مدعو میں برتری کی نفسیات پیدا کرنا

 مسزاندرگاندھی کو ہندستان کے الیکشن1977 میں مکمل شکست ہوئی تھی، اس کے بعد جنتا حکومت نے پوری کوشش کی کہ ان کو سیاسی منظر سے ہٹا دے۔ مگر جنوری1980ء کے الیکشن میں دوبارہ اندراگاندھی کو اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی کہ ہندستانی پارلیمنٹ کی دو تہائی نشستوں پر ان کی پارٹی قابض ہوگئی۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندستان ٹائمس (8 جنوری1980) لکھتا ہے: ملک اپنی جمہوریت پر فخر کر سکتا ہے جس نے اندرا کے لیے اس حیران کن واپسی کو ممکن بنایا۔ ہندستان کا سیاسی ڈھانچہ انتخابی طریقہ کے ذریعہ پرامن سیاسی تبدیلی کے نظام کے ساتھ، ان بہت سے زیر ترقی ممالک سے ممتاز طور پر نمایاں ہے جہاں اختلاف رائے کو سختی سے دبا دیا گیا ہے، انفرادی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور سیاسی تبدیلی صرف تشدد ہی کے ذریعہ وجود میں آ سکتی ہے:

The country can be proud of its democracy which has enabled her to make her stunning come back. India`s political system with its mechanism of smooth political change through the ballot, standee out in striking contrast to those of most developing countries where dissent is stifled, individual liberties smothered and change ushered in only amid violence.

 اس عبارت میں واضح طور پر ایران اور پاکستان جیسے ملکوں کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اقتباس موجودہ زمانہ کے ایک بہت بڑے المیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں انہوں نے اسلام کی کوئی واقعی خدمت تو نہ کی۔ البتہ اسلام کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اپنے’’بوائق‘‘ کو اسلام کا عنوان دے کر دوسری قوموں کے سامنے اسلام کی تصویر ہلکی کر دی۔ اور اس طرح مدعو اقوام میں غیر ضروری طور پر اسلام کے مقابلہ میں احساس برتری کا جذبہ پیدا کر دیا۔

 یہ تحریکیں اگر اسلام کے سوا کسی اور نام پر اٹھتیں تو ان کی نادانیوں کا الزام ان کے اپنے سر جاتا۔ مگر اسلام کے نام پر اٹھنے کی وجہ سے ان کی ہر چیز اسلام کی طرف منسوب ہوگئی۔ وہ قومیں جو اسلام کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں وہ اپنے کو افضل پا کر اس نفسیات میں مبتلا ہوگئیں کہ ان کے پاس وہ چیز زیادہ بہتر طور پر موجود ہے جس کی اسلام دعوت دیتا ہے۔ ’’اسلامی نظام‘‘ اور’’نظام مصطفی‘‘ میں انسان کی آزادی کو کچلا جاتا ہے جب کہ ہمارے اپنے نظام میں انسان کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔ ان کے یہاں حرث و نسل کی ہلاکت کی قیمت پر حکومتیں بدلتی ہیں۔ ہمارے یہاں پرامن انتخابات سے۔ ان کے یہاں سیاسی اختلاف پر کوڑے لگتے ہیں اور ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں، ہمارے یہاں سیاسی اختلاف پر کوئی پابندی نہیں۔ ان کے یہاں کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے نہ گواہی شہادت کی ضرورت ہے اور نہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کی۔ جس کو چاہا پکڑا اور سرسری سماعت کے بعد گولی مار دی یا جیل میں بند کر دیا۔ ہمارے یہاں کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس پر باقاعدہ مقدمہ چلا کر قانونی طور پر اس کو مجرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ ان کے یہاں اختلاف کو آپس کی مار کاٹ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے، ہمارے یہاں آپس کا اختلاف پرامن ذرائع سے طے ہو جاتا ہے— مسلمان اپنی نالائقی کی بنا پر موجودہ دنیا میں دوسرے درجہ کی قوم بن چکے تھے، اب انہوں نے اسلام کی غلط نمائندگی کر کے اسلام کو بھی قوموں کی نظر میں دوسرے درجہ کا مذہب بنا دیا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion