آپ کا بائیکاٹ

جب قریش کو معلوم ہوا کہ کچھ مسلمان مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے ہیں تو مکہ کے باقی ماندہ مسلمانوں پر انہوں نے اپنا غصہ اتارنا شروع کیا۔ مسلمانوں کے مخالفین کا سردار ابو جہل تھا۔ اب جو مسلمان مکہ کے معزز لوگوں میں سے ہوتا تو وہ اس سے کہتا کہ تم کوشرم نہیں آتی کہ تم نے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دیا۔ اور اگر مسلمان سوداگر ہوتا تو وہ اس کو ڈراتا کہ اب اس شہر کا کوئی شخص تم سے خرید و فروخت نہیں کرے گا اور کسی کے ذ مہ تمہارے پیسے ہوں تو وہ تم کو ادا نہیں کرے گا۔ اگر وہ عوام میں سے ہوتا تو ابوجہل اس کو کوڑے مارتا اور ذلیل کرنے کی کوشش کرتا۔

قریش نے کوشش کی کہ حبش کا بادشاہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دے مگر اس میں انہیں کامیابی نہ ہوئی۔مسلمانوں پر سختیاں کر کے انہیں ان کے دین سے پھیر نے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے چاہا کہ حضرت محمد کا قبیلہ بنو ہاشم، آپ کی حمایت سے دست بردار ہوجائے توہ آپ کوقتل کر دیں۔ مگربنو ہاشم کی عرب غیرت اس پر آمادہ نہ ہو سکی کہ وہ آپ کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کر دیں اور قریش کے لیڈ رآپ کو بے دردی کے ساتھ قتل کر د یں۔آخر انہوں نے 616ء میں آپ کے خاندان ( بنو ہاشم کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کعبہ کی دیوار پر ایک صحیفہ لگا دیا۔ یہ گویا ایک سرکاری فرمان تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا:

1۔     مکہ کے کسی باشند ہ کواجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان مرد یا عورت سے گفتگوکرے۔

2۔      مکہ کاکوئی باشند ہ کسی مسلمان کے بدن کو نہ چھوئے ( مصافحہ نہ کرے)۔

3۔     مکہ کا کوئی باشندہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز کسی مسلمان سے خریدے یا اس کے ہاتھ فروخت کرے۔

4۔     مکہ کے کسی باشندہ کواجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان لڑکی سے نکاح کرے یا کسی مسلمان کے نکاح میں اپنی لڑکی دے۔

5۔     جس شخص پرکسی مسلمان کا قرض ہے ، وہ اس کی ادائیگی سے آزاد ہے۔

6۔     یہ فرمان اس وقت تک باقی رہے گا جب تک محمد اپنے مذہب کونہیں چھوڑیں گے۔ یا ہاشم کا قبیلہ ان کی حمایت چھوڑ دے تا کہ قریش انہیں قتل کرسکیں۔

اس معاہدہ کا مضمون منصور بن عکر مہ نے لکھا اور اس کوموم جامہ میں لپیٹ کر خانہ کعبہ کے اندرونی حصہ میں آویزاں کر دیا گیا۔ اس طرح 616ء میں حضرت محمد اور تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس وقت بھی قبیلہ بنو ہاشم نے آپ کی حمایت نہ چھوڑی۔ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے نکل گئے۔ان میں آپ کے چچا ابوطالب بھی تھے جو آخر تک بت پرست رہے۔ ان لوگوں نے ایک پہاڑی درہ میں پناہ لی جوشعب ابی طالب کے نام سے مشہور تھا۔ آپ کے قبیلہ میں ابولہب واحد شخص تھا جو آپ کے ساتھ نہیں نکلا۔

 مکہ کے باہران پہاڑیوں پر درخت تو درکنار گھاس بھی نہ تھی۔ تمام سال وہاں ایک پرندہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ کیوں کہ پرندے وہیں جاتے ہیں جہاںسبزہ  اور چشمہ ہو۔ مسلمان مذکورہ صحیفہ کے مطابق، کھانے پینے کی کوئی چیز مکہ والوں سے خرید نہ سکتے تھے۔شعب ابی طالب کے راستہ سے کوئی قافلہ بھی گزرتا تھا کہ مسلمان ان سے کچھ خرید سکیں۔مسلمانوں نے وہاں ہولناک بھوک کو برداشت کیا۔ بچے بھوک سے بلبلاتے تو ان کے رونے کی آوازیں پہاڑی چٹانوں سے ٹکرا کر دور دور تک پہنچتیں۔

جو چیز بھوک سے نہ مرنے کا سبب ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر سال چار مہینے کے لیے لڑائی جھگڑے حرام سمجھے جاتے تھے۔ ان دنوں مسلمان شہر میں آ سکتے تھے اور اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کر سکتے تھے۔ زائرین کعبہ جن جانوروں کی قربانی کرتے ،یہ لوگ ان کی کھالیں جمع کر کے سکھا لیتے اور سال کے بقیہ مہینوں میں ان کھالوں کو ابال کر کھاتے۔ حضرت خد یجہ، جوکسی وقت مکہ کی مال دار ترین خاتون تھیں، حضرت محمد کے ساتھ اس گھاٹی میں زندگی بسر کر رہی تھیں ، حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے کچھ کھانا آپ کے لیے بھیجا۔ قریش کے لوگوں نے ، جو برابرنگرانی میں رہتے تھے، جب دیکھا تو کھانا چھین لیا اور اس شخص کوا تنامارا کہ کئی دن تک بستر سے اٹھ نہ سکا۔

 حضرت محمد اور آپ کے ساتھی اسی طرح تین سال تک گھاٹی میں پڑے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت خدیجہ کے گھر کاکُل اثاثہ صرف ایک پتیلی اور ایک کوزہ تھا۔ ایک دن کوزہ ٹوٹ گیا۔ جب آپ نیا کوزہ نہ خرید سکیں تو صبر کرلیا۔ یہاں تک کہ ایک کاریگر وہاں سے گز راتو حضرت خدیجہ نے اپناٹوٹا ہوا کوزہ اس کودیا کہ وہ اس کو جوڑ دے۔ اسی بھوک اورغربت کی حالت میں حضرت خدیجہ بیمار پڑگئیں اور بغیر کسی دوا علاج کے 619 میں ان کا انتقال ہو گیا جب کہ وہ شعب ابی طالب سے اپنے گھر واپس آ چکی تھیں۔ اُس وقت مسلمانوں کے پاس کفن کا کپڑا بھی نہ تھا۔ چنانچہ حضرت خدیجہ کوان کی چادر میں دفن کر دیا گیا۔ اس کے چند روز بعد آپ کے چاچا ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا۔ ابو طالب کے بھائی ابولہب کو لوگوں نے خبر دی کہ تمہارا بھائی مررہا ہے تو وہ وہاں گیا اور ابو طالب سے کہا کہ قسم کھاؤ کہ تم نے دین محمد کو قبول نہیں کیا اور تم اپنے باپ دادا کے مذ ہب پر مر رہے ہو۔ ابو طالب نے اقرار کیا کہ میں اپنے باپ دادا کے مذہب پر مر رہا ہوں۔

یہ مقاطعہ نہ صرف ایک جسمانی عذاب تھا بلکہ اس عرصہ میں مسلمانوں کی اقتصادیات بھی بالکل بربادہوگئیں۔ حضرت ابو بکر اور دوسرے تاجر مسلمانوں کا سارا کاروبار بالکل ٹھپ ہو گیا اور جمع شدہ دولت بھی ختم ہوگئی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس دوران بھی مکہ میں کچھ لوگ تھے جن کے ضمیر اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔مثلاًیہ واقعہ آتا ہے کہ حضرت خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام ایک روز اپنی پھوپھی کے لیے کچھ غلّہ لے کر اپنے غلام کے ساتھ شعب ابی طالب کی طرف چلے۔ راستہ میں ابوجہل مل گیا اور راستہ روک کر حکیم سے لڑنے لگا۔ اتفاقاً ابوالبختری اس طرف آ گیا۔ اس نے ابوجہل سے کہا کہ یہ شخص اپنی پھوپھی کے لیے کچھ لے جار ہا ہے ، تم کیوں اسے روکتے ہو۔ اب ابوجہل ابوالبختری سے بھی لڑ پڑا۔

 ابوالبختری غصہ ورآ دمی تھا۔ اس نے اونٹ کی ایک ہڈی اٹھا کر ابو جہل کے سر پر دے ماری۔

اس طرح کے اور بھی کچھ لوگ مکہ میں تھے جن کے ضمیر انہیں اس ظلم کے خلاف ملامت کرتے رہتے تھے۔ ہشام بن عمرو عامری نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے تحریک کی جرأت کی۔ اس نے اپنے چند دوستوں کو ہم خیال بنایا اور ان کو لے کر ایک روز خانہ کعبہ میں پہنچا جہاں سردارانِ قریش پہلے سے موجود تھے۔عبدالمطلب کے نواسے زہیر جو ہشام کے ساتھ آئے تھے،انہوں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سرداران مکہ سے کہا

اے اہل مکہ! یہ کیا انصاف ہے کہ ہم لوگ کھائیں پئیں اور خرید وفروخت کر یں اور ہمارے عزیز بنی ہاشم اور بنی مطلب بھوک سے دم توڑیں۔ خدا کی قسم ، اب میں اس معاہدہ کو چاک کیے بغیر نہ رہوں گا۔

’’ تم اس معاہدہ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔تم جھوٹے ہو ابوجہل نے چلا کر کہا۔

’’ جھوٹے تم ہو‘‘زمعہ بن اسود نے کہا’’جب یہ معاہدہ لکھا گیا ، اس وقت بھی تم نے ہماری رائے سے اس کونہیں لکھاتھا۔‘‘

ابو البختری  اورمطعم بن عدی نے بھی اس کی تائید کی۔ اس طرح وہ معاہدہ جو پہلے متفق علیہ سمجھا جا تا تھا، اہل مکہ کے درمیان نزاعی بن گیا۔ اسی درمیان ایک اور واقعہ ہوا جس نے ایک فریق کے مقابلہ میں دوسرے فریق کے حق میں نزاع کا فیصلہ کر دیا۔ یہ ایک جغرافی حقیقت ہے کہ گرم ملکوں میں دیمک زیادہ پائی جاتی ہیں جوا کثر لکڑی اور کاغذ کو کھا جاتی ہیں۔ چنانچہ تین سال گزرے تھے کہ اس ’’صحیفہ‘‘ کودیمک لگ گئی اور اس کو اس طرح کھا گئی کہ معاہدہ کا اصل حصہ ختم ہو گیا اور صرف ’’اللہ‘‘ کا نام باقی رہ گیا جس سے حسب قاعدہ تحریر کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے علم میں آنے کے بعد سب خوف زدہ ہو گئے اور اس پر راضی ہو گئے کہ بنی ہاشم کا مقاطعہ ختم کر دیاجائے۔ رہائی کا یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔ مسلمان جب گھاٹی سے طویل عرصہ تک بھوک کی شدت برداشت کرنے کے بعدواپس آئے تو وہ نہایت کمز ور ہو چکے تھے۔ ان کے چہروں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اور جسم کی کھال کو دھوپ نے سیاہ کر دیاتھا۔

مقاطعہ کا یہ صحیفہ اگر چہ باضابطہ طور پر خاندانِ بنی ہاشم اور خاندان بنی مطلب کے خلاف تھامگر بالواسطہ طور پر دوسرے مسلمان بھی اس کی زد میں آگئے تھے۔ چنانچہ بنو ہاشم کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی وجہ سے مصیبت سہنی پڑی جو مقاطعہ کے ختم ہونے کے بعد ختم ہوگئی۔ تین سال کے بعد مسلمانوں نے گھاٹی سے نکل کر مکہ میں قدم رکھا۔

تین سالہ مقاطعہ میں مسلمانوں کی معاشیات بالکل برباد ہوگئیں۔ لوگوں کی تجارتیں ختم ہوگئیں۔حضرت ابو بکر کے متعلق کہا جا تا تھا کہ وہ قارون کی دولت رکھتے ہیں۔مگر ان کے پاس صرف پانچ ہزار درہم باقی رہ گئے۔ مسلمان جب گھاٹی سے طویل عرصہ تک بھوک پیاس برداشت کرنے کے بعد نکلے تو بہت زیادہ کمزور ہو چکے تھے۔

ابولہب نے خاندانی غیرت کے تحت حضرت محمد کے مقاطعہ کوختم کرنے سے اتفاق کیا تھا، مگر اس کی اسلام دشمنی اس کو مسلسل آپ کے خلاف برانگیختہ رکھتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ قبیلہ بنی ہاشم سے آپ کا اخراج کر دیا جائے۔ اس نے طے شدہ نقشہ کے مطابق، ایک روز اپنے قبیلہ کے لوگوں کو دعوت پر بلایا۔ لوگ جمع ہو گئے تو ابولہب نے حضرت محمد سے کہا:میں چاہتا ہوں کہ اپنے بزرگ عبد المطلب کے بارے میں آپ کے خیالات معلوم کروں، وہ جنت میں ہوں گے یا جہنم میں۔ آپ نے فرمایا کہ مشرکین خواہ پیغمبر کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں ، وہ جہنم میں جانے سے نہیں بچ سکتے۔ پھر ابولہب نے کہا میرے بھائی ابو طالب بخشے گئے یانہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ابولہب نے اس طرح خاندان کے مختلف بزرگوں کا نام لے لے کر پوچھا۔ آپ نے ہرایک کے بارے میں کہا کہ مشرک کی بخشش نہیں۔ یہ خدا کا قطعی حکم ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں۔

 قدیم عرب میں اجداد کی بڑی اہمیت تھی۔ اب تک آپ نے ایک نیا دین تو ضرور پیش کیا تھا مگر اس طرح صراحت سے اپنے آباؤاجداد کے بارے میں بیان نہیں دیا تھا۔ خاندان کے لوگ یہ سن کر سخت متحیر ہوئے۔ ابولہب نے بحیثیت سردار قبیلہ کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا مجھے حق ہے یا نہیں کہ محمد کو قبیلہ سے نکال دوں۔لوگوں نے تصدیق کی۔ کیوں کہ قبیلہ کے رواج کے مطابق ، آپ اس کے مجرم ہو چکے تھے۔ ابولہب نے چند دن کے بعد آپ کوقبیلہ سے خارج کرنے کا اعلان کر دیا۔

مکہ میں جوشخص اپنے قبیلہ سے نکال دیا جا تا اس کا خون معاف ہوتا تھا اور ہرشخص کو حق تھا کہ چاہے اسے قتل کر دے، یا غلام بنالے قبیلہ سے اخراج کے بعد آپ بالکل تنہا ہو گئے۔ ابولہب نے اس طرح آپ کو ایک خشک بیابان میں نا قابل کاشت زمین کے سپرد کر دیا۔ اور یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا جب کہ وہ دونوں انسان آپ سے رخصت ہو چکے تھے جو آسمان کے نیچے آپ کا ظاہری سہارا تھے— خدیجہ اور ابوطالب۔

اب آپ کے دشمن بلاخوف قصاص آپ کوقتل کر سکتے تھے۔ اس زمانہ میں قبیلہ بنوحیفہ کے کچھ لوگ عمرہ کرنے کے لیے مکہ آئے۔ قریش والوں نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ رقم دے کر حضرت محمد کے قتل کے لیے مقرر کیا۔ آپ کو یہ بات معلوم ہوگئی اور آپ رات کے وقت حضرت زید بن حارثہ گو لے کر مکہ سے روانہ ہو گئے اور طائف کا رخ اختیار کیا۔

طائف مکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ سمندر کی سطح سے ایک ہزار آٹھ سوفٹ بلند ہے اور سرسبز وشاداب ہے اس لیے مکہ کے اکثر دولت مند وہاں اپناباغ اور مکان رکھتے تھے۔ چونکہ طائف کے لوگ مال دار تھے ،اس لیے یہاں کے لوگوں کوعلم و ہنر کے لیے بھی وقت مل جا تا تھا۔ شمالی عرب کا واحد طبیب حارث بن کلدہ طائف ہی میں رہتا تھا جس نے ایرانیوں سے علم طب سیکھا تھا۔ اس زمانہ کا مشہور عرب نجومی عمرو بن امیہ بھی یہیں مقیم تھا۔ طائف کے معنیٰ دیوار کے ہیں۔ یہ عرب کا محصور شہر تھا اس لیے اس کو طائف کہتے تھے۔

10 نبوی کو اسلام کی تاریخ میں عام الحزن ( غم کا سال) کہا جا تا ہے۔ کیوں کہ شعب ِابی طالب سے نکلنے کے بعداسی سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔ اور پھر آپ کی اہلیہ خدیجہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ دونوں کی وفات کے درمیان تقریباً ایک ہفتہ کا فاصلہ تھا۔

قدیم مکہ میں ابو طالب آپ کے سب سے بڑے حامی اور سرپرست تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک مخالفوں کے مقابلہ میں آپ کا بچاؤ کیا حتیٰ کہ بائیکاٹ کے زمانہ میں آپ کے ساتھ خشک گھاٹی میں چلے گئے۔ تا ہم انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔

جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قریب جا کرفر مایا کہ اے چچا، آپ ایک بار لا الہٰ الا اللہ کہہ دیجئے تا کہ اللہ کے سامنے میں آپ کی شفاعت کر سکوں۔ ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ جو پاس ہی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ اے ابوطالب،کیاتم عبدالمطلب کی ملت (دین) کو چھوڑ رہے ہو۔ چنانچہ ابوطالب نے لا الہٰ الا اللہ نہیں کہا۔آخری کلمہ جوان کی زبان سے نکلا وہ تھا:عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1360)۔ یعنی، عبدالمطلب کے دین پر مرتا ہوں۔

خدیجہ کا انتقال آپ کے اوپر بہت گراں تھا۔ وہ آپ کی صرف اہلیہ نہیں تھیں بلکہ پورے معنوں میں آپ کی رفیق تھیں۔ ان کی وفات کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ گویا آپ اب دنیا میں اکیلے رہ گئے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion