سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد
محرم4ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ خود اپنی طرف سے جنگی اقدام کا نہ تھا۔البتہ جب آپ کو خبر ملتی کہ فریق مخالف حملہ کرنے والا ہے تو آپ فوراً اس کی طرف اقدام فرماتے تھے۔اس طرح کی جن مہموں میں آپ خود شریک رہے ان کو غزوہ کہا جاتا ہے اور جو مہیمیں کسی صحابی کی سرداری میں بھیجی گئیں ان کو اصطلاحی طور پر سریہ کہا جاتا ہے۔
یکم محرم الحرام4ھ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ خویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کر رہے ہیں۔ تو آپ نے ابو سلمہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ڈیڑھ سو مہاجرین اور انصار کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا۔ وہ لوگ اس کی خبر پاتے ہی بھاگ گئے۔
طلیحہ بن خویلد نے بعدکو اسلام قبول کر لیا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ کے لیے خالد بن ولید کو روانہ کیا۔ طلیحہ بھاگ کر شام چلے گئے، اور تائب ہو کر پھر اسلام میں داخل ہوئے۔ اور مسلمانوں کے ساتھ برابر لڑائیوں میں شریک رہے۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ اور معرکہ نہاوند میں بھی شریک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ21ھ میں معرکہ نہاوند میں شہید ہوئے۔ طلیحہ کے دوسرے بھائی سلمہ مسلمان نہیں ہوئے۔
