی ایک معبود کو مانے اور اسی کی عبادت کرے۔ مگر صوفیا کا کہنا ہے کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے لا موجود الا اللہ ۔ یعنی عالم کون میں صرف ایک ذات واحد کا وجود ہے ، کسی دوسری چیز کا حقیقی وجود نہیں۔ ان کے نز دیک بقیہ چیزیں جو اس کائنات میں ہیں، وہ اسی وجود حقیقی کے مختلف مظاہر ہیں۔ جو بظاہر الگ نظر آتے ہیں مگر وہ اس سے الگ نہیں۔
انسان بھی اسی ایک وجود اصلی کا جزء رہے۔ اس کا الگ ہونا ہی اس کا مسئلہ ہے ۔ جس دن وہ مٹ کر ذات حقیقی میں ضم ہو جائے گا، اس کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔یہی مختصر طور پر مولانا روم کے فلسفہ کا خلاصہ ہے ۔
__________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 17 جون 1992کو آل انڈیاریڈیو (نیشنل چینل) سے نشر کی گئی۔
