مذہب خطرہ میں ہے
نفرت اورتشدّد کا ایک سبب وہ جذباتی سیاست ہےجواس نعرہ پرچلتی ہےکہ مذہب خطرہ میں ہے۔ کچھ لکھنےاوربولنے والے لوگ غلط یامبالغہ آمیزتصورپیش کرکے عوام کویہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا مذہب دوسروں کی طرف سےخطرہ میں ہے۔ اب تحفظ مذہب کے نام پر جلسہ اورجلوس اورنعرےاورجھنڈےکی سیاست چل پڑتی ہے۔یہ سیاست مذہب کو تو خطرہ سے نہیں بچاتی البتہ مذہب کوخطرہ سےبچانےکےنام پرپورےسماج کےامن کو تباہ کرکےاس کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔
اگرمذہب خطرہ میں ہوتوظاہرہےکہ کوئی غیرہوگاجومذہب کوخطرہ میں ڈالے ہوئے ہوگا۔ اس طرح ’’مذہب خطرہ میں‘‘ جیسی سیاست ایک گروہ کےدل میں دوسرے گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ پھر نفرت کی سیاست سےجب مذہب کے خلاف مفروضہ خطرہ ختم نہیں ہوتا تو اس کے بعدلوگوں کےاندرمایوسی کی سیاست شروع ہوتی ہے۔ مایوسی کی سیاست اپنی آخری تدبیرکےطورپرتشدّدکی سیاست جاری کردیتی ہے۔ پھرجب تشدّدکی سیاست کار گرثابت نہیں ہوتی توخودکشی کی سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ جوش میں بھرے ہوئےنوجوان اپنی بڑھی ہوئی نفرت کواپنےمفروضہ دشمن کےخلاف خودکش بمباری کی صورت میں انڈیل دیتے ہیں۔ مذہبی خطرہ کی سیاست اپنی آخری حدپرپہنچ کرمذہبی خودکشی کی سیاست بن جاتی ہے۔زندگی کےنام پراٹھنےوالےلوگ یہ کرتےہیں کہ وہ اپنےلیے اور دوسروں کے لیے صرف موت کا پیغام ثابت ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہےکہ اس تباہ کن سیاست سےنکلنےکاواحدحل یہ ہےکہ تشدّدکوایک ایسا فعل قراردیاجائےجوہرحال میں قابل ترک ہو۔کوئی بھی عذر،خواہ وہ بظاہرکتناہی بڑا ہو، تشدّد کے طریقہ کو استعمال کرنے کے لیے کافی نہ سمجھاجائے۔
موجودہ دنیااختلافات کی دنیاہے۔ہرآدمی مسٹر ڈفرنٹ اورہرعورت مزڈفرنٹ ہے۔ اس لیے اس دنیامیں لازمی طورپر لوگوں کےدرمیان طرح طرح کےاختلافات پیدا ہوتے ہیں۔یہی اختلاف جذباتی صورت اختیارکرکےلوگوں کونفرت اورتشدّدتک پہنچاتا ہے۔ اور پھر سارا سماج قبرستان کا نمونہ بن جاتا ہے۔
اس مسئلہ کاایک ہی حل ہے۔اوروہ یہ کہ لوگوں کےاندریہ ذہن بنایاجائےکہ تم کو ہرحال میں امن کےدائرےمیں کام کرناہے۔کسی بھی حال میں تم کوامن کے دائرے سے باہر نہیں جاناہے۔ یہ ذہن اس وقت بن سکتاہےجب کہ لوگوں کواس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کیاجائےکہ اس دنیامیں کوئی کام صرف امن کےذریعہ بنتا ہے، تشدّد کے ذریعہ کبھی کوئی کام بننے والا نہیں۔ تشدّد صرف تخریب میں معاون ہوتا ہے، تشدّد کبھی تعمیر میں معاون نہیں ہوتا۔
’’مذہب خطرہ میں‘‘ جیسی سیاست کےذریعہ کایہ فائدہ توہوتاہےکہ کچھ ہائی پروفائل میں بولنےوالےقائدبن کرابھر آئیں۔وہ وقتی طورپرلوگوں میں نمایاں ہو جائیں۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو۔ مادّی رونقیں انہیں حاصل ہو جائیں۔ مگر جہاں تک مذہب اور اہل مذہب کا تعلق ہے،ان کےحصے میں صرف یہ آتاہےکہ معتدل ماحول سے محروم ہو کر وہ نفرت کے ماحول میں جینے پر مجبو رہو جائیں۔ تشدّد کا شکار ہو کر وہ اپنے مستقبل کو غیر محفوظ بنالیں۔
مذکورہ قسم کی سیاست کاآخری نتیجہ صرف یہ ہوتاہےکہ کچھ افراد ممتاز افراد (celebrities) بن کر نمایاں ہو جائیں۔ مگر یہ طریقہ مثبت معنوں میں قوم کی تعمیر نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے۔ یہ طریقہ لیڈرسازی کے لیے کار آمد ہے، مگر وہ ملت سازی کے لیے ہرگز کار آمد نہیں۔
