تعداد کی نابرابری

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے، یعنی جتنے بچے تقریباًاتنی ہی بچیاں۔ مگر شرح اموات(mortality) کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں  مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ( 1984) کے مطابق ، عمومی طورپر، موت کا خطرہ عمر کے ہر مرحلہ میں  ، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ :

In general, the risk of death at any given age is less for females than for males (VII/37)

اکثر حالات میں  سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوںکی تعد اد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتاہے۔ مثلاً جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں  زیادہ تر صرف مرد مارے جاتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ ( 1914-18) میں  آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں  ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-45) میں  ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طورپر ناکارہ ہو گئے۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔ عراق۔ ایران جنگ (1979-88ء) میں  ایران کی 86 ہزار عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ عراق میں  ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں  ہلاک ہوئے۔

اسی طرح مثال کے طورپر جیل اور قیدکی وجہ سے بھی سماج میں  مردوں کی تعداد کم اور عورتوںکی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔ امریکا کو موجودہ زمانہ میں  دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل ہے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ امریکا میں  ہر روز تقریباً13لاکھ (1,300,000) آدمی کسی نہ کسی جرم میں  پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں  سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے لیے جیل میں  ڈال دی جاتی ہے۔ ان سزا یا فتہ قید یوں میں  دوبارہ 97 فی صد مرد ہی ہوتے ہیں (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا،  1102/14)

اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھادیا ہے۔ موجودہ زمانے میں  حادثاتی موتیں رو زمر ہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سڑک کے حادثے ، ہوائی حادثے ، کارخانوں کے حادثے اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں  اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ جدید صنعتی دور میں  یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینئرنگ (safety engineering) کے نا م سے ایک مستقل فن وجود میں  آگیا ہے۔ 1967 کے اعد اد وشمار کے مطابق ، اس ایک سال میں  پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر 175000 حادثاتی موتیں واقع ہوئیں۔ یہ سب زیادہ تر مرد تھے۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، 137/16)

صنعتی حادثات کی موتوں، سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود ، پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیاہے۔ مثال کے طورپر ، ہوائی حادثات جتنے1988 میں  ہوئے، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام صنعتی ملکوں میں  مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہورہے ہیں۔ ان میں  برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کی تعد اد کبھی نہیں بتائی جاتی، تاہم یہ یقینی ہے کہ ان میں  تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں۔

اس طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورت حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں  عورتوں کی تعد اد نسبتاً زیادہ ہو ، اور مردوں کی تعداد نسبتاًکم ہوجائے۔ امریکا کی سوسائٹی نہایت ترقی یافتہ سوسائٹی سمجھی جاتی ہے، مگر وہاں بھی یہ فرق پوری طرح پایا جاتاہے۔ 1987 کے اعدادوشمار کے مطابق ، امریکا کی آبادی میں  مردوں کے مقابلے میں  تقریباً 71 لاکھ (7.8 million) عورتیں زیادہ تھیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اگر امر یکا کا ہر مرد شادی شدہ ہوجائے تواس کے بعد بھی امریکا میں  تقریباً 71 لاکھ عورتیں ایسی باقی رہیں گی جن کے لیے ملک میں  غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہوں گے جن سے وہ نکاح کرسکیں۔

دنیا کی آبادی میں  مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد وشمار دیے جارہے ہیں۔ یہ اعداد وشمار انسائیکلوپیڈیا بر ٹا نیکا (1984) سے لیے گئے ہیں:

COUNTRY                  MALE             FEMALE

1. Austria                 47.07%         52.93%

2. Burma                  48.81            51.19

3. Germany               48.02            51.89

4. France                  48.99            51.01

5. Italy                    48.89            51.11

6. Poland                  48.61            51.39

7. Spain                   48.94            51.06

8. Switzerland            48.67            51.33

9. Soviet Union           46.59            53.03

10. United States        48.58            51.42

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion