ہجرجمیل
قرآن کی سورہ نمبر73میں ایک حکم ان الفاظ میں آیاہے:وَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا (73:10)۔ اردومترجمین نےاس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں ان میں سےچندیہاں نقل کیےجاتےہیں:
1۔ اورسہتارہ جوکہتےرہیں اورچھوڑان کوبھلی طرح کاچھوڑنا(شاہ عبدالقادر)
2۔ اوریہ لوگ جوباتیں کرتےہیں ان پرصبرکرواورخوبصورتی کےساتھ ان سےالگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)
3۔ اوریہ لوگ جوکچھ کہتےہیں اس پرصبرکرواوران کوخوبصورتی سے نظر انداز کر۔ (امین احسن اصلاحی)
اس آیت کاانگریزی زبان میں ترجمہ کیاجائےتووہ اس طرح ہوگا۔
Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner.
قرآن کی آیت مکی دورمیں اتری۔اسوقت مکہ میں مشرکین کاغلبہ تھا۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے ان کےآبائی دین سےانحراف کیاہے۔اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانےلگے۔ انہوں نےآپ کواورآپ کےساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اتری۔اس میں خداکی طرف سے حکم دیاگیاکہ تم لوگ صبرکرواورہجرجمیل کاطریقہ اختیارکرو۔
ہجرجمیل کےلفظی معنی ہیں۔خوبصورتی کےساتھ چھوڑنا۔اس کامطلب یہ ہےکہ ان ستانےوالوں کےساتھ حسن اعراض کاطریقہ اختیارکرو۔ان کےمعاملے میں تمہاراطریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیےبلکہ مثبت ردعمل کاطریقہ ہونا چاہیے۔تم کوچاہیےکہ ان کے معاملےمیں درگزرکرواورانکےبرےاندازکےمقابلے میں تم ان کےساتھ اچھااندازاختیار کرو۔
مفسرین نےعام طورپرلکھاہےکہ صبراورہجرجمیل کایہ حکم آیات قتال کےنزول کے بعد منسوخ ہوگیا۔مگریہ ایک غلط تفسیرہے۔ہجرجمیل(حسن اعراض)کوئی مجبوری کافعل نہیں ہے، یہ اہل ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی رد عمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے۔ اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے۔ تاکہ اس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کےجذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تاکہ اس کے اندر محبت الٰہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیرسے۔
ہجرجمیل(حسن اعراض)بظاہردوسرےکےمقابلے میں ہوتاہےمگراس کاتعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حدتک یہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اس کےاندر نقصان (erosion) نہ ہونے پائے۔
قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی، انسان کے دل میں بیک وقت دومتضادنفسیات پرورش نہیں پاسکتیں۔ جو دل انسان سے نفرت کرے،عین اسی وقت وہ خداسےمحبت نہیں کرسکتا۔جس دل کے اندرانسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خداکےشکرسےسرشارنہیں ہوسکتا۔جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کاجنگل بناہواہووہ خداسےطلب عفوکی لذت کاتجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہاہووہ خدائےرحمن اوررحیم کی یادوں کاتجربہ نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایساکوئی موقع پیش آتاہےتومومن کہہ اٹھتا ہےکہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملے کی مزیدوضاحت کےلیے رسول اوراصحاب رسول کی زندگی سے اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
1۔ ابن اسحق کی روایت ہےکہ مکہ کےقریش رسول اللہﷺکی ہجو کرتے تھے اور سب وشتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کےبجائےوہ آپ کومذمّم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا:
أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن هشام، جلد 2، صفحہ6)۔ یعنی، کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سےکس طرح بچالیا، وہ سب وشتم کرتےہیں اورمذمّم کہہ کرہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد ہوں۔
پیغمبراسلام کے اس قول کواس طرح سمجھاجاسکتاہےکہ مثلاًقریش اگریہ کہیں کہ —’’مذمّم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا برا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمّم ہو،میرانام تومحمدہے۔یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کاتحمل نہیں کرسکتا۔
اس طرح کےحسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹرذاکرحسین کےیہاں پائی جاتی ہے۔ ایک باروہ دہلی کی ایک سڑک پراپنی گاڑی چلارہےتھے،اتفاق سےان کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سےمعمولی طورپرٹکراگئی۔ان کی گاڑی میں رگڑ(dent)آگیا۔ اس آدمی نےذاکرصاحب کی طرف روک کراترا۔ذاکرصاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اترگئے۔ اس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ(idiot)۔ اس انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سےکہا:
Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.
جناب، میں مسٹرایڈیٹ نہیں ہوں۔میں ذاکرحسین ہوں۔یہ سن کراس آدمی کاغصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری (sorry) کہہ کروہ خاموشی کےساتھ اپنی گاڑی پربیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
2۔ہجرت کےبعدحدیبیہ کاواقعہ پیش آیا۔مکہ کےسرداروں نے رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کومکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کےوقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدّد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے۔ اصحاب رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا ان کو بظاہر ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ— قریش آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضروراس پر راضی ہوجاؤں گا (سیرت ابن ہشام، جلد3، صفحہ358)۔ دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک گوارا معاملہ بنالیا۔
رسول اللہﷺکایہ قول ہجرجمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔قدیم عربوں کےنزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدرسمجھی جاتی تھی۔اورقطع رحمی کووہ بہت براسمجھتےتھے۔اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبارحقیقت رسول اللہ یہ کہناچاہتےتھےکہ ہرقیمت پرقریش سےصلح کر لوں گا۔اس بات کوکہنےکےباعزت طریقہ کےطورپرآپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سےصلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گابشرطیکہ اس میں قطع رحم نہ پایاجاتاہو۔حالاں کہ پیشگی طورپریہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔
3۔رسول اللہﷺمکہ سےہجرت کرکےمدینہ آئےتوجلدہی یہاں کےباشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اس وقت مدینہ میں ایک شخص تھاجس کانام عبداللہ بن ابی تھا۔وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگرچہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا مگر اس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف حسد کا جذبہ تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شرانگیز باتیں کیا کرتا تھا۔
رسول اللہﷺ نےاس معاملہ کاذکرمدینہ کےایک مسلمان اسیدبن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کاجواب دیتےہوئے کہا:يَا رَسُولَ اللهِ، ارْفُقْ بِهِ، فو الله لَقَدْ جَاءَنَا اللهُ بِكَ، وَإِنَّ قَوْمَهُ لَيَنْظِمُونَ لَهُ الْخَرَزَ لِيُتَوِّجُوهُ، فَإِنَّهُ لَيَرَى أَنَّكَ قَدْ اسْتَلَبْتَهُ مُلْكًا (سیرت ابن ہشام، جلد3، صفحہ336)۔ یعنی،اےخداکےرسول،اس کےساتھ نرمی کامعاملہ کیجیے، خدا کی قسم،اللہ آپ کوہمارےپاس لےآیااوراس کی قوم کےلوگ اس کےلیے تاج تیار کر رہے تھے تاکہ وہ اس کواپنابادشاہ بنائیں۔وہ محسوس کرتاہےکہ آپ نےاس کامقام اس سے چھین لیا ہے۔
یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شرانگیزی کاجواب سختی کےساتھ دیا جاتا۔صحابی نےگویااپنےجواب میں یہ بتایاکہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔حسن اعراض ہی اس مسئلہ کوختم کرنےکےلیے کافی ہے۔
4۔اوپرہجرجمیل کی وہ مثالیں ہیں جوسطورمیں ہوتی ہیں۔اب ایک بین السطورکی مثال لیجیے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کاطریقہ اختیارکیاجائےتواس میں ایک اوربات پوشیدہ ہوتی ہےجواگرچہ زبان سےبولی نہیں جاتی مگروہ حقیقی مطلوب کےطورپراس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔
حدیبیہ کےمقام پررسول اللہﷺ نےدوہفتہ قیام فرمایا۔اس دور ان قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔مثلاًایک صحابی کوتنہاپاکرانہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔
اس طرح کی اشتعال انگیزصورت حال کےباوجودرسول اللہﷺنےقریش سےدس سال کا امن معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمرپرسخت ناگوار تھیں۔وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا:
يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ برَسُول الله قَالَ: بلَى
قَالَ:أَو لسنا بِالْمُسْلِمين؟ قَالَ:بلَى
قَالَ أَو لَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ:بَلَى
قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر،جلد 3، صفحہ 320)۔
یعنی اےابوبکر،کیامحمداللہ کےرسول نہیں،انہوں نےکہاہاں۔عمرنےکہاکہ کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نےکہاکہ ہاں۔عمرنےکہاکہ کیاوہ مشرک نہیں،انہوں نےکہاکہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ ﷺ سے بھی کہی۔
یہاں غورطلب امریہ ہےکہ رسول اللہﷺنےقریش کی زیادتیوں کےباوجودان کی یک طرفہ شرطوں پردس سال کا جوامن معاہدہ کیاتھا،وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بناپرتھا۔اوروہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سےمعاہدۂ امن کرکے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تاکہ اسلامی دعوت کاعمل مؤثرطورپر جاری ہوسکے۔مگریہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندرلکھی گئی اورنہ حضرت عمراور دوسرےصحابہ کی شدیدناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔
یہ ہجرجمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پاناممکن نہیں۔ اگر اس کولفظوں میں لکھایا بولا جائے تواس کی ساری معنویت ختم ہوجائےگی۔
ایسی حالت میں لوگوں کےلیے صرف دومیں سےایک رویہ درست ہے۔یاتووہ اتنا زیادہ ہوش مندہوں کہ سطورکےاندربین السطورکوپڑھ لیں۔وہ اعلان کےبغیراس کی اہمیت کو دریافت کرلیں۔ جن لوگوں کےاندراتنی ہوش مندی نہیں ہےان کےلیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنےلیڈرکی بصیرت پراعتمادکریں۔وہ صرف اعتماداورحسن ظن کی بناپر یہ عقیدہ رکھیں کہ ان کے رہنمانے جو بات کہی ہےاس کےپیچھےضرورکوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرناہے،نہ کہ اس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔
5۔صلح حدیبیہ بظاہرایک ایسی صلح تھی جودشمن کےمقابلے میں دب کرکی گئی۔ مگراس کےاندرایک غیراعلان شدہ مقصد چھپاہواتھااوروہ تھاٹکراؤکوایوائڈکرکےاپنےلیے وقفۂ تعمیرحاصل کرنا۔اگریہ بات معاہدہ کےمتن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان اسی وقت اس کااعلان کردیتےتوصلح کےمقاصدسرےسےفوت ہو جاتے۔اس قسم کےمقاصدہمیشہ اعلان کےبغیرہوتےہیں،نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔یہاں تک کہ بعدکوجب اس کاعملی نتیجہ ظاہر ہوگیا،اس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔
یہی وہ حقیقت ہےجوحضرت ابوبکرصدیق نےبعدکےزمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی:مَا كَانَ فَتْحٌ أَعْظَمَ فِي الْإِسْلَامِ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ قَصُرَ رَأْيُهُمْ عَمَّا كَانَ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَرَبِّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ وَاللهُ لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتَّى يُبَلِّغَ الْأُمُورَ مَا أَرَادَ (مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ610)۔ یعنی، اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سےبڑی فتح تھی۔لیکن معاہدہ کےدن لوگوں کواس بات میں رائے قاغم کرنےمیں کوتاہی ہوئی جومحمد اورآپ کےرب کےدرمیان تھا۔انسان عجلت پسند ہےاوراللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔یہاں تک کہ امورکو وہاں تک پہنچادےجووہ چاہتاہے۔
6۔ ہجرجمیل(حسن اعراض)سادہ طورپرمحض ایک بچاؤکی تدبیرنہیں،بلکہ وہ بامقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔بامقصدانسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنااس کاسب سےبڑاکنسرن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستے کے ہر الجھاؤ سے اپنے آپ کودوررکھتاہےتاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیراپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔
جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت زیادہ ستایا تھا۔ آپ پراور آپ کےساتھیوں پراتنازیادہ تشدّدکیاکہ آپ کواپنےساتھیوں کےہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترک وطن کےبعدبھی وہ آپ کےخلاف مسلسل جارحیت کرتےرہے۔
آخرکار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبر اسلام اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھاکہ ماضی کے ظلم کی انہیں سزادی جائے۔ عام رواج کے مطابق، ان کو قتل کر دینا عین جائز تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کے ساتھ ہجرجمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھاکہ تم کیاسمجھتےہوکہ میں تمہارےساتھ کیاسلوک کروں گا۔انہوں نے کہاکہ۔ اخ کریم وابن اخ کریم۔ (آپ شریف بھائی ہیں اورشریف بھائی کےبیٹےہیں)۔
پیغمبراسلام نےاس کےبعدفرمایاکہ ٹھیک ہے۔میں تمہارےبارہ میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نےاپنےبھائیوں کے بارےمیں کہا:لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:92)۔ یعنی ، آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں یہ کہہ کرآپ نےفرمایاکہ۔جاؤ تم سب لوگ آزادہو۔ اس طرح آپ نےان تمام لوگوں کوآزادکردیاجواس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔
پیغمبراسلام کایہ عمل ایک بامقصدانسان کےعمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کوبتوں سےپاک کریں۔مکہ کے لوگوں کوشرک سے نکال کر انہیں خدائےواحدکاپرستاربنائیں۔اپنےدشمن انسان کودوست انسان میں تبدیل کرکے توجیہ کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں، جس کےلیے آپ کومبعوث کیاگیاتھا۔
پیغمبر اسلام کے یک طرفہ حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہواکہ مکہ کےتمام لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔راوی کہتےہیں کہ— فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (شرح معانی الآثار للطحاوی، حدیث نمبر 5454)۔ یعنی، پھروہ لوگ وہاں سےاس طرح نکلےجیسےکہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اوروہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
پیغمبراسلام اگراس کےبرعکس ان دشمنوں سےان کی ظالمانہ روش کاانتقام لیتےتواس کےبعدیہ ہوتاکہ وہاں انتقام درانتقام کادورچل پڑتا۔ایک انتقام کےبعددوسراانتقام شروع ہوجاتااورپھرحالات ایسامنفی رخ اختیارکرلیتےکہ ساراتعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔
