اسلام کا نیا دور

)مدرسہ مصباح العلوم ،آسنسول،کی فرمائش پر زیر نظر’’ پیغام‘‘ دیا تھا(

چودھویں صدی ہجری پر اسلام کا ایک دور ختم ہوا ہے، پندرہویں صدی ہجری میں اسلام کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج وہ تمام موافق حالات مکمل طور پر پیدا ہو چکے ہیں جو اسلام کا نیا دور شروع کرنے کے لیے درکار ہیں۔

جب رات کا اندھیرا ختم ہوتا ہے اور نئے دن کا سورج نکلنے کے آثار ظاہر ہوتےہیں،تو یہ فطرت کی طرف سے اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ روز و شب کی ایک گردش پوری ہوگئی۔ اب اس کی دوسری گردش شروع ہونے والی ہے۔ جو شخص چاہے اس کی روشنی میں اپنا سفر شروع کرے اور منزل پر پہنچ جائے ۔

 صبح کے وقت سورج کا نکلنا ہر آدمی کو دو چیزوں کے درمیان کھڑا کر دیتا ہے۔ ایک وہ موقع جو گزر چکا۔ دوسرا وہ موقع جو سامنے کھلا ہوا موجود ہے۔ جو شخص بھی ان مواقع کو استعمال کرے گا، وہ لازماً اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ تاہم امتحان کی اس دنیا میں مواقع صرف انھیں کے لیے ہوتے ہیں، جو مواقع کو استعمال کریں۔ جو لوگ مواقع کو استعمال کرنے میں ناکام رہیں، ان کے لیے کوئی موقع موقع نہیں۔ کامیابی دوسرے لفظوں میں موجود مواقع کو استعمال کرنے ہی کادوسرا نام ہے۔

 کوئی شخص پچھلے کل میں اپنا سفر شروع نہیں کر سکتا ۔ سفر جب بھی شروع ہو گا آج سے شروع ہوگا، نہ کہ گزرے ہوئے ’’کل‘‘ سے۔ جو لوگ آج کے دن بھی گزرے ہوئے کل میں جئیںان کے لیے اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ جو مواقع گزر چکے انھیں بھول جائیے۔ جو مواقع آج موجود ہیں ان کو جانیے اور انہیں استعمال کیجیے، ان شاء اللہ، آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔ یاد رکھیے،گزرا ہوا دن کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آیا۔ گزرا ہوا دن آپ کے لیے بھی واپس آنے والا نہیں۔ (الرسالہ، جون 1985)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion