دومثالیں
مجھے دوعورتوں کا قصہ معلوم ہے۔ ایک خاتون اپنے والد ین کی منظور نظر تھیں۔ وہ اپنے میکہ میں کوئی کام نہیں کرتی تھیں۔ سارا دن بے کاری میں گزارتی تھیں۔ شادی ہوکر جب وہ اپنی سسرال میں پہنچیں تو وہاں بھی انھوں نے اسی طرح کام سے غیر متعلق ہوکر رہنا چاہا جس طرح وہ اپنے والدین کے گھر میں کام سے غیر متعلق ہو کر رہتی تھیں۔ مگر نئے ماحول میں یہ ناممکن تھا۔ چنانچہ سسرال والوں سے ان کے اختلافات شروع ہو گئے۔ ان کی بے فکر زندگی پریشانیوںکی زندگی میں تبدیل ہوگئی۔
انھوں نے کبھی اپنے آپ پر غور نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ سسرال والوں ہی کو الزام دیتی رہیں۔ یہاں تک کہ لڑجھگڑ کر ایک روز وہ اپنے والدین کے پاس چلی آئیں۔ یہاں انھوں نے اپنے والدین کے سامنے صرف آدھی کہانی بیان کی۔ یعنی انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ میں کس طرح وہاں رہی۔ وہ صرف یہ بتاتی رہیں کہ دوسروں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ صرف اس لیے تھا کہ انھوں نے سسرال کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ سسرال کو انھوں نے اپنا گھر نہیں سمجھا۔ شادی کے بعد سسرال انکا گھر بن چکاتھا مگر وہ بدستور میکہ کو اپنا گھر کہتی اور سمجھتی رہیں۔ تاہم انھوں نے اپنے والدین کو یہ بات نہیں بتائی۔ وہ صرف اس سلوک کو بتاتی رہیں جو کہ ان کے سسر ال والوں نے جوابی طور پر (نہ کہ یک طرفہ طورپر) ان کے ساتھ کیا تھا۔
ان کے والدین نے وہی نادانی کی جو ایسے مواقع پر عام طور پرلڑکیوں کے والدین کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی لڑکی کی بات کو جو ں کاتوں مان لیا اور سسرال والوں کویک طرفہ طورپر ظالم قرار دے کران کے خلاف لڑائی چھیڑدی۔یہ سلسلہ لامتناہی طور پرجاری رہا۔ یہاںتک کہ لڑکی ذہنی کوفت میں مبتلا ہو کر ٹی بی کی مریض ہوگئی۔وہ بر سہا برس تک اسی حال میں پڑی رہی ، اور آخرکار طویل دکھ بھر ی زندگی گزار کر دنیا سے چلی گئی۔
دوسرا قصہ ایک دانش مند خاتون کا ہے، نکاح کے بعد جب وہ رخصت ہوکر اپنے سسرال میں پہنچی تو وہاں کی عورتوں نے اس کو بے قدر کر دیا۔ اپنی شکل وصورت کے اعتبار سے وہ زیادہ جاذب نہ تھی۔ ابتداء ً اس کے پسِ پشت اس پر تبصرے ہوتے تھے۔ جلد ہی بعد خود اس کے سامنے اس کی ’’ بد صورتی‘‘ پر تبصرے کیے جانے لگے۔ وہ اپنی سسرال کی ایک بے عزت فرد بن کررہ گئی۔
خاتون کے لیے یہ بات بے حد سخت تھی۔ مگر اس نے طے کیا کہ اس معاملہ میں وہ اپنے والدین سے ایک لفظ بھی نہیں کہے گی۔ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک فیصلہ کیا، یہ کہ وہ لوگوں کی باتوں سے بالکل بے پروا ہو کر لوگوں کی خدمت کرے گی۔ اس نے گھر کا پورا کام رضاکارانہ طور پر سنبھال لیا۔ وہ گھر کے ہر فرد کی ضرورت کا خیال کرنے لگی۔ اس نے اپنی پوری توجہ اس میں لگادی کہ گھر کے ہر فرد کو اس سے آرام پہنچے۔ کسی کوبھی اس سے کسی تکلیف کاتجربہ نہ ہو۔
یہ ایک طویل اور صبر آزما منصوبہ تھا۔ اس کے پورا ہونے میں مہینوں نہیں بلکہ سالوں بیت گئے۔آخر کار دھیرے دھیرے حالات بدلنا شروع ہوئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ گھر کی سب سے زیادہ باعزت فرد بن گئی۔ ہر شخص اس کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔ جس گھر میں اس سے پہلے وہ گھر کی خادمہ بنا دی گئی تھی اسی گھر میں اس نے دوبارہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کرلی۔
کامیاب ازدواجی زندگی کاراز صرف ایک لفظ میں چھپا ہوا ہے، اور وہ وفاداری ہے۔ میکہ میں ایک لڑکی کی وفاداری ، ماںباپ اور بھائی بہن کے درمیان ، پیدائشی طور پر مسلّم ہوتی ہے۔ وہاں پیشگی طور پر ہر ایک کو اس کی وفاداری کا یقین ہوتا ہے۔ خون کا تعلق اس کو اپنے میکہ والوں کے لیے ایسا وفادار بنادیتا ہے جوکسی حال میں بھی ختم ہونے والا نہیں۔
مگر سسر ال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں اس کی وفاداری پہلے سے موجودنہیں ہوتی۔ وہ قائم کرنے سے قائم ہوتی ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ عورت اپنا گھر تبدیل کرنے کے ساتھ اپنی وفاداری بھی تبدیل کردے۔ وہ پیدائشی وفاداری کو شعوری وفاداری بنائے۔ اب اس کے یہاں ’’ اپنا گھر‘‘ کے معنی اس کی سسر ال ہو۔ اب اس کی تو جہات کا مرکز اس کے شوہر کا خاندان بن جائے۔ وہ اپنے میکہ کی طرف دیکھنا چھوڑدے ، وہ ہر معاملہ میں اپنی سسرال کی طرف دیکھے۔ وہ دل سے سسرال والوں کی خیر خواہ بن جائے۔ یہی بطور واقعہ بھی درست ہے او ریہی عورت کے لیے اپنی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا راز بھی۔
