پکار پر دوڑنے والے

مسلمانوں نے قدیم رومی (بازنطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطنیہ اور اس کے آس پاس کا کچھ علاقہ اب بھی اس کے قبضہ میں تھا، اور یہاں اس کی بقیہ سلطنت کا مرکز قائم تھا۔

 تیسری صدی ہجری کے آغاز میں قسطنطنیہ کا رومی بادشاہ تو فیل بن میخائیل تھا۔ 223ھ میں وہ ایک عظیم لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقہ میں پہنچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے قلعہ پر حملہ کیا۔ یہاں اس وقت زیادہ فوج موجود نہ تھی۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو قتل کیا، انہیں گرفتار کیا اور بہت سے لوگوں کا مثلہ کیا۔

 اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ شاہ روم کے سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا تو وہ پکاری وَامْتِصْمَاهُ (ہائے معتصم)۔ یہ خبر بغداد میں خلیفہ معتصم عباسی کو پہنچی تو وہ تڑپ اٹھا۔ وہ اس وقت اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ فوراً ہی لبیک لبیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہاکہ کوچ کوچ:النَّفِيرَ ‌النَّفِيرَ (الكامل في التاريخ لابن الاثیر، جلد6، صفحہ 38)۔

اس کے بعد معتصم اپنی فوج کو لے کر روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ عموریہ(ترکی) میں پہنچا عموریہ اس وقت رومیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ معتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ ان پر منجنیق کے ذریعہ گولے برسائے جائیں۔ یہاں تک کہ قلعہ کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور معتصم مع اپنی فوج کے قلعہ کے اندر داخل ہوگیا۔ اب رومیوں کے لیے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ چنانچہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ معتصم نے اپنے تمام قیدیوں کو چھڑایا۔ اور عورت کو بھی قید سے آزاد کرایا، جس نے رمیوں کے حملہ کے وقت  وَامُعْتَصِمَاه کہہ کر آواز لگائی تھی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion