عام الوفود
10ھ
قبائل کے وفود کی آمد8ھ میں ہی شروع ہوگئی تھی تاہم فتح مکہ کے بعد9ھ اور10ھ میں کثرت سے اس قسم کے وفد مدینہ آئے۔ اسی وجہ سے ان دونوں سالوں کو عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یہاں ان وفود میں سے کچھ اہم وفود کا ذکر کیا جاتا ہے۔
وفد ہوازن:فتح مکہ کے بعد یہ پہلا وفد ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں کل چودہ آدمی شامل تھے جن میں آپ کے رضاعی چچا بھی شامل تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اسی قبیلہ کی تھیں۔ ان لوگوں نے اس نسبت سے کہ آپ اسی قبیلہ کے لوگوں کی گود میں پلے بڑھے ہیں آپ سے شفقت و مروت کی درخواست کی۔ اور اس موقع پر کچھ اشعار بھی پڑھے۔ آپ نے ان کے ساتھ عزت کا معاملہ فرمایا۔
وفد ثقیف:رمضان9ھ میں ثقیف کا ایک وفد اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کے لیے مدینہ آیا۔ یہ وہی لوگ تھے جو محاصرۂ طائف کے موقع پر قلعہ بند ہوگئے تھے۔ اب انہوں نے آپ کی اطاعت قبول کرلی۔
قبیلہ ثقیف کامعاملہ دوسرے قبائل سے مختلف تھا۔ جب بیعت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمان لائیں گے لیکن ان کے اوپر صدقہ نہیں ہوگا اور ان کے اوپر جہاد نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لے لی۔ بعض صحابہ نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا:جب وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے(سیرۃ ابن کثیر،جلد4، صفحہ 56)۔ چنانچہ اس کے بعد ایسا ہی ہوا۔
وفد عبدالقیس:عبدالقیس ایک بہت بڑا قبیلہ تھا جو بحرین میں آباد تھا۔ اس وفد نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے ایسا جامع عمل بتا دیں کہ جس سے وہ جنت کے مستحق ہو سکیں۔ آپنے فرمایا:اللہ پر ایمان لاؤ۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ادا کرو۔
وفد نجران9ھ میں نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا جس میں ساٹھ آدھی تھے۔ ان میں سے چودہ آدمی ان کے اشراف اور سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں اتارا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ اس پر بعض صحابہ معترض ہوئے اور انہیں روکا۔ مگر آپ نے فرمایا:پڑھنے دو۔ چنانچہ انہوں نے مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔
ان لوگوں سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔ جس میں خاص طور پر عیسیٰ کی الوہیت اور ابنیت خدا کا مسئلہ غالب رہا۔ان پر حق واضح ہوگیا۔ مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ قرآن میں سورہ آلِ عمران کی ابتدائی آیتیں اسی موقع پر نازل ہوئیں۔
