قابلِ پیشین گوئی کردار
قرآن میں پسندیدہ بندوں کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کرنے والے لوگ ہیں جب کہ وہ کسی سے عہد کرلیں (2:177)۔ یہ عین وہی اخلاقی صفت ہے جس کو ہم نے قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) سے تعبیر کیا ہے ۔ جس طرح لوہے کے اوپر کسی چھت کو کھڑا کیا جائے تو پیشگی طور پر یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ چھت کے بوجھ کو سنبھالے گا۔ اسی طرح جب ایک انسان دوسرے انسان سے کوئی عہد کرے تو پیشگی طور پر یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ ضرور اس عہد کو پورا کرے گا ، وہ کسی حال میں اس سے نہیں ہٹےگا۔
اسی بات کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ منافق آدمی کی تین نشانیاں ہیں — جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ جب وہ وعدہ کرے تو اس سے پھر جائے ۔ جب اس کو امانت سپرد کی جائے تو وہ امانت میں خیانت کرے: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ (صحيح البخاري، حديث رقم 33)۔
مذکورہ تینوں باتیں قابل پیشین گوئی کردار کے خلاف ہیں ۔ کسی انسان سے جب بات کی جاتی ہے تو اس اعتماد پر کی جاتی ہے کہ وہ صحیح بات کہے گا ، وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے گا۔ اب اگر وہ خلاف واقعہ بات بولنے لگے تو اس نے پیشگی اندازہ کے خلاف عمل کیا۔ اسی طرح جب کسی سے عہدو پیمان کیا جاتا ہے تو اس یقین کی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کا آئندہ عمل عین اس عہد کے مطابق ہو گا ۔ اب اگر آدمی اپنے کیے ہوئے عہد کے خلاف کرنے لگے تو اس نے اپنے بارےمیں پیشگی اندازہ کو پورا نہیں کیا۔ اسی طرح جب کوئی امانت کسی کے حوالے کی جاتی ہے تو وہ بھی اس پیشگی اعتماد کی بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ ادائیگی کے وقت امانت کو پوری طرح ادا کرے گا۔ اب اگر بوقت ادائیگی وہ امانت کو اس کے حق دار کی طرف نہ لوٹائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل نہ تھا۔
کائنات اپنے قابل پیشین گوئی کردار کی وجہ سے کامل ہے ، اسی طرح انسان بھی اس وقت کامل ہو سکتا ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل بنے ۔
