کامیابی اپنے ہاتھ میں

تھا مس فلر کا قول ہے ’’پرندے اپنے پاؤں کے سبب سے جال میں پھنستے ہیں اور انسان اپنی زبان کے سبب سے‘‘۔ انسان کی زبان اگرچہ بظاہر اس کے جسم کا بہت کمزور حصہ ہے مگر زندگی میں اس کا رول بے حد اہم ہے ۔ زبان سے بولے ہوئے چند الفاظ آدمی کو مصیبت میں پھنسا دیتے ہیں اور زبان سے بولے ہوئے دوسرے قسم کے کچھ الفاظ اس کو مصیبت سے بچالیتے ہیں۔

ایک شخص ایک کارخانہ میں کام کرتا تھا۔ کار خانہ کا مالک اس کو بہت مانتا تھا۔ وہ اس کی صلاحیتوں کا بہت قدر داں تھا۔ ایک بار کارخانہ میں پیسہ کی کمی پڑ گئی۔ مالک نے بڑی مشکل سے کارکنوں کی تنخواہیں دیں ۔ تاہم اس نے مذکورہ شخص کی تنخواہ روک لی ۔ کئی مہینے اسی طرح ہوا۔ اس ’’امتیازی سلوک‘‘ پروہ شخص بگڑ گیا۔ ایک روز مالک سے مل کر اس کو سخت سخت باتیں سنائیں ۔

یہ برہمی اس شخص کے حق میں الٹی ثابت ہوئی ۔ مالک نے اس کو اپنا سمجھ کر ایسا کیا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ پیسہ آنے پر وہ نہ صرف اس شخص کو پوری تنخواہ دے گا بلکہ اس میں اضافہ کر دے گا۔ مگر زبان کے غلط استعمال نے دونوں کے درمیان نفرت پیدا کر دی۔ محبت دشمنی میں تبدیل ہوگئی ۔ مالک نے اس کی زبان درازی کی یہ سزا دی کہ اس کی تنخواہ مزید روک دی اور کار خانہ سے بھی اس کو نکال دیا۔ اس کے بعد کئی سالوں تک دونوں کے درمیان مقدمہ بازی ہوتی رہی ۔ اگر وہ چپ رہتا تو وہ فائدہ میں رہتا مگر بول کر اس نے صرف نقصان اٹھایا۔

اس آدمی کو یہ غیر ضروری نقصان صرف اس لیے ہوا کہ وہ اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایک مغربی کہاوت ہے کہ ’’دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کو اپنے لیے پسند کر لو‘‘ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کامل برائی اور کامل بھلائی کے درمیان انتخاب کا موقع ہو۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایک برائی اور دوسری برائی کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ مذکورہ آدمی کے سامنے ایک طرف وقتی مسئلہ تھا اور دوسری طرف مستقل مسئلہ۔ اس نے وقتی مسئلہ کو برداشت نہیں کیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو مستقل نقصان برداشت کرنے پر راضی ہونا پڑا۔

ایک ہندی شاعر نے کہا ہے:چوٹ سہے جو شبد کی وائے گرو میں داس‘‘ لفظ کی چوٹ میں نہ خون بہتا اور نہ پاؤں ٹوٹتا مگر آدمی کے لیے وہ لاٹھی اور بھالے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اکثر آدمیوں کا حال یہ ہے کہ وہ لفظ کی نفسیاتی چوٹ کو سہہ نہیں پاتے۔ اس لیے انھیں بڑے بڑے عملی نقصانات سہنے پڑتے ہیں ۔

آدمی اگر لفظ کی چوٹ برداشت کرلے تو وہ نارمل حالت میں رہتا ہے ، وہ اپنی حاضر دماغی کو نہیں کھوتا ۔ اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں رہتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے مسئلہ کے حل کی تدبیر سوچ سکے۔ وہ لفظ کی چوٹ سہہ کر زیادہ کامیابی کے ساتھ وہ چیز حاصل کر لیتا ہے جس کو وہ لفظ کی چوٹ نہ سہہ کر حاصل کرنا چاہتا تھا مگر وہ حاصل نہ کر سکا۔

بوکر واشنگٹن امریکہ کا مشہور نیگرو گزرا ہے۔ ایک روز اس کو ایک ٹرین پکڑنی تھی۔ اس کو گھر سے نکلنے میں دیر ہوگئی وہ تیزی سے سڑک پر آیا تا کہ کسی سواری کے ذریعہ جلد از جلد اسٹیشن پہنچ سکے ۔ وہ ایک گھوڑا گاڑی کے پاس آیا اور ڈرائیور سے کہا کہ میرے پاس وقت کم ہے تم مجھےفوراً اسٹیشن تک پہنچاد و ڈرائیور نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں نے آج تک کسی کالے آدمی کے لیے اپنی گاڑی نہیں چلائی۔ میں تم کو نہیں لے جا سکتا۔

بوکر واشنگٹن نے کہا’’:ٹھیک ہے۔ تم پچھلی سیٹ پر چلے جاؤ ، میں گاڑی چلانے کا کام کروں گا‘‘ یہ سن کر ڈرائیور حیرانی میں پڑ گیا۔ وہ خاموشی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ بوکر واشنگٹن گھوڑے کو ہانکتا ہوا اسٹیشن لے گیا اور گاڑی پکڑ لی۔ زرتشت نے کہا ہے کہ ‘‘ بھلائی کر نافرض نہیں فائدہ ہے کیوں کہ بھلائی تمھارے سکھ میں اضافہ کرتی ہے‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھلائی کر کے آدمی خود اپنے آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔ بوکر واشنگٹن اگر برے الفاظ کے جواب میں برے الفاظ بولتا تو وہ اپنے مسئلہ کو اور زیادہ مشکل بنالیتا۔ کیوں کہ اس کے برے الفاظ گاڑی والے کو برہم کر دیتے اور وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس کو اسٹیشن لے جانے سے انکار کر دیتا مگر بوکر واشنگٹن نے جب برے الفاظ کا جواب بھلے الفاظ سے دیا تو دوسرا آدمی بھی نرم پڑ گیا۔ پہلے اس کا دل جس خدمت کے لیے تیار نہ تھا اب اس نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لیے آمادہ پایا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion