علم بغیر معرفت
قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَاتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُؕ (2:282)۔ اس آیت میں علم سے مراد فہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اللّٰہ کا تقویٰ ہوگا، اس کا تقویٰ اس کے اندر فہم دین پیدا کرے گا (تفسیرالقرطبی، جلد3، صفحہ406)۔ اس سے معلوم ہواکہ یہ ممکن ہےکہ ایک شخص کےاندرمعلومات ہومگراس کےاندرحقیقی فہم نہ ہو،کیونکہ فہم وبصیرت کاسرچشمہ تقویٰ ہے،نہ کہ صرف معلومات۔اسی لیے حدیث میں دعاآئی ہےکہ— اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ (مسند احمد، حدیث نمبر13674)۔ یعنی، اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم جو سے نفع نہ دے۔
اس معاملہ کوسمجھنےکےلیے ایک مثال لیجیے۔موجودہ زمانے میں پرجوش مسلمانوں نے مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں چھیڑرکھی ہیں ان میں انہیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ اب وہ شکست خوردہ نفسیات کےتحت خودکش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ اپنےجسم کے ساتھ بم باندھ کر مفروضہ دشمن کے علاقوں میں داخل ہوتے ہیں اوربم دھماکہ کرکےجان بوجھ کرخودہلاک ہوتے ہیں اورکچھ دوسرےلوگوں کوبھی ہلاک کرتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح طورپرخودکشی کا واقعہ ہے اور خودکشی کو اسلام میں حرام موت قرار دیا گیا ہے۔ مگر کچھ علما نے اس کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دیتے ہوئےاس کو جائز قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں دور صحابہ کے بعض واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لوگ خلافت صدیقی کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کو اپنے نظریے کے حق میں ایک قطعی دلیل بتاتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک صحابی البراءبن مالک خزرجی (وفات20ھ) کا ہے۔ ان کا یہ واقعہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے زمانے میں پیش آیا۔
تاریخ سےمعلوم ہوتاہےکہ حضرت ابوبکرصدیق کی خلافت کےزمانے میں مسیلمہ کذاب اور اس کے حامی اہل یمامہ کے ساتھ جنگ میں آئی۔ یہ جنگ حضرت خالدکی سرداری میں ہوئی تھی۔اس جنگ کےآخری مرحلہ میں ایسا ہوا کہ باغیوں کی یہ جماعت ایک فصیل بندباغ کے اندر داخل ہوگئی اور اس کے مضبوط دروازہ کو اندر سے بند کر لیا۔اس وقت صحابہ کی جماعت میں البراءبن مالک بھی تھےجواپنی بہادری کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نےصحابہ سے کہا کہ تم لوگ مجھ کو ایک ڈھال پر بٹھاؤ اور ڈھال کو نیزوں کےذریعہ اوپراٹھاؤ۔اس طرح اٹھاکرمجھے دیوار کےاوپرتک پہنچا دو۔ چنانچہ ایساہی کیاگیا۔جب وہ دیوارکےاوپر پہنچےتووہ وہاں سے کود کر نیچے اتر گئے۔ اندرکےلوگوں نےان پرحملہ کیامگروہ مقابلہ کرتے ہوئے باغ کےدروازہ تک پہنچ گئےاوراس کوکھولنےمیں کامیاب ہوگئے۔دروازہ کھلتےہی صحابہ کی جماعت اندرداخل ہوگئی اورمسیلمہ کےساتھیوں سےلڑ کرانہیں مغلوب کرلیا۔ البراءبن مالک کایہ اقدام ایک جوکھم کااقدام تھا۔اس میں جان کاخطرہ تھا۔مگرالبراءبن مالک کوباغی گروہ مارنےمیں کامیاب نہ ہوسکا،وہ زندہ بچ کرباہرآگئے۔اس واقعہ کے بعد وہ مزیدآٹھ سال تک زندہ رہےاورپھر20ھ میں ان کی طبعی وفات ہوئی۔ (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد2، صفحہ 364، البدایۃ النہایۃ لابن کثیر، جلد6، صفحہ 268، الاعلام للزرکلی، جلد2، صفحہ 47)۔
ان دونوں میں شَتَّانَ مَا بَيْنَهُمَا (there is a great difference between the two) کا معاملہ ہے۔البراءبن مالک نےجوکچھ کیاوہ یہ تھاکہ انہوں نےاپنےآپ کوخطرہ میں ڈال کرایک اقدام کیاجس میں ان کےلیے بیک وقت دونوں امکان تھا۔ زندہ بچنےکابھی اور مارے جانے کا بھی۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ میں اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کربم دھماکہ کیاجاتاہےوہ یقیناًجان بوجھ کرخودکشی کرنےکامعاملہ ہے۔اس عمل کی تکمیل خودعامل کی موت پرمنحصرہے۔ان دونوں کےدرمیان واضح طورپرنوعی فرق پایاجاتاہے۔مگراس فرق کونہ جاننےکی وجہ سےدونوں کوایک سمجھ لیاگیااورواقعہ جوواضح طورپرخودکشی کافعل تھا،اس کوشہادت کادرجہ دےدیاگیا۔
یہ معرفت کےبغیرعلم کی ایک مثال ہے۔اگرآدمی کےپاس علم(بمعنی معلومات) ہو، مگر اس کے پاس معرفت والی بصیرت نہ ہوتووہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہیں سمجھے گا۔ وہ ایسی بات کہےگاجواس کےاپنےنزدیک علم پرمبنی ہوگی، حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سےوہ صرف جہالت پرمبنی ہوگی،اس سےزیادہ اورکچھ نہیں۔
معرفت کے لیے بھی علم ضروری ہے مگر صاحب معرفت آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ ظاہری علم سے گزر کر باطنی حقیقتوں کو دیکھے۔ وہ معلومات کاتجزیہ وتحلیل کرسکے۔ وہ سطور (line) کے ساتھ بین السطور (between the lines) کو پڑھے۔ وہ واقعات کو صحیح زاویہ نظر کے ساتھ دیکھ سکے۔ ایسا ہی آدمی صاحب معرفت ہے۔ اور جو آدمی صاحب معرفت ہواسی کے لیے علم نفع بخش بن سکتا ہے۔ معرفت کے بغیر علم ایک گمراہی ہے، بلکہ شاید سب سےبڑی گمراہی۔
