دور صحابہ کے طرز کے مدرسے

تعلیمات اسلامی کا ایک ادارہ قائم کرنے کی ضرورت

سر آرتھر کیتھ (1866-1955) نے مصرکی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’مصر کومسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا ‘‘۔

The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. (Sir Arthur, A New theory of Human Evolution, London, p,303)

یہ یہی بات ایشیا اور افریقہ کے اس پورے خطہ کے لیے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ہو ا کہ یہ ساری قو میں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو جائیں ۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دورِ اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے ۔ انہوں نے اپنی اسلامی مہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کیے۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی تھی اور قرآن وحدیث پڑھایا جاتا تھا۔ ان مدرسوں سے جولوگ پڑھ کر نکلتے، وہ اپنی اپنی بستیوں میں جاکر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے۔ مدرسوں کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔

قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعے اپنے بندوں سے کلام کیا ہے۔ وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے ، وہ دلوں کو گرماتا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلیٰ مضامین اور اس کاا ٓسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسولﷺ کی زندگی اور آپ کے اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرمانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ دورِ اول کے مدرسے میں انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے۔ وہ سادہ طور پر عربی زبان سکھا کر آدمی کو قرآن و حدیث سے وابستہ کر دیتے تھے۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے لگتا تھا۔ علم دین اس کے لیے صحبت رسولﷺ اور صحبت صحابہ کے ہم معنی بن جاتا تھا ۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جو خدا کے لیے جینے اور خدا کے لیے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔

آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدر سے قائم ہیں۔ مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہو رہا ہے، جو دورِ اول میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کیے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ قرآن اس لیے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل خدا کی یاد سے دہل اٹھیں (الانفال، 8:2)۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام حاصل ہے۔احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدارس میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جا سکیں۔ اسی کے ساتھ ’’ علوم آلیہ‘‘ کے نام پر جوفنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہیے۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے اپنے بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لیے وقف رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا اور آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دورِ اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔

ضرورت ہے کہ دوبارہ دورِ اول کے طرز کے مدر سے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح امت کا کام کیا جائے۔ ان مدارس کا نصاب بالکل سادہ اور غیرفنی ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم اس کو چار مرحلوں تقسیم کر سکتے ہیں :

  • پہلا مرحلہ:عربی زبان اور قرآن
  • دوسرا مرحلہ:حدیث ، سیرت رسول، ؐحالات صحابہؓ ،اسلامی تاریخ، وغیرہ (عربی زبان میں)
  • تیسرا مرحلہ:عالمی زبانیں، دیگر مذاہب اور ان کی تاریخ، فلسفہ جدید اور ضروری سائنسی معلومات
  • چوتھا مرحلہ:اختصاصی مطالعہ کسی ایک اسلامی موضوع پر (عربی میں ایک مقالہ تیار کرنا)۔

 اس قسم کا ایک مدرسہ اعلی معیار پر قائم ہو جائے تو بلاشبہ وہ دور جدید کا سب سے بڑا کام ہوگا۔ (الرسالہ، اکتوبر 1976)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion