عسرکےساتھ یسر
موجودہ دنیاکانظام امیدکےاصول پرقائم ہے۔یہاں ہررات کےبعدصبح آتی ہے۔ یہاں ہرعسرکےساتھ ہمیشہ یسرموجود رہتاہے۔یہاں ہرمسئلہ کےساتھ مواقع کا دروازہ کھلا رہتاہے۔ خلاصہ یہ کہ ہرپرابلم کےساتھ سلوشن کاموجودہونااس دنیا کاایک اٹل اصول ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔
اگرکبھی ایساہوکہ مسئلہ حل ہوتاہوانظرنہ آئےتوسمجھناچاہیےکہ ہم جو فارمولا استعمال کررہےہیں وہ صورت حال کےمطابق نہیں۔ایسی حالت میں نئے فارمولے کو استعمال کرناچاہیے۔یہی سنت رسول ہے۔ جہاں جنگ کافارمولاکارآمدنہ ہو رہاہووہاں امن کا فارمولا استعمال کیجیے۔جہاں براہ راست مقابلہ موثرنہ ہورہاہووہاں بالواسطہ مقابلے کاطریقہ اختیار کیجیے، وغیرہ۔
