شہر کی تعمیر
شکاگو (Chicago) امریکہ کا ایک شہر ہے۔ شکاگو کے لفظی معنی جنگلی پیاز (wild onion)کے ہیں۔ پہلے یہ شہر اپنی گندگی اور جرائم اور ناقص مکانات کے لیے مشہور تھا۔ اس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ آج شکاگو ایک اعلیٰ درجہ کا خوب صورت شہر ہے۔
شکاگو کی جدید تاریخ رچرڈ ڈیلی (Richard J. Daley) کی طرف منسوب ہے۔ وہ 1902میں پیدا ہوا ، 1976 میں اس کی وفات ہوئی۔ 1955 میں وہ شکاگو کا میئر منتخب ہوا، اور آخر عمر تک وہاں کا میئر رہا۔ میئر بننے کے بعد اس نے از سر نوشہر کا منصوبہ بنایا۔ اس نے قدیم شکاگو کو ہراعتبار سے نیاشکا گو بنا دیا۔
رچرڈ ڈیلی کی کامیابی کا خاص راز یہ تھا کہ اس نے شکا گو کی تعمیر جدید کو وہاں کے باشندوں میں سے ہر ایک کا ذاتی مسئلہ بنا دیا۔ اس نے ہر ایک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے ، اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔ اس نے شکاگو میں بسنے والے ہر ہر شخص کو یہ ماٹو دیا — میں اس کو کروں گا :
I will do it.
کسی بڑے تعمیری کام کے لیے یہ صحیح ترین ماٹو ہے ۔ ہر آدمی کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی معاملے کو دیکھے تو وہ سمجھے کہ یہ میری ہی ذمہ داری ہے ۔ یہ کام مجھ کو ہی انجام دینا ہے۔ اگر سوسائٹی کے ہر فرد کے اندر یہ جذبہ ابھر آئے تو اس کے بعد ہر منصوبہ کی تکمیل یقینی ہو جائے گی۔
شکاگو بظاہر ایک برا نام تھا۔ مگر اصل کام شہر کا نام بدلنا نہیں ہے بلکہ شہریوں کا مزاج بدلنا ہے۔ شہر کا نام بدلنا ایک بے نتیجہ کام ہے۔ لیکن اگر شہریوں کے مزاج کو بدل دیا جائے تو ایک تباہ حال شہر بھی ایک اچھا شہر بن جائے گا۔
دوسروں کے خلاف نعرہ سماج میں اکھیڑ پچھاڑ پیدا کرتا ہے ۔ اپنے لیے نعرہ سماج کو ترقیاتی سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ پہلے قسم کے نعرے سے لیڈر کی شخصیت بنتی ہے اور دوسری قسم کے نعرہ سے ملک بنتا ہے۔ پہلا نعرہ تخریب ہے اور دوسرا نعرہ تعمیر۔
