ترقی کا راز
مسٹر محمد حنیف (پیدائش 1951) دہلی میں رہتے ہیں۔ (Tel. 4690593) وہ کسٹم اینڈ سنٹرل اکسائز ڈپارٹمنٹ میں سپر نٹنڈنٹ ہیں۔ وہ اپنے آفس میں اپنی اسلامی پہچان کو چھپاتے نہیں ہیں بلکہ ہر موقع پر قرآن اور اسلام کا تعارف بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو 1999 کاصدارتی ایوارڈ (Presidential Award) دیا گیا جو ایک اعلیٰ سرکاری اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ 15 سالہ ریکارڈ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ امتیازی ایوارڈ کس کو دیا جائے۔ ہر سال محکمہ کے تین سینئر افسر متعلق شخص کی کار کردگی کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ لکھتے ہیں۔ اس طرح 15 سال کے اندر45 افسران رپورٹنگ کے اس کام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک افسر کی رپورٹ بھی اگر غیر موافق ہو تو وہ شخص اس قومی ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا۔ کمیٹی کی طرف سے نامزدگی کے بعد یہ فائل مزید تقریباً نصف درجن سرکاری دفاتر میں کلیرنس کے لیے بھیجی جاتی ہے اور آخرکار وہ صدر جمہوریہ ہند کے پاس پہنچتی ہے۔
ہندستان کے ایک مسلمان کو اس غیر معمولی ایوارڈ کا استحقاق کیسے ملا۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے امتیازی کار کردگی اور خوش اخلاقی ۔ اس معاملے میں محمد حنیف صاحب کا ریکارڈ غیر معمولی طور پر ممتاز ہے۔ جہاں تک ان کے حسن اخلاق کا تعلق ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔
1996میں سو یپرس کی بھرتی کے دوران ان کے آفس میں ایک اونچی ذات کا ہندو لڑکا انٹرویو کے لیے آیا۔ حنیف صاحب نے اس سے کہا کہ سو یپرس کو نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے جیسا کام کرنا پڑتا ہے اور آپ کا تعلق ایک اونچی ذات سے ہے تو آپ یہ سارے کام کیسے کریں گے ۔ اس نے جواب دیا کہ پیٹ کی خاطر میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ محمد حنیف صاحب نے اس لڑکے کو وہ سروس دلا دی۔ لیکن محمد حنیف صاحب کو اس بات کا کافی احساس تھا لہٰذا انھوں نے اس کو نالی صاف کرنے اور جھاڑو لگانے کے بجائے دفتر میں ڈسٹنگ کے کام پر لگا دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد محمد حنیف صاحب کا اس دفتر سے تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ ایک ہندو افسر آگیا۔ اس کے بعد ایک دن اچانک وہ لڑکا محمد حنیف صاحب کے گھر آیا، اس نے بتایا کہ ہم کو دوبارہ نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے کا کام آپ کے جانے کے بعد دے دیا گیا ہے، جس سے آپ نے مجھے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ محمد حنیف صاحب کو اس کا ملال ہوا اور انھوں نے مذکورہ ہند و افسر سے ٹیلیفون پر اس لڑکے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس لڑکے کو نالی کی صفائی اور جھاڑو کے بجائے ڈسٹنگ کے کام پر ہی لگارہنے دیں۔ محمد حنیف صاحب کے کہنے پر نئے افسرنے اس کو ڈسٹنگ کے کام پر بحال کر دیا۔
محمد حنیف صاحب اپنے دفتر میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے ملازمین سے لے کر بڑے افسروں تک ہر آدمی ان کی عزت کرتا ہے۔
اسی طرح محمد حنیف صاحب اپنی سرکاری خدمات کو پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ سروس کے تحت ان کو بار بار مزید مالی فائدے حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مگر محمدحنیف صاحب اس قسم کی آمدنی سے مکمل طور پر دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی جائز تنخواہ کے دائرے میں زندگی گزارتے ہیں اور نا جائز آمدنی کو کبھی ہاتھ نہیں لگاتے۔
محمد حنیف صاحب کی اس قسم کی صفات ہی ان کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جس نے ان کو مذکورہ قومی امتیاز کا مستحق بنایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ایک مسلمان کےلیے ہر قسم کے اعلیٰ مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کار کردگی کا طریقہ اپنا لے۔ اس کے بعد اس کو اپنے ماحول سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہو گی۔
