اقدام نتیجہ خیزہوناچاہیے
بنی اسرائیل کے اندرپیش آنے والے واقعات میں سےایک واقعہ وہ ہےجوحضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانے میں پیش آیا۔ قرآن کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کےاوپرحضرت ہارون کوذمہ داربناکرکچھ دنوں کےلیے طُور پہاڑ پر چلے گئے۔ اس دوران بنی اسرائیل نے انہیں روکا مگر قوم کی طرف سے شدت دیکھ کر وہ اس معاملہ میں خاموش ہوگئے۔ مگر جب حضرت موسیٰ واپس آئےتوانہوں نےاس مصنوعی بچھڑے کو توڑ کر پھینک دیا اور مجرمین کو سزا دی (7:148؛ -9720:85)۔
یہاں یہ سوچنےکی بات ہےکہ حضرت موسیٰ اورحضرت ہارون کےعمل میں یہ فرق کیوں تھا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت ہارون نےکھلےہوئےشرک کےایک معاملہ کو عملاً برداشت کیا جب کہ حضرت موسیٰ نےاس کوتوڑکراورجلاکرختم کردیا۔
اس کاجواب یہ ہےکہ حضرت ہارون نے غور و فکر کے بعد یہ جاناکہ اگروہ عملی اقدام کرتے ہیں توایک گروہ ان کاساتھ دے گا اور دوسرا گر وہ بچھڑا پوجنےوالوں کےساتھ رہےگا۔ اس طرح قوم دوگروہوں میں بٹ کرباہمی لڑائی شروع کر دے گی، مگر حضرت موسیٰ کے عمل کی صورت میں یہ اندیشہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ کو قوم میں غالب حیثیت حاصل تھی۔ اس بنا پر یہ ممکن تھا کہ وہ قوم میں جس فیصلہ کوچاہیں نافذ کریں۔
اس واقعہ پرغورکرنےکےبعدیہ اصول ملتاہےکہ عمل کوہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented) ہونا چاہیے۔ اگر عملی اقدام نہیں کرنےسے نتیجہ مطلوب صورت میں نکلنے والا ہو تو عملی اقدام کیا جائےگا اور اگر یہ اندیشہ ہوکہ عملی اقدام سے حالات بگڑ جائیں گے اور ایک برائی کی جگہ دوبرائی پیدا ہو جائےگی تو عملی اقدام نہ کیا جائےگا۔
