فتوحات کا راز

یورپ کے ملک اسپین اور افریقہ کے ملک مراکو کے درمیان ایک سمندری پٹی ہے جس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف8 میل ہے۔ یہاں اسپین کی جانب دو ساحلی مقامات کے نام یہ ہیں: طریفہ(Tarifa) اور جبرالٹر(Gibraltar)۔ یہ دونوں اسپینی شہر دو مسلم سرداروں کے نام پر ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام طریف اور دوسرے کا نام طارق تھا۔ یہ دونوں مسلم سردار 711ء(92ھ) میں مراکو(مراکش) کے راستے سے کشتیوں کے ذریعے اسپین میں داخل ہوئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اسپین میں شاہ لرزیق(King Riderick)کی حکومت تھی۔ بادشاہ کے مظالم سے بگڑ کر خود اسپین کے لوگوں نے مسلمانوں کو اسپین پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ مسلمانوں کی فوج جو ابتداً اسپین میں داخل ہوئی اس کے ساتھ ایک اسپینی سردار کاؤنٹ جولین(count julian)بھی شامل تھا اور مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔

 انسائیکلو پیڈیا برنانیکا(1984) کے مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ: اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ لوگوں کی دعوت کا نتیجہ تھا ، نہ کہ مسلمانوں کا اپنا اقدام:

But the Muslim invasion of Spain was the result of Visgoth invitation rather than Muslim initiative (Vol. 17, p. 414).

اسپین کے لوگ بادشاہ کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اسپینی باشندوں نے تعجب خیز طور پر طارق ابن زیاد کی رضا کارانہ اطاعت قبول کر لی۔

Much to his surprise, many Spaniards submitted to him voluntarily (Encyclopedia Britannica, Vol. 17, p. 414).

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں کی فتح نے اسپینی سماج کے بہت سے عناصر کو فائدہ پہنچایا۔ ٹیکسوں کا بوجھ مجموعی طور پر اس سے کم سخت ہوگیا جو گاتھ عہد کے آخری برسوں میں اسپین میں تھا۔ غلام مزدور جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ان کو آزاد حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہود اب ستائے نہیں جا رہے تھے اور انہیں اب دوسرے اسپینی فرقوں کے برابر کا درجہ حاصل تھا۔ اس طرح آٹھویں صدی کے نصف اول میں اسپین میں ایک نیا اور بالکل مختلف سماج پیدا ہوگیا۔

The Muslim conquest brought advantages to many elements of society: the burden of taxes was on the whole less onerous than it had been in the last years of the Visigoth epoch; serfs who converted to Islam advanced into the category of freedom; jews were no longer persecuted and were placed on an equal footing with the Hispano-Romans and Goths. Thus, in the first half of the 8th century, there was born a new quite different society in Muslim Spain (Encyclopedia Britannica, Vol. 17, p. 414).

یہاں جو بات اسپین کے مسلم عہد کے بارے میں کہی گئی ہے وہی مسلمانوں کی دوسری فتوحات کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں مسلمان جس طرح دنیا کے بڑے حصہ پر چھا گئے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ ممالک اپنے ملکی حکمرانوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ وہ کسی نئے نجات دہندہ کے انتظار میں تھے۔ چنانچہ انہوں نے ہر جگہ مسلمانوں کو خوش آمدید کہا۔ بادشاہوں سے ضرور مسلمانوں کی لڑائیاں ہوئیں مگر ان ملکوں کے عوام کے دل اکثر مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ تھے انہوں نے نہایت آسانی سے ہر جگہ مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی۔

اسپین کا آٹھ سو سالہ مسلم عہد تہذیب کی تاریخ میں انتہائی شاندار عہد تھا۔ مسلمانوں نے اس دور میں ہر اعتبار سے اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔ کسی عیسائی پر کبھی مذہب کی بنیاد پر ظلم نہیں کیا گیا۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، اسلام کی خوبیوں سے آگاہ ہو کر آزادانہ طور پر کیا۔ انصاف کا حال یہ تھا کہ سلطان عبدالرحمٰن ثانی پر ایک عیسائی نے قاضی کے یہاں دعویٰ دائر کیا اور سلطان کو ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں جانا پڑا۔

 مسلمانوں نے تمام ملک میں سڑکوں اور نہروں کا جال بچھا دیا۔ جگہ جگہ پل بنائے گئے۔ تعلیم، تعمیر معدنیات، زراعت، باغبانی، جہاز رانی، صنعت، غرض کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں انہوں نے اسپین کو غیر معمولی ترقی نہ دی ہو۔

مگر تعصب اندھا ہوتا ہے، مسیحی لوگ تعصب کی بنا پر مسلمانوں کے دشمن ہوگئے۔ اس کی قیمت انہیں یہ دینی پڑی کہ اسپین پھر دوبارہ ترقی نہ کر سکا۔ مسلمانوں کی تاریخ ختم کرنے کی کوشش میں ان کی اپنی تاریخ بھی ختم ہوگئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion