ماضی اور حال
مسیح الملک حکیم اجمل خاں (1930-1864)کو طب اور علاج میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ لارڈ ہارڈنگ1910 سے1916تک ہندستان کے وائسرائے تھے۔ حکیم اجمل خاں کی شہرت سے متاثر ہو کر وائسرائے نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو ان کے پاس طبی مشورہ کے لیے بھیجا۔ وہ دہلی میں ان کے مطب میں آئے تو دیکھا کہ وسیع مطب آدمیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سیکریٹری پر اس کا بہت اثر ہوا۔ واپس جا کر اس نے وائسرائے سے اس کا ذکر کیا۔ وائسرائے نے کہا کہ وہ ہندستان کے مقناطیس ہیں:
He is the magnet of India.
حکیم اجمل خاں کی اسی عظمت و مقبولیت کا یہ نتیجہ تھا کہ جب وہ قومی سیاست میں داخل ہوئے تو اس کے اندر انہوں نے مرکزی مقام حاصل کر لیا۔ دہلی میں ان کے مکان(شریف منزل) میں وقت کی بڑی بڑی شخصیتیں جمع ہوتی تھیں۔ مثلاً پنڈت موتی لال نہرو، بال گنگا دھر تلک، لالہ لاجپت رائے، سی آر داس، مہاتماگاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا محمد علی، ڈاکٹر محمد اقبال وغیرہ۔ حکیم صاحب نے مسلم ملکوں کے علاوہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا وغیرہ کے سفر بھی کیے۔
یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ جدید میڈیکل سائنس ابھی اپنے عروج کو نہیں پہونچی تھی۔ اس زمانہ میں ابھی طب کی اہمیت پوری طرح باقی تھی۔ اس وقت مسلمان فن طب کے امام تھے۔ آج ان کی یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ روایتی طب کے زمانہ میں وہ دنیا سے آگے تھے، سائنسی طب کے زمانہ میں وہ دنیا سے پیچھے ہوگئے۔
سائنس اور سائنسی طب میں مسلمانوں کی اس پسماندگی کی ذمہ داری تمام تر مسلم رہنماؤں پر ہے۔ علما نے مذہبی بنیاد پر اور لیڈروں نے سیاسی بنیاد پر اور کچھ’’مفکرین‘‘ نے نظریاتی بنیاد پر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم میں کم ازکم ایک سو سال دنیا سے پیچھے ہوگئے۔
علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر ا سلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے بعد مشرک قیدیوں کے ذریعہ مسلمان بچوں کو تعلیم دلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ علم ہر حال میں مطلوب ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر علم سے روکنا ہر گز جائز نہیں۔
