توبہ نے طاقت ور بنا دیا
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جادوگر جب فرعون کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا:اگر ہم موسیٰ کے مقابلہ میں غالب رہے تو ہم کو اس کا انعام تو ضرور ملے گا۔ فرعون نے کہا ہاں۔ اس کے بعد جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی مانند نظر آنے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ آپ کا عصا اژدہا بن کر گھوما تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جادوگروں کی ہر لکڑی لکڑی اور ہر رسی رسی ہو کر رہ گئی۔ جادوگر سمجھ گئے کہ موسیٰ نے جو چیز دکھائی ہے وہ جادو نہیں بلکہ خدائی معجزہ ہے۔ ان کا سینہ حق کے لیے کھل گیا۔ اور انہوں نے اسی وقت ایمان قبول کر لیا۔ فرعون غضب ناک ہو کر بولا:تم لوگ موسیٰ کے مومن بن گئے قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دوں۔ یہ تم لوگوں کی خفیہ سازش ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور پھر تم سب لوگوں کو سولی پر چڑھا دوںگا (7:124)۔ جادوگروں نے جواب دیا:اس ذات کی قسم جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ خدا کی روشن نشانیوں کے مقابلہ میں ہم تم کو ترجیح دیں۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کر لو۔ تم صرف اسی دنیاکی زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہو اور اللہ زیادہ اچھا ہے اور وہ باقی رہنے والا ہے (20:72-73)۔
وہی جادوگر جو ابھی فرعون کے سامنے خوشامدی باتیں کر رہے تھے اور اس کے انعام اور اعزاز کے طالب تھے وہی تھوڑی دیر بعد اتنے دلیر اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ فرعون کی انہیں کوئی پروا نہ رہی۔ حتٰی کہ فرعون کی طرف سے سخت ترین سزا کی دھمکی بھی انہیں مرعوب نہ کر سکی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے جادوگروں کو اچانک پستی سے بلندی اور بزدلی سے بہادری تک پہنچا دیا۔ وہ ایمان کی طاقت تھی۔ انہوں نے انسانوں سے گزر کر خدا کو پا لیا تھا، پھر ان کو انسانوںکا ڈر کیوں ہوتا۔
شہر کے مسلم محلہ کو تخریب کاروں کے ایک غول نے گھیر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے نکلے تو تخریب کاروں نے پتھر پھینکنے شروع کیے۔ مسلمانوں نے بھی اس کے جواب میں پتھر پھینکے۔ تخریب کاروں کو جب پتھراؤ سے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو انہوں نے بندوقوں سے فائر کیے جس سے کچھ مسلمان زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمان بھاگے اور اپنے گھروں میں داخل ہو گئے۔ اب تخریب کاروں کا حوصلہ بڑھا۔ وہ آگے بڑھ کر محلہ میں گھس گئے اور مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانا شروع کر دیا۔
یہ بڑا نازک موقع تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ کیا کریں۔ اب محلہ کے ایک بدنام شخص کو اللہ نے ہمت دی اور اس نے مسئلہ کو حل کر دیا۔ اس شخص میں اور کوئی برائی نہ تھی۔ البتہ وہ شراب پیتا تھا۔ وہ اپنے کمرہ میں داخل ہوا۔ اس نے تیمم کیا اور سجدہ میں گر پڑا۔ سجدہ کی حالت میں اس نے دعا کی: خدایا آج تو ہماری عزت رکھ لے اور ہماری مدد کر۔ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ اس نے یہ دعا کی اور اس کے بعد پڑوسی کی بندوق لی اور تھیلہ میں کارتوس بھرکر مجمع میں گھس گیا۔ اس نے چن چن کر تخریب کاروں کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اگرچہ وہ خود بھی ہر وقت تخریب کاروں کے نشانہ کی زد پر تھا مگر اس وقت ڈر اس کے دل سے بالکل نکل گیا تھا۔ وہ پوری بے خوفی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا۔ تخریب کاروں نے جب دیکھاکہ ان کے بہت سے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں اور ’’ہائے مار ڈالا‘‘ کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
قرآن میں ہے کہ اللہ کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے (35:10)۔ مذکورہ مسلمان کی دعا کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔ اس نے جب اپنی دعا کے ساتھ شراب کا عہد کیا تو اس نے ایک نیک عمل کیا۔ اس نیک عمل کی وجہ سے اس کی دعا اوپر اٹٖھ کر فوراً خدا کی بارگاہ میں پہنچی اور مقبول ہوئی۔ جب بھی آدمی اپنی دعا کے ساتھ اس قسم کا کوئی نیک عمل کرے تو اس کی دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔ دعا کے ساتھ اس کے موافق نیک عمل دعا کے معاملہ میں آدمی کے سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے، اور جب آدمی اپنی مانگ میں سنجیدہ ہو تو اس کی مانگ ضرور پوری کی جاتی ہے۔
اس واقعہ کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جب آدمی نے یہ کہا کہ ’’خدایا میں آج سے شراب کو چھوڑتا ہوں تو میری مدد کر‘‘ کے الفاظ بولتا تو اس سے اس کے اندر وہ یقین نہ آتا۔ کیوں کہ یہ چھپا ہوا خیال پھر بھی اس کے دل میں باقی رہتا کہ میں خدا کو پکار رہا ہوں حالاں کہ میں خدا کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ جب اس نے شراب چھوڑنے کا عزم کیا تو بھرپور طور پر اس کو یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب خدا ضرور میری مدد کرے گا۔ کیوں کہ اب اس نے اپنے اور خدا کے درمیان پڑے ہوئے پردہ کو ہٹا دیا تھا۔ پہلی صورت میں اس کی مثال اگر چورکی سی تھی تو اب اس کی مثال اس شخص کی سی ہو گئی جس نے سامان کی قیمت اس کے دکان دار کو ادا کر دی ہو۔ اس کی توبہ نے اس کو نڈر بنایا اور اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ توبہ کے فوراً بعد اس کے اندر سے احساسِ جرم نکل گیا۔ اس کا یہ اندیشہ مٹ گیا کہ میں خدا سے دور ہوں۔ اب وہ خدا کی مدد کو اپنے حق میں یقینی سمجھنے لگا۔ اس کے اور خدا کے درمیان جو رکاوٹ تھی جب اس رکاوٹ کو اس نے دور کر دیا تو اندیشوں کے تمام غبار اس کے دل سے ہٹ گئے۔ خدا اس کو اپنا نظر آنے لگا، کیوں کہ وہ اپنے آپ کو خداکا بنا چکا تھا۔
