دیباچہ

زیر نظر مجموعہ عام معنوں میں کوئی مرتب کتاب نہیں۔ وہ مختلف اور متفرق مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین ماہنامہ الرسالہ میں چھپتے رہے ہیں۔ یہاں ان کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دیا گیا۔ ان مضامین کا مشترک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلم تاریخ کے مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر واقعہ میں کوئی ایسی نصیحت ہے جو اس کو عمومی بنا دیتی ہے۔

تاریخ کے مطالعہ کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً فخر کے جذبہ کی تسکین حاصل کرنا یا ماضی کی معلومات کے طور پر اس کو دیکھنا۔ زیرنظر کتاب میں ، اس کے بجائے تاریخ کا مطالعہ سبق اور نصیحت کے لیے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت تاریخ کو پڑھنا بے حد اہم ہے اور اگر اس سے صحیح تاثر لیا جائے تو وہ زندگی کی تعمیر کا موثر ترین ذریعہ ہے۔

بدقسمتی سے ہماری مدون تاریخ اس نہج پر نہیں لکھی گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں تاریخ کو زیادہ تر جنگ و فتوحات کی داستان کے طور پر لکھا جاتا تھا۔ یہی انداز ساری دنیا میں پھیل گیا۔ قدیم زمانہ میں تاریخ کے موضوع پر جتنی کتابیں لکھی گئیں ، وہ تقریباً سب کی سب بادشا نامہ یا جنگ نامہ تھیں۔ یہی مروجہ انداز مسلمانوں کے درمیان بھی غیر شعوری طور پر داخل ہو گیا۔

اسلام کے ظہور کے بعد ہزار سال تک اسلام کی تاریخ پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں ہیں، مگر وہ زیادہ تر فتوحات مسلمین یا جنگ نامۂ اسلام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پہلا شخص جس نے اسلامی تاریخ کی اس کمی کو محسوس کیا وہ عبدالرحمٰن ابن خلدون (808-732 ھ) تھا۔ اس نے نئے اسلوب پر تاریخ نگاری کے اصول وضع کیے جو اس کی مشہور کتاب مقدمہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس نے ان اصولوں پر تاریخ کو مرتب کرنے کی کوشش کی تاہم وہ بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔

اس کمی نے اسلام کی تاریخ کو بظاہر جنگ و فتوحات کی تاریخ بنا دیا۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اسلام ایک شمیری مذہب ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام کی تاریخ ، وسیع تر معنوں میں حیات انسانی کی تاریخ ہے۔ مگر عملاً وہ کشور کشائی کی تاریخ بن گئی۔ اسلام نے اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا۔ زندگی کے ہرشعبہ میں انقلاب کا سبب بنا۔ انسانی زندگی میں ایسا ہما گیر انقلاب صرف شمشیر کے ذریعہ وجود میں نہیں آ سکتا۔

مورخین عام طور پر اسلامی تاریخ کے جس پہلو سے سب سے زیادہ متاثر ہیں وہ اسلام کی استثنائی نوعیت کی انتہائی تیز رفتار جغرافی توسیع ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسلام کے  دوست اور دشمن دونوں میں سے کوئی بھی اس واقعہ سے صحیح سبق نہ لے سکا۔ اسلام کے  معترفین نے اسلامی تاریخ کے اس واقعہ سے زیادہ تر فخر کی غذا لی۔ اس کے برعکس اسلام  کے معترضین نے اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ اسلام کی اصل طاقت اس کی تلوار ہے ، نہ کہ اس کی آئڈیالوجی۔

زیر نظر کتاب گویا کہ اسلام کی تاریخ کا درست زاویہ سے مطالعہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس اعتبار سے شاید یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ غلط طریقہ مطالعہ کی تصحیح کی طرف ایک قدم ہے۔ اگرچہ وہ محدود بھی ہے اور غیر مرتب بھی۔

                                                                                                                                                                                             وحید الدین

                                        دہلی ، 20 نومبر 1998ء

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion