ناکامی کاکیس
امن کی طاقت تشدّدکی طاقت سےزیادہ ہے۔مزیدیہ کہ امن دانش مندوں کاطریقہ ہے اور تشدّدنا دانوں کا طریقہ۔ ایسی حالت میں جب کوئی شخص تشدّدکرتاہےتووہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنےمقصدکےحصول کےلیے زیادہ طاقتور طریقہ استعمال کرنے میں ناکام رہا۔اسی طرح ایساآدمی اپنےمتشدّدانہ عمل سےیہ بھی ثابت کررہاہےکہ وہ اپنے مسئلہ کو حل کرنےکےمعاملہ میں ایک نادان آدمی ثابت ہوا،نہ کہ دانش مندآدمی۔
امن اورتشدّدسادہ طورپرصرف دوطریقےنہیں ہیں۔بلکہ وہ انسانیت کےدومختلف معیار ہیں۔ امن کاطریقہ اختیارکرنےوالاآدمی اپنی انسانیت کوبلند کرتا ہےاور تشدّد کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنے آپ کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سے نیچے گرا لیتا ہے۔
کوئی مسئلہ پیش آنے کےبعدجب ایک آدمی امن کاطریقہ اختیارکرتاہےتووہ اپنے اندر مثبت سوچ کوفروغ دیتاہے۔وہ اپنےاخلاقی معیار کو بلندکرتاہے۔وہ اپنی شخصیت کو بلندیوں کی طرف لےجاتاہے۔وہ اپنےانسان ہونےکی حیثیت کوعملی طورپر ثابت شدہ بناتا ہے۔ اس کےبرعکس جب ایک آدمی اپنےمسئلہ کےحل کےلیے تشدّد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تووہ اپنےآپ کوانسانیت کےنچلےدرجہ کی طرف لےجاتاہے۔وہ اپنےانسان ہونے کی حیثیت کوعملی طورپرمشتبہ بنارہاہے۔
امن اورتشدّددونوں کسی انسان کی اصل حیثیت کی پہچان ہیں۔ایک طریقہ اگر انسان کو انسان ثابت کرتاہےتودوسراطریقہ یہ ثابت کرتاہےکہ وہ ایک حیوان تھا،اگرچہ ظاہری طور پروہ ایک انسان دکھائی دےرہاتھا۔
