خاتون سنگر کی موت کے بعد
ٹائمس آف انڈیا (30 مارچ 1987) میں ایک رپورٹ جاپان کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے:
Suicide Easy Escape for Japanese Youth.
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 19 سال کے اندر کی عمر کے جاپانی نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ 1985ء میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 557 تھی۔ جب کہ 1986 میں ان کی تعداد 802 تک پہنچ گئی۔
خودکشی کرنے والے اکثر نوجوان وہ تھے جو عمارتوں کی چھتوں سے کود پڑے۔ یہ واقعہ اس کے بعد ہوا جب کہ 18 سالہ خاتون پاپ سنگر یوکیکو اوکادا نے محبت میں ناکامی کے بعد ایک چھت سے کود کر اپریل 1986 میں اپنی جان دے دی تھی۔ نوجوانوں نے بھی اسی کی نقل کی۔ کچھ لوگ جنھوں نے اس طریقہ سے اپنی جان دی وہ مس اوکادا کی موت سے غم زدہ تھے۔ انھوں نے چاہا کہ وہ بھی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور جنّت میں پہنچ کر اپنی دل پسند سنگر سے جاملیں۔ کچھ لوگوں نے مرتے وقت ایسی تحریر چھوڑی جس میں مذکورہ پاپ سنگر خاتون کا نام لکھا ہوا تھا:
Many were youngsters who jumped from roofs of buildings after 18-year old pop singer Yukiko Okada used that method of killing herself in April 1986 because of an unhappy lone affair. Some of the people who died killed themselves because they felt sorry for her (Miss Okada) and wanted to be in heaven with her. A few left notes mentioning the singer.
(Times of India, 30 March, 1987, p. 6)
یہ ان بے شمار نقصانات میں سے ایک نقصان ہے جو عورتوں کو ’’اسکرین‘‘کی چیز بنانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ عورت اگر گھر کو سنبھالے تو وہ نوجوان نسل کو زندگی دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ گھر سے باہر نکل کر لوگوں کی تفریح کا سامان بنے تو وہ نوجوان نسل کو ہلاکت سے دوچار کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
