جذباتی نہ بنو
1982ء کے آخر میں دہلی میں ایشیائی کھیلوں کے مقابلے ہوئے جن کو عام طور پر ایشیاڈ (Asiad) کہا جاتا ہے۔ ان کھیلوں میں مجموعی طور پر انڈیا نے تیرہ سونے کے میڈل حاصل کیے اور پاکستان نے صرف تین۔ مگر خود انڈیا اور پاکستان کے درمیان یکم دسمبر 1983ء کو جو مقابلہ ہوا اس میں پاکستان کے مقابلہ میں ہندستانی ٹیم بری طرح ہارو گئی۔ یہ دونوں کے درمیان ہاکی فائنل کا مقابلہ تھا اور انڈیا ایک اور سات کے تناسب سے پاکستانی ٹیم سے ہار گیا۔
ایشیاڈ کے تمام کھیلوں کے مقابلہ میں یکم دسمبر کا یہ کھیل سب سے زیادہ ہندستانیوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ اس دن غیر معمولی زور و شور رہا۔ چنانچہ جب نتیجہ سامنے آیا تو ہمارے لکھنے اور بولنے والوں نے خوب خوب تبصرے کیے۔ ان تبصروں میں ایک تبصرہ خاص طور پر بہت سبق آموز تھا۔
ایوننگ نیوز (2 دسمبر1982ء) نے کل کے دن کیا غلطی ہوئی(What went wrong yesterday) کے عنوان سے ایک رپورٹ چھاپی تھی۔ اس میں رپورٹر نے بہت سے ہندستانیوں کے تبصرے درج کیے تھے۔ ایک سینئر جرنلسٹ کے حوالے سے یہ جملہ نقل کیا گیا تھا:
Whenever Indians play against Pak they are all nerves and this affects their game.
جب بھی ہندستان والے پاکستانیوں سے کھیلتے ہیں تو وہ بالکل جذباتی ہو جاتے ہیں اور یہ چیز ان کے کھیل کو متاثر کرتی ہے۔
کامیابی ہمیشہ اس کا نام ہوتی ہے کہ آدمی اپنی عقل کو بخوبی طور پر کام میں لائے۔ مگر جب آدمی کسی معاملہ میں جذباتی ہو جائے تو اس کے جذبات اس کی عقل پر چھا جاتے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال کر سکے ۔ اور مقابلہ کی اس دنیا میں عقل کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے ہی کادوسرا نام ناکامی ہے۔
اگر آج کسی سے آپ کو تکلیف پہنچے تو سوچ سمجھ کر کل اس کا جواب دیجیے۔ کسی کی ایک کارروائی سے آپ کے اندر غصہ پیدا ہو تو پہلے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کیجیے اور اس کے بعد اس کے مقابلہ کے لیے اٹھئے۔ کوئی شخص آپ کو حقیر معلوم ہو تو اپنے ذہن میں اس کو برابر کی سطح پر لایئے اور پھراس کے خلاف کارروائی کیجیے — یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔
