غلط سوچ کا نقصان
1930میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔علامہ اقبال اس وقت لاہور میں رہتے تھے۔ وہ الہ آباد آئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔اقبال نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے اس لیے ہندستان جب آزاد ہو تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقہ میں ان کا علٰیحدہمسلم لینڈ بنایا جائے۔ یہ تجویز بعد کو پاکستان کے نام سے مسلمانوں میں مقبول ہوئی۔ یہاں تک کہ 1947 میں برصغیر ہند سے الگ ایک مسلم علاقہ پاکستان کے نام سے وجود میں آگیا۔
علیٰحدہ مسلم خطہ کا یہ تصور دوسرے مسلم مفکرین نے بھی اختیار کرلیا۔ اور اس تصور پر مبنی بہت سی تحریکیں دنیا کے مختلف حصوں میں وجود میں آگئیں۔ ان تحریکوں کو ایک لفظ میں پاکستانا ئزیشن(Pakistanization)کہا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ جس ملک میں بھی کوئی ایسا سرحدی خطہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں پاکستانائزیشن کی یہ تحریک شدت کے ساتھ ابھر آئی۔ ہر جگہ ایسے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی پر جوش تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں علیحدگی پر مبنی جذباتی سیاست کو فروغ دیا۔اس سلسلہ میں مثال کے طور پر برما ،فلپائن، بوسینیا، چین،یو گو سلاویا، وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
یہ علاقائی مسلم لیڈر اپنے پاکستانائزیشن کے خیالی تصور میں دیوانگی کی حد تک پرجوش تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تفریقی سیاست کی تحریک کو پُرامن طریقہ کار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو مسلح جدوجہد(armed struggle) کے دائرہ کی خونین حد تک پہنچا دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ پرتشدّد تحریکیں ہر جگہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔
پاکستانائزیشن کی یہ تباہ کن تحریک کیوں کر ساری مسلم دنیا میں مقبول ہوگئی۔ اس کا سبب اس دور کے مسلم رہنماؤں کی ایک خلاف زمانہ سوچ (anachronistic thinking) تھی۔ وہ زمانہ کی نئی تبدیلیوں کو سمجھ نہ سکے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک ہوکر گلوبلائزیشن(Globalization)کےدورمیں داخل ہو رہی تھی،عین اسی زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے زمانہ سے اپنی بے خبری کے نتیجہ میں پاکستانائزیشن کی صورت میں برعکس تحریکیں چلا دیں۔یہ تحریکیں زمانی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی تھیں۔ اس لیے اس قسم کی تحریکوں کا وہی منفی انجام ہوا جو اوّل دن سے ان کے لیے مقدر تھا۔
جدید زمانی تبدیلیوں نے پچھلے ہر دور سے زیادہ با ہمی اختلاط(interaction)کی اہمیت بڑھا دی تھی۔مگر مسلم لیڈر انتہائی نادانی کے ساتھ اس کے سراسر برعکس اپنی تحریکیں چلارہے تھے۔تاریخی تجربات آخری طور پر ثابت کر چکے تھے کہ ترقی کا لازمی ذریعہ چیلنج اور مسابقت (competition)ہے۔مگر یہ مسلم لیڈر نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنانے میں مشغول تھے جہاں ان کے لیے نہ چیلنج ہو اور نہ مسابقت کا ماحول۔ جدید تبدیلیوں نے ترقی کے جو اعلیٰ مواقع کھولے تھے ان سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وسیع مشترک عمل سے ہی بڑی ترقیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔مگر یہ مسلم لیڈر مسلمانوں کے لیے ایسا سیاسی جزیرہ بنانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے تھے جہاں وہ مشترک کثیر بین الاقوامی تعاون سےمحروم ہو گئے ہوں۔
جدید کمیونیکیشن نے جغرافی علیٰحدگی کے تصور کو سراسر غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔مگر یہ مسلم لیڈر اس تبدیلی سے بے خبر ہوکر مضحکہ خیز حد تک بے فائدہ تحریکوں میں اپنا وقت اور مال ضائع کرتے رہے۔زمانہ نے آزادی اور جمہوریت کی صورت میں ایک عظیم امکان کھولا تھا جو شخصی حکومت کے بجائے عمومی اشتراک طاقت ( power sharing)کے اصول پر قائم تھا۔مگر ان مسلم لیڈروں نے نہ اس امکان کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوسکے۔
جدید تبدیلیوں نے ایک نیا موافق امکان کھولا تھا جس کو اداراتی دور (age of institution)کہا جا سکتا ہے۔ قدیم شاہی زمانہ کے برعکس، اب حکومت صرف ایک منتظمہ (administration) کے محدود سیاسی دائرہ میں سمٹ آئی تھی۔اس کے سوا ہزاروں نئے شعبے ایسے پیدا ہوگئے تھے جن میں ادارے (institution) قائم کرکے حکومتی رتبہ سے بھی بڑا رتبہ حاصل کیا جا سکتا تھا، مثلاً تعلیم، اقتصادیات، میڈیا وغیرہ وغیرہ۔مگر یہ مسلم لیڈر شعوری طور پر اس جدید امکان سے باخبر ہی نہ تھے پھر وہ اس کو استعمال کس طرح کرتے۔
