تاریخ ساز کارنامہ

اسلام کی تاریخ اس الزام کی تردید ہے کہ عورتیں گھر کے اندر رہ کر بڑے بڑے کام نہیں کر سکتیں۔ اگرچہ گھر کے اندر کا جو کام ہے وہ بھی بلاشبہ بڑا کام ہے۔ تاہم باہر کے جن کاموں کو معروف طور پر بڑا کام سمجھا جاتا ہے وہ بھی یقینی طورپر عورتیں انجام دے سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ مردو ں کی طرح باہر نکل آئی ہوں۔ اسلام کی تاریخ میں  اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ان میں  سے ایک مثال وہ ہے جس کا ذکر پروفیسر ٹی۔ ڈبلیو۔ آرنلڈ نے کیا ہے۔

یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ تیر ھویں صدی عیسوی کے آغاز میں  تاتاریوں (منگولوں) نے اسلامی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کو آخری حد تک تباہ وبرباد کرڈالا۔ مگر اس کے بعد ایک تاریخی معجزہ پیش آیا۔ وہی لوگ جو اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ اسلام قبول کرکے اس کے پاسبان بن گئے۔ انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (1984) میں  تاریخ اسلام کے مقالہ نگار نے لکھاہے:

‘‘Ghazan Khan (reigned 1295-1340) was able to embrace Islam amid general acceptance by his army, and his successors were all Muslims. Within less than 40 years after Hulagu's terrible invasion. his descendants had become patrons of Muslim culture.’’

(Encyclopedia Britannica, 9/933)

منگول حکمراں غازان خاں (زمانہ سلطنت 1295-1304) نے اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھ اس کی تمام فوج نے بھی۔ اس کے بعد اس کے تمام جانشین مسلمان تھے۔ ہلاکو کے دہشت ناک حملہ کے 40 سال سے بھی کم عرصہ میں  اس کی اولاد مسلم تہذیب کی سرپرست بن گئی۔

پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ منگول اور وحشی قبیلے جو ان کے ساتھ آئے تھے۔ انھوں نے آخر کا ر انھیں مسلمانوں کے مذہب کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیا جن کو انھوں نے اس سے پہلے اپنے پیروں کے نیچے ڈالا تھا:

‘‘The Mongols and the savage tribes that follwed in their wake were at length brought to submit to the faith of those Muslim peoples whom they had crushed beneath their feet.’’

(Arnold, The Preaching of Islam, 1976, p. 229)

پروفیسر آرنلڈنے تفصیل سے بتا یا ہے کہ یہ دراصل عورتیں تھیں جو ان کے قبول اسلام کا سبب بنیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام کی اشاعت کا کام صرف مردوں ہی نے نہیں کیا ہے ، بلکہ مسلمان عورتوں نے بھی اس مقد س کام میں  حصہ لیا ہے کئی تاتاری شہزادے ایسے ہیں جنھوں نے اپنی مسلمان بیویوں کے اثرسے اسلام قبول کیا۔ غالباً یہی صورت بہت سے بت پرست ترکوں کے ساتھ پیش آئی جب کہ انھوں نے مسلم ملکوں پر حملہ کیا:

‘‘It is interesting to note that the propagation of Islam has not been the work of men only, but that Muslim women have also taken their part in this pious task. Several of the Monglo princes owed their conversion to the influence of a Muslim wife, and the same was probably the case with many of the pagan Turks when they had carried their raids into Muhammadan countries.’’

(Arnold, The Preaching of Islam, 1976. p. 415)

اس تاریخ ساز واقعہ کو ظہور میں  لانے میں  نہایت اہم حصہ مسلم خواتین نے ادا کیا ہے۔ تاتاریوں نے اسلامی خلافت کو برباد کیا تو انھوں نے پہلے قتل وغارت گری کی۔ اس کے بعد انھوں نے کثیر تعداد میں  عورتو ںکو گرفتار کر لیا اور ان کو اپنے گھر وں میں  بیویاں بناکر رکھا۔ چنانچہ اس واقعے کے بعد اکثر تاتاری فوجیوں یا ان کے سر داروں کے گھر وں میں  مسلم عورتیں موجود تھیں۔

یہ مسلم عورتیں مذہبی جوش سے سرشار تھیں۔ اسلام کی حمایت کا جذبہ ان کے اندر شدت سے بھرا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے تاتاری مردوں پر خاموشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تارتاریوں کے دل اسلام کے حق میں  نرم ہوگئے۔ اس کے بعد وہ یا توگھر کی تبلیغ ہی سے مسلمان ہوگئے۔ یا ان کا حال یہ ہوا کہ باہر جب ان کا سابقہ مسلمانوں سے پڑتا تو معمولی تلقین سے وہ اسلام قبول کرلیتے۔ کیوں کہ ان کے دل میں  پہلے ہی سے اسلام کا بیچ پڑچکا تھا۔

یہی اکثر تاتاریوں ( منگول ) کاحال ہوا۔ ان کا پہلا فرماں روا جو مسلمان ہوا وہ بر کہ خان تھا۔ اس کا زمانہ حکومت 1256سے لے کر 1267 تک ہے۔ بر کہ خاں کی ماں غالباً مسلمان تھی۔ اور اس نے بر کہ خاں کی تر بیت بچپن ہی سے ایک مسلمان کی طرح کی تھی۔ تخت نشینی کے بعد بر کہ خاں کی ملاقات ایک مسلمان تاجر سے ہوئی۔ اس نے تاجر سے اسلام پر کچھ گفتگو کی اور پھر مسلمان ہوگیا۔ غازان خاں کا بھا ئی الجا ئتو 1340 میں  اس کا جانشین ہوا۔ اس کی بیوی مسلمان تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تر غیب سے مسلمان ہوگیا۔ یہی صورت اکثر تاتاری سر داروں اور ان کے عام فو جیوں کے ساتھ پیش آئی۔ کسی تاتاری کی بیوی مسلمان تھی اور کسی تاتاری کی ماں مسلمان۔ان مسلم خواتین نے تاتاریوں کے دلوں میں  اس طرح اسلام کی عظمت بٹھائی کہ دھیر ے دھیرے سب کے سب مسلمان ہوگئے۔

تقسیم کار کے اصول کے تحت اگرچہ عورت جسمانی طور پر زیادہ تر گھر کے دائرہ میں  رہتی ہے۔ مگر ذہنی اور قلبی طورپر وہ اس مرد کی شریک کار ہوتی ہے جو گھر کے باہر نکلتاہے اور باہر کے دائرہ کے کام انجام دیتا ہے۔ عورت کا تعلق مرد سے نہایت گہراہوتا ہے۔ وہ اس کی ساتھی، اس کی مشیر اور اس کی غم خوار ہوتی ہے۔ اس طرح وہ ہر لمحہ مرد کے تمام کاموں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ عورت اگر گھر کے کاموں کی خود نگراں ہوتی ہے تو باہر کے کاموں کی وہ مرد کے واسطے سے نگرانی کرتی ہے۔

عورت کا تعلق دنیا کے ہر کام اور زندگی کی تمام سر گرمیوں سے ہے، 50فی صدمعاملات میں  براہِ راست طور پر اور بقیہ 50 فی صد معاملات میں  بالواسطہ طورپر۔ زندگی میں  عورت کے رول کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مرد کا معاملہ۔ اس کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ عورت کو جسمانی طور پر کہاں کھڑا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس کو کتنا زیادہ با شعور بنا یا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کا فرق مقام عمل کے اعتبار سے ہے ، نہ کہ خود عمل کے اعتبارسے۔

عورت اپنی ذات میں  ایک کمز ور جنس ہے۔ مگر وہ طاقت ورجنس کی طاقت ہے۔ عورت کی اسی حیثیت میں  اس کی طاقت کا راز چھپا ہوا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion