انسان کی کہانی
پبلی لیس سائرس (Publilius Syrus) پہلی صدی قبل مسیح کا ایک رومی مصنف ہے۔ اس کی تحریریں لاتینی زبان میں ہیں۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے:
A good opportunity is seldom presented, and easily lost.
یعنی ایک اچھا موقع مشکل سے آتا ہے اور وہ بہت آسانی سے چلا جاتا ہے۔
لاتینی مصنف نے یہ بات دنیا کے اعتبار سے کہی ہے۔ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے قیمتی مواقع ہر وقت موجود نہیں رہتے ۔ وہ کبھی کبھی سامنے آتے ہیں مگر اکثر لوگ اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ ہر وقت اس کو استعمال نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ موقع نکل جاتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے حصہ میں جو چیز باقی رہتی ہے وہ صرف یہ افسوس ہوتا ہے کہ کیسا قیمتی موقع میں نے کتنی نادانی سے کھو دیا۔
یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کا ہے۔ آخرت کے لیے کچھ کرنے کا موقع ہر آدمی کو ملتا ہے۔مگر یہ موقع کسی آدمی کو صرف ایک بار ملتا ہے۔ پھر یہ موقع اچانک آدمی کی موت پر ختم ہو جاتا ہے موت کے بعد جب آدمی کی آنکھ کھلتی ہے تو اس کو سخت جھٹکا لگتا ہے۔ اب یہ ابدی افسوس اس کا مقدر بن جاتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کو کمانے کا کتنا قیمتی موقع اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا اور میں نے کتنی غفلت میں اسے کھو دیا۔
دنیا میں ہر آدمی کو یکساں مواقع دیے گئے ہیں مگر آخرت میں کسی آدمی کا کیس ضائع شدہ ( missed opportunities) کاکیس ہو گا اور کسی آدمی کا کیس استعمال شدہ مواقع (availed opportunities) کا کیس ۔ یہی چند الفاظ میں ہر ایک کی کہانی ہے۔
یہ صورت حال دنیا میں زندگی کے معاملے کو بے حد نازک بنا دیتی ہے۔ کیونکہ دنیا کے اعتبار سے تو ایک موقع کھونے کے بعد دوسرا موقع ملنے کا بھی امکان رہتا ہے۔ مگر آخرت کا موقع ایک بار ملنے کے بعد دوسری بار ملنے والا نہیں۔ یہاں جو شخص ایک بار کامیاب ہوا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہو گیا اور جو ایک بار نا کام ہوا وہ ہمیشہ کے لیے نا کام رہ گیا۔
