حقیقت پسندی
حضرت حسن حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے ۔ وہ اسلامی تاریخ کے پانچویں خلیفہ تھے ۔ انھیں تمام شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق خلافت پر قائم رہنے کا حق حاصل تھا ۔ مگر جب انھیں خلافت ملی تو صورت حال یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ جو اس وقت شام کے حاکم تھے ، انھوں نے خلافت سے باقاعدہ بغاوت کر دی ۔ خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر انھوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ کر لیا۔
حضرت حسن بن علی نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہو اکہ چالیس ہزار کی فوج ان کے ساتھ ہے اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے ساتھ بھی تقریباً اتنے ہی آدمی تھے ۔ یہ دونوں فوجیں جوش وجذبہ سے بھری ہوئی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے بے قرار تھیں ۔ مگر حضرت حسن نے سوچا کہ یہ دونوں کے دونوں مسلمان ہیں ۔ جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑیں ۔ وہ قیمتی افراد جو اسلام کے جھنڈے کے نیچے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کریں وہ خود اپنے آپ کو اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ کو ختم کر ڈالیں گے۔
حضرت حسن کی حیثیت جائز خلیفہ اسلام کی تھی ۔ جب کہ امیر معاویہ کی حیثیت یقینی طور پر باغی کی تھی مگر حضرت حسن نے بجا طور پر یہ اندازہ لگایا کہ حضرت امیر معاویہ کسی قیمت پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ وہ ہر حال میں لڑائی کو جاری رکھیں گے خواہ اس کا نتیجہ مسلم سپاہیوں کی عام بربادی کیوں نہ ہو ۔ چنانچہ حضرت حسن نے خود اپنے آپ کو جھکانے پر راضی کر لیا ۔ مسلمانوں کو باہمی قتل وخون سے بچانے کے لیے انھوں نے یک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں ۔
یہ حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہاں انسان حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین سطح پر نظر آتا ہے، وہ سطح جہاں انسان اپنے آپ کو حذف کر کے سوچ سکتا ہے۔ حضرت حسن نے اپنے آپ کو حذف کر کے سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کر سکے جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں مشکل سے ملے گی ۔
