دینی مدارس
ایک صاحب جو خود دینی مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس میں علم نبوت تو ہے، مگر وہاں نور نبوت نہیں ۔ میں نے کہا کہ کوئی دینی مدرسہ آپ کو صرف علم دین دے سکتا ہے۔ وہ چیز جس کو آپ نورِ نبوت کہتے ہیں، وہ معرفت کی چیز ہے۔ اور معرفت ایک ایسا علم ہے جو خود اپنی دریافت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ کوئی نصاب یا کوئی دینی ادارہ آپ کو معرفت نہیں دے سکتا۔
میں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس کی اصل کمی وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں۔ بلکہ اصل کمی یہ ہے کہ ان مدارس میں کھلا پن (openness) موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر طلبہ کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) اور معرفت یا آپ کے الفاظ میں نورِ نبوت پیدا نہیں ہوتی۔ معرفت تخلیقی فکر کا نتیجہ ہے۔ بند ماحول میں کبھی وہ چیز نہیں پیدا ہوسکتی جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔
مدرسے کے نصاب کے ذریعے ایک طالب علم متون (texts) کو پڑھتا ہے۔ مگر کھلاپن (openness) طالب علم کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نصاب کی کتابوں کے باہر جو علمی ذخیرہ ہے، اس سے بھی فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنے اندر علمی گہرائی پیدا کرے۔ وہ وسعت نظر کا حامل بنے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ مدرسے کی حدود سے باہر جو وسیع تر دنیا ہے، اس سے واقفیت حاصل کرے۔ وہ کتابوں کے دائرے سے باہر انسانوں کے دائرے میں داخل ہوجائے۔
یہ ضروری ہے کہ طالب علم اپنے موضوع کے متون سے واقف ہو۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑی ضرورت ہے، وہ یہ کہ طالب علم اپنے زمانے کو جانے۔وہ زندگی کے وسیع تر دائرے سے باخبر ہو۔ یہ چیز صرف خارجی مطالعہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔ خارجی مطالعہ سے مراد صرف کتابی مطالعہ نہیں ہے، بلکہ دیگر اہل علم سے تبادلۂ خیال کے ذریعے اپنے ذہنی افق کو وسیع کرنا بھی اس میں شامل ہے۔یعنی دینی موضوعات کے علاوہ سیکولر موضوعات سے بقدر ضرورت آشنا ہونا۔(الرسالہ، اگست 2016)
