اخلاص کافی نہیں

ہرمزان(یاہرمز) قدیم ایرانی سلطنت کا ایک فوجی سردار تھا۔ جنگ قادسیہ میں وہ ایرانیوں کی طرف سے مسلمانوں سے لڑ رہا تھا۔ اس جنگ میں جب اس کو شکست ہوئی تو وہ بھاگ کر خوزستان آیا اور یہاں اپنی فوجیں جمع کر کے ایران کے اس سرحدی علاقہ پر اپنی خود مختار حکومت قائم کرلی۔

مسلم فوج نے کوفہ و بصرہ سے نکل کر اس پر حملہ کیا۔ ہرمزان کو شکست ہوئی اور اس نے جزیہ ادا کرنے کی شرط پر مسلمانوں سے صلح کرلی۔ مگر موقع پاتے ہی اس نے بغاوت کر دی۔ دوبارہ مسلم فوج آئی۔ مقابلہ ہوا جس میں ہرمزان کو شکست ہوئی۔ ہرمزان نے ایک نئے مقام پر پناہ لی۔ جس کا نام رام ہرمز تھا۔ اس نے پھر جزیہ کی شرط پر صلح کی پیش کش کی۔ جس کو مسلمانوں نے منظور کرلیا۔ مگر ہرمزان نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ بغاوت کر دی۔ چنانچہ ابو موسیٰ اشعری کی سرکردگی میں اسلامی فوج نے اس پر حملہ کیا۔ ہرمزان کو شکست فاش ہوئی۔ اس کا شہر تشتر مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ ہرمزان تشتر کے قلعہ میں محصور ہوگیا۔

ہرمزان نے دیکھا کہ بہت جلد مسلمان اس کے قلعہ پر قابض ہو جائیں گے، اس نے مسلمانوں کے سردار کے پاس یہ درخواست بھیجی کہ میں اس شرط پر اپنے آپ کو تمہارے سپرد کرنے کے لیے تیار ہوں کہ مجھ کو خلیفہ عمر کی خدمت میں بھیجا جائے اور میرے معاملہ کو انہیں کے فیصلہ پر چھوڑ دیا جائے۔

چنانچہ ہرمزان کو انس بن مالک اور دوسرے لوگوں کی نگرانی میں مدینہ لایا گیا۔ حضرت عمر نے ہر مزان سے کہا کہ تم نے بار بار بدعہدی کی ہے اور بدعہدی کی سزا تم جانتے ہو کہ قتل ہے۔ ہرمزان نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ میری بات سنے بغیر ہی مجھے قتل نہ کر دیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ نہیں، تمہاری بات ضرور سنی جائے گی، اس کے بعد ہرمزان نے پینے کے لیے پانی مانگا۔ پانی آیا تو پیالہ ہاتھ میں لے کر اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے پانی پینے کی حالت میں قتل نہ کر دیں، حضرت عمر نے کہا نہیں۔ تم اندیشہ نہ کرو۔ جب تک تم پانی نہ پی لو گے، تم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہرمزان نے اس کے فوراً بعد پیالہ کا پانی زمین پر گرا دیا اور کہا کہ آپ مجھے اب قتل نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ آپ اس پانی پینے تک کے لیے مجھے امان دے چکے ہیں۔

حضرت عمر نے یہ سن کر کہا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ ہم نے تو تجھ کو امان نہیں دی ہے اور تو قتل کیا جائے گا۔ انس بن مالک فوراً کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہا: امیر المومنین، ہرمز صحیح کہتا ہے۔ آپ کہہ چکے ہیں کہ جب تک تم پانی نہ پی لو گے تم قتل نہ کیے جاؤ گے اور پانی اس نے پیا نہیں۔ حضرت عمر اگر انس بن مالک کی دلیل سے مطمئن نہ تھے۔ مگر معاملہ کی نزاکت کی بنا پر خاموش ہوگئے۔

 اب ہرمزان نے دوسری ہوشیاری یہ کی کہ کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان بن کر مدینہ میں رہنے لگا اور عمومی اسلامی قاعدہ کے مطابق دو ہزار دینار سالانہ کا وظیفہ بھی بیت المال سے حاصل کر لیا۔

انہیں دنوں ایک ایرانی غلام ابو لولو فیروز مدینہ میں رہتا تھا۔ یہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ ہرمزان اور ابو لولو فیروز دونوں مسلمانوں سے اس بات پر ناراض تھے کہ انہوں نے ایران کی کیانی عظمت کو مٹا دیا اور ان کے قومی فخر کا خاتمہ کر دیا۔ اس مشترک جذبہ نے دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا۔ ان میں راز دارانہ باتیں ہونے لگیں۔ کیانی عظمت کو واپس لانے کے بارے میں وہ اپنے خواب کو واقعہ نہیں بنا سکتے تھے۔ اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ مسلمانوں کی تخریب کے منصوبے بنانے لگے۔

 جلد ہی اس کا ایک موقع انہیں میسر آگیا۔ ابو لولو فیروز ایک روز مدینہ کے بازار میں تھا کہ اس کی ملاقات خلیفہ عمر سے ہوگئی۔ اس نے کہا اے امیر المومنین، میرا آقا مغیرہ مجھ سے بہت زیادہ محصول لیتا ہے، آپ اس کو کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر نے پوچھا کتنا۔ ابو لولو نے کہا دو درہم روز۔ حضرت عمر نے کہا تم کیا کام کرتے ہو۔ اس نے کہا کہ آہنگری، نقاشی اور نجاری۔ حضرت عمر نے کہا کہ جب تم اتنے ہنر جانتے ہو تو پھر یہ رقم تمہارے لیے زیادہ نہیں ہے۔ ابو لولو کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ کیوں کہ حضرت عمر نے مذکورہ معاملہ میں ابو لولو کے بجائے مغیرہ بن شعبہ کی حمایت کی تھی۔

اس کے بعد حضرت عمر نے ابو لولو سے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ تم ایسی چکی بنانا جانتے ہو جو ہوا کے زور سے چلتی ہے۔ تم مجھ کو بھی ایسی ایک چکی بنا دو۔ ابو لولو نے جواب دیا کہ اچھا۔ میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا جس کی آواز مشرق و مغرب کے لوگ سنیں گے۔

اب ہرمز اور ابو لولو کے خواب کی تکمیل کا وقت آگیا۔ دونوں نے خفیہ سازش کر کے زہر میں بجھا ہوا ایک خنجر تیار کیا۔ اس کے بعد ابو لولو ایک روز فجر کے وقت اندھیرے میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا۔ اس کی آستین میں مذکورہ خنجر چھپا ہوا تھا۔ جب نماز کھڑی ہوئی تو وہ صف اول میں شامل ہوگیا۔ حضرت عمر نے امامت کے مقام پر کھڑے ہو کر نماز شروع کی تو ابولولو اچانک تیزی سے صف سے نکلا اور حضرت عمر پر پے بہ پے وار کیے۔ حضرت عمر بےہوش ہوکر گر پڑے۔ بعد کو اسی میں آپ کا انتقال ہوگیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion