ٹیم کے ذریعے مدد
حضرت موسٰی قدیم مصر میں پیغمبر تھے۔ ان کو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں تنہا یہ کام نہیں کر سکتا،اس لیے میرے بھائی ہارون کو اس کام میں میرا مددگار بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی (طہٰ، 20:29-36)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کمی کی تلافی کے لیے ان کو مددگار کے طور پر ایک ٹیم دےدی گئی۔اس ٹیم میں پہلے صرف حضرت ہارون تھے۔ اس کے بعد اس میں اور بہت سے لوگ شامل ہو گئے ۔مثلاً دربارِ فرعون کارجلِ مومن حبیب بن شمعون، فرعون کی بیوی آسیہ ،مصر کے جادوگر، اور اِسی طرح بنی اسرائیل کے بہت سے لوگ ۔
یہ اللہ کی نصرت کا ایک طریقہ ہے۔ قرآن میں یہ واقعہ صرف تاریخ کے طور پر ذکر نہیں ہوا ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون ِ نصرت کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اللہ کی نصرت کبھی وقتی نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اللہ کے کام کے لیے اٹھے، وہ اپنے آپ کو خالص اللہ کے کام میں پوری طرح لگا دے، پھر وہ اللہ سے کہے کہ خدایا، میں ایک کمزور انسان ہوں۔ دین کی خدمت جیسے عظیم کار کو انجام دینے کی صلاحیت میرے اندر نہیں۔ تو اپنی خصوصی نصرت سے میری کمزوری کی تلافی فرما۔ اگر اللہ کا ایک بندہ حقیقی طور پر اللہ سے یہ درخواست کرے تو یقینی طور پر اللہ اس کی درخواست کو قبول فرمائے گا اور دوبارہ اس کو ایک ایسی طاقتور ٹیم دے دے گا جو اس کی ذاتی کمیوں کی تلافی کرنے والی ہو۔
اعلیٰ صلاحیت کے لوگ ہمیشہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنی ذاتی عظمت (personal glory) کے لیے کام کرتے ہیں، خدا کی عظمت کے لیے کام کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے کام کے لیے اکثر ایسے لوگ اٹھتے ہیں جو ہمالیائی شخصیت کے حامل نہ ہوں، لیکن اللہ ان کی خصوصی مدد کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ان کو اعلیٰ بصیرت کا سرمایہ دے دیتا ہے، اور دوسری طرف وہ ان کو قابلِ کار افراد کی ایسی ٹیم دے دیتا ہے، جو اپنی متحدہ کوشش سے سارا کام انجام دیتے ہیں۔
