فن تفکیر
Art of Thinking
تفکیر (thinking) انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل ہے۔سچی تفکیر ایک اعلیٰ عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابو الدرداء صحابی کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابوالدرداء کا افضل عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ (الطبقات الکبری لابن سعد، جلد4، صفحہ353)۔ یعنی، سوچنا اور عبرت پکڑنا۔ اسی طرح ایک اور صحابی ابوذر کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابوذر کی خاص عبادت کیا تھی۔ اُنہوں نے جواب دیا:كَانَ النَّهَارُ أَجْمَعُ خَالِيًا يَتَفَكَّرُ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانی، جلد1، صفحہ164)۔ یعنی، وہ پورے دن تنہا سو چتے رہتے تھے۔
سوچنے کا عمل ذہن (mind) کی سطح پر ہوتا ہے، اور انسانی وجود میں سب سے بڑی چیز یہی ذہن ہے۔ سوچنے کا عمل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ تمام بڑی بڑی باتیں سوچنے کے ذریعہ ہی دریافت ہوئی ہیں۔ سوچنا آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانیت کی اعلیٰ سطح تک پہنچاتا ہے۔ سوچنے کے عمل کے ذریعہ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ مشکلات کا حل دریافت ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ چھپی ہوئی حقیقتیں انسان کے علم میں آتی ہیں۔ سوچنے کے ذریعہ آدمی یہ معلوم کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے مائنس پوائنٹ کو پلس پوائنٹ میں تبدیل کر سکے۔ سوچنا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی مؤثر منصوبہ بندی کرے، اور جو آدمی منصوبہ بند عمل کی صلاحیت رکھتا ہو وہ اس دنیا میں کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔
سوچنا ہر آدمی کی پیدائشی صفت ہے۔ مگر صحیح طرز فکر (right thinking) صرف اُس شخص کے اندر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو شعوری طور پر اس کے لیے تیار کرے۔ صحیح طرز فکر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں، نہ کہ ویسا جیسا کہ وہ خود انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانبدارانہ سوچ سے مکمل طور پر پاک ہو۔ وہ سوچنے کے نتیجہ کو ہر حال میں قبول کرنے کے لیے تیار ہو خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔
