طلاق کا حکم
نکاح کا مسئلہ زندگی کا اصل مسئلہ ہے جب کہ طلاق کا مسئلہ صرف ایک استثناء ہے۔ تاہم چوں کہ ایسا استثناء بار بار پیش آتا ہے اس لیے الٰہی قانون اور وضعی قانون دونوں میں اس کی بابت احکام مقرر کیے گئے ہیں۔
الٰہی شریعت کی صحیح اور کامل نمائندگی اب صر ف وہ ہے جوقرآن کی صورت میں پائی جاتی ہے۔کیوں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن میں ، اور اسی طرح اس کی مستند شرح کے طورپر سنت میں ، طلاق کی بابت بہت سے احکام دیے گئے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ— طلاق انتہائی ناگز یز حالات میں دی جائے۔ چنانچہ حدیث میں اس کو أَبْغَضُ الْمُبَاحَاتِ ( سب سے زیادہ نا پسندیدہ حلال ) کہا گیا ہے(سنن ابو داؤد، حديث نمبر 2178)۔ اور دوسری چیز یہ کہ جب طلاق کا معاملہ کیا جائے تو اس طرح کیا جائے کہ دونوں عزت اور شرافت کے ساتھ علاحدہ ہوجائیں۔ ایسانہ ہو کہ ایک یا دوسرے کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہوجائے اور وہ فریق ثانی کو بے عزت یا بے سہارا کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔
قرآن میں طلاق کے حکم کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے:
وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (33:28)۔یعنی، جب انھیں طلاق دے کر رخصت کرو تو بھلے طریقہ سے اور شریفانہ اندازسے رخصت کرو۔
