نبی رحمت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے اسوہ حسنہ (33:21) موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنی ذات میں رحمت ہیں۔ بلکہ وہ رحمت یا رحم دلانہ سلوک کے لیے بہترین نمونہ بھی ہیں۔
آپ نے قرآن اور حدیث کی صورت میں ہمارے لیے رحمت کا ہدایت نامہ بھی دیا ۔ اسی کے ساتھ آپ نے رحمت والے طریقوں پر چل کر اس کا بہترین عملی نمونہ بھی قائم فرمایا۔ آپ قول کے اعتبار سے بھی نبی رحمت تھے اور عمل کے اعتبار سے بھی نبی رحمت۔
رحمت یارحم دلا نہ سلوک کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے معتدل حالات میں لوگوں کے ساتھ رحم دلا نہ سلوک کرنا۔ دوسرا ہے غیر معتدل حالات میں رحم دلانہ سلوک پر قائم رہنا۔ غیر معتدل حالات میں رحمدلی کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے مخالفانہ سلوک کا تجربہ ہو تب بھی آپ ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ رد عمل کی نفسیات سے بچ کر آپ اپنے مثبت رویہ پر قائم رہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دونوں قسم کے رحیمانہ اخلاق کی مثالیں کمال درجہ میں پائی جاتی ہیں۔ آپ سے عام حالات میں بھی لوگوں کو رحمت و شفقت کا تجربہ ہوا اور غیر معمولی حالات میں بھی۔ یہاں ہم دونوں قسم کے اخلاق کی کچھ مثالیں بیان کریں گے۔
حضرت انس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے۔ وہ دس سال تک آپ کی خدمت میں رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پوری مدت میں آپ نے کبھی مجھ کو نہ کسی پر جھڑ کا اور نہ کسی بات کا حکم دیا۔ اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2309)۔
آپ لوگوں کو نصیحت کرتے تو ایسا انداز اختیار فرماتے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ کو جب کسی کے بارے میں یہ اطلاع ملتی کہ اس نے فلاں کام غلط کیا ہے تو آپ اس کا نام لے کر برا نہ کہتے۔ بلکہ یہ فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں یا ایسا کرتے ہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4788)۔
آپ آدمی کے قول و فعل پر ملامت تو فرماتے مگر اس آدمی کا نام ظاہر نہ فرماتے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک بار دیہات کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے پو چھا کہ میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5164)۔ اور کتنی بار اس کی غلطی سے در گزر کروں۔ آپ نے فر مایا کہ تم ستر مرتبہ در گذر کرو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ، مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کر دو (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2443)۔
رحمت کی صفت آپ کے اندر بے پناہ تھی۔ آپ کا رحیمانہ اخلاق اور آپ کا رحم دلانہ سلوک اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتا تھا جبکہ دوسروں کی طرف سے آپ کو برائی اور زیادتی کا تجربہ ہوا ہو ۔ آپ رو عمل کی نفسیات سے آخری حد تک بلند تھے۔
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راستہ چل رہا تھا۔ اس وقت آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے۔ راستہ میں آپ کی ملاقات ایک دیہاتی آدمی سے ہوئی۔ اس آدمی کو کچھ ضرورت تھی۔ مگر اس نے شرافت کے ساتھ سوال کرنے کے بجائے برا انداز اختیار کیا۔ اس نے آپ کی چادر زور سے کھینچی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو چادر کھینچنے کی وجہ سے آپ کی گردن پرنشان پڑ گئے تھے۔
اس کے بعد دیہاتی نے کہا کہ اے محمد، اللہ کا مال جو تمہارے پاس ہے، اس میں سے کچھ مال مجھے دو۔ آپ نے دیہاتی کو کوئی تنبیہ نہیں کی۔ آپ اس کو دیکھ کر مسکرائے اور پھر اس کومال دینے کا حکم فرمایا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3149)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی تاجر سے کچھ قرض لیا تھا ، وہ یہودی ایک روز آیا۔ اور نہایت برے انداز میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا۔ اس نے نہ صرف آپ کے ساتھ سخت کلامی کی بلکہ یہ کہا کہ عبدالمطلب کے خاندان والے سب ایسے ہی نا دہندہوتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ان کو غصہ آ گیا۔ وہ یہودی کو ڈانٹنے لگے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو روکا اور کہا کہ اے عمر، میں اور یہ شخص تمہاری طرف سے دوسرے رویہ کے زیادہ مستحق تھے۔ تم مجھ کو جلد قرض ادا کرنے کا مشورہ دیتے اور اس آدمی کو نرم طریقہ سے تقاضا کرنے کو کہتے ۔ اس وقت قرض کی ادائیگی کی مدت میں ابھی تین دن باقی تھے ۔ پھر بھی آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ جاؤ ، ان کا قرض ادا کر دو (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6547)۔
ایک بار کا واقعہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کی مسجد میں تھے جس کو مسجد نبوی کہا جاتا ہے ۔ ایک دیہاتی شخص وہاں آیا۔ وہ مسجد کے ایک حصہ میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ سخت غصہ ہوئے اور اس آدمی کو مارنے کے لیے دوڑے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کر دیا۔
آپ نے کہاکہ یہ ایک جاہل آدمی ہے۔ وہ مسجد کے آداب کو نہیں جانتا۔ تم اسے چھوڑ دو۔ البتہ جس مقام پر اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا کر اس کو پاک صاف کر دو۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تمہار ا کام لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے ، لوگوں کو مشکل میں ڈالنا اور ان کے لیے دشواری پیدا کر ناتمہارا کام نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بتاتی ہے کہ لوگوں کی بدخواہی کے باوجود آپ ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کے غصہ پر آپ کا تحمل ہمیشہ غالب رہتا تھا۔ بڑی سے بڑی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ کبھی مشتعل نہیں ہوتے تھے ۔ لوگوں کی سخت کلامی کا جواب بھی آپ نرم الفاظ میں دیتے تھے۔ لوگ آپ کے راستہ میں کانٹے بچھاتے مگرآپ ان کے حق میں ہمیشہ اچھی دعا کرتے۔
حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو آدمی نرمی کی صفت سے محروم ہو جائے وہ گویا سارے خیر سے محروم کر دیا گیا(صحیح مسلم، حدیث نمبر2592)۔ ایک اور روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ پر یہ وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فخر نہ کرے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2865)۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر زیادتی نہ کرے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے انسانوں کے لیے رحم نہیں ہے۔ اور جو لوگ دوسرے انسانوں کے اوپر مہربانی نہیں کرتے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7376)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم دلانہ کردار کا جونمونہ پیش کیا وہ کوئی افسانوی کردار نہیں ہے بلکہ حقیقی کردار ہے۔ وہ تاریخ کا ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔ آپ کی زندگی کایہ پہلو آپ کے اسوہ حسنہ کو اتنا زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ آپ اعلیٰ اخلاق کا مثالی نمونہ بھی ہیں اور آخر ی نمونہ بھی ۔
_____________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 11 ستمبر 1992کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔
