بعث ولید بن عقبہ
محرم الحرام9ھ
ولید بن عقبہ کو آپ نے صدقات وصول کرنے کے لیے بنی المصطلق کی طرف روانہ کیا۔ لیکن ولید بن عقبہ کو غلط فہمی ہوگئی کہ یہ لوگ آمادۂ بغاوت ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا کہ وہ اس کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور اسلام سے پھر گئے ہیں۔ اسی عرصہ میں بنی المطلق کو حقیقت حال کی خبر ہوگئی۔ انہوں نے اپنا ایک وفد آپ کی خدمت میں ارسال کیا اور حقیقت حال سے آپ کو مطلع کیا۔ اسی سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا...(49:6)۔ یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔
ماہ صفر9ھ میں عبداللہ بن عوسجہ کوآپ نے بنی عمر بن حارثہ کی طرف اسلام کی دعوت کے لیے روانہ کیا۔ نیز صفر میں ہی قطبہ بن عامر کی قیادت میں بیس افراد کو خشعم کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔
آئندہ ماہ ربیع الاول میں سریہ ضحاک بن سفیان پیش آیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ انہی دنوں حبشیوں کی ایک جماعت جدہ آئی۔ رسول اللہ نے ان کے تعاقب کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ یہ لوگ بھاگ گئے۔ اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے گھر کی طرف روانگی میں عجلت کی۔ حضرت علقمہ کو، جو سالار لشکر تھے، یہ بات نامناسب اور خلاف اصول معلوم ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک الاؤ جلوایا اور متعلقہ لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود جائیں۔ قصورواروں میں سے بعض اس کے لیے تیار بھی ہوگئے۔ تاہم فوراً علقمہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ میں نے تم کو صرف آزمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ’’جو تمہیں معصیت کا حکم دے اس کا حکم نہ مانو‘‘۔
ربیع الآخر9ھ میں آپ نے حضرت علی کو قبیلہ طے کی طرف روانہ فرمایا۔ اس کے نتیجے میں جو لوگ گرفتار ہوئے اس میں مشہور سخی حاتم طائی کی لڑکی سفانہ بھی تھی۔ اس نے اپنے باپ کی سخاوت کے حوالے سے آپ سے احسان کی درخواست کی۔ آپ نے اسے قبول کر لیا اور اس کو سواری اور زادراہ اور ہدیہ دے کر رخصت کیا۔
