عورت كي رضا مندي

ایک سے زیادہ نکاح کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ تعداد میں  موجود ہوں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مطلوب ہے وہ خود بھی اپنی آزاد انہ مرضی سے اس قسم کے نکاح کے لیے پوری طرح راضی ہو۔ اسلام میں  عورت کی رضا مندی مسلّمہ طور پر نکاح کے لیے شرط ہے۔ کسی عورت سے زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں۔ اسلام کی نمائندہ تاریخ میں  کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جب کہ کسی مرد کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں  لے آئے۔

حدیث میں  آیا ہے کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے:لَا تُنْكَحُ ‌الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ (صحيح البخاری،حديث نمبر6567؛ صحيح مسلم،حديث نمبر1419)۔

 حضرت عبداﷲ بن عباس کہتے ہیں کہ ایک لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کردیا ہے۔ آپ نے اس کو اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو اس کو توڑدے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ‌كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (سنن ابوداؤ د،حديث نمبر2096)۔

عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ ،أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبَّاسٍ: يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَوْ رَاجَعْتِهِ. قَالَتْ:يَا رَسُولَ اللهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، قَالَتْ:لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ (صحیح البخاری،حديث نمبر5283)۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اس کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں  مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کے راستوں میں  بَریرہ کے پیچھے چل رہا ہے۔ وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی تک بہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس سے کہا کہ اے عباس، کیا تم کو بریرہ کے ساتھ مغیث کی محبت اور مغیث کے ساتھ بریرہ کی نفرت پر تعجب نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ کاش تم اس کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ کیا آپ مجھ کو اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے کہا:مجھے اس کی حاجت نہیں۔

تعد د ازواج کا ایک واقعہ ہے جو حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں  پیش آیا۔ ایک بیوہ خاتون ام ابان بن عتبہ کو چار مسلمانوںکی طرف سے نکاح کا پیغام ملاجو سب کے سب شادی شدہ تھے۔ ان چار حضرات کے نام یہ ہیں۔ عمر بن الخطاب ، علی بن ابی طالب ، زبیراور طلحہ۔ ام ابان نے طلحہ کا پیغام قبول کر لیا اور بقیہ تینوں کے لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ام ابان کا نکاح طلحہ سے کردیا گیا۔

یہ واقعہ مدینہ (اسلامی دار السلطنت ) میں  ہوا۔ جن لوگوں کے پیغام کو رد کیا گیا، ان میں  وقت کے امیر المومنین کا نام بھی شامل تھا۔ مگر اس پر کسی نے تعجب یا بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ اور نہ اس بنا پر وہاں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں  عورت کو اپنے بارے میں  فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ عورت کا ایک ایسا حق ہے جس کو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا، حتیٰ کہ وقت کا حکمراں بھی نہیں۔

ان احکام اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں  چار کی حد تک نکاح کرنے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مرد چار عورتوں کو پکڑکر اپنے گھر میں  بند کرلے۔ یہ دوطرفہ رضامندی کا معاملہ ہے۔ وہی عورت کسی شادی شدہ مرد کے نکاح میں  لائی جاسکتی ہے جو خود اس کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر بلااِکراہ راضی ہو۔ اور جب یہ معا ملہ تمام تر عورت کی رضا مندی سے انجام پاتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق۔ موجودہ زمانے میں  آزادی انتخاب(freedom of choice) کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلامی قانون میں  یہ قدرپوری طرح موجود ہے۔ البتہ ’’ مساواتِ نسواں‘‘ کے علَم بردار آزادیِ انتخاب کے ہم معنی بنا دینا چاہتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion