ایک سائنس داں
تھامس الوا ایڈیسن ( 1931-1847) مشہور امریکی سائنس داں ہے۔ بچپن میں اس کے استاد نے اس کو ایک نا اہل طالب علم قرار دیا تھا۔ مگر اپنی محنت کی بدولت ترقی کرتے کرتے وہ ایک عظیم سائنس داں بن گیا۔ تھامس الوا ایڈیسن جب آٹھ سال کا بچہ تھا اور اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت کا واقعہ ہے۔ ایک روز اس کی خاتون ٹیچر نے اڑنے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ آدمی ’’پر‘‘ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں اڑ سکتا جب کہ چڑیا ’’پر‘‘ ہونے کی وجہ سے اڑتی ہے۔ سارے بچے مطمئن ہو گئے مگر الوا کے ذہن میں ایک مختلف مثال آگئی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ میڈم مگر پتنگ تواڑتی ہے حالانکہ اس کے ’’پر‘‘ نہیں ہوتے۔ ٹیچر بچہ کے اس سوال کا جواب نہ دے سکی۔ مگر اس نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا۔ اور بات کو یہاں تک بڑھایا کہ اَلوا کو اسکول سے نکلوادیا۔ اس نے کہا کہ یہ ایک بے وقوف لڑکا ہے اور بہت زیادہ بولتا ہے۔
تھا مس الواایڈ یسن نے بہت سی سائنسی چیزیں دریافت کیں۔ مثلاً وائر لیس، ٹیلی فون، بجلی، فوٹوگرافی ، بجلی کی روشنی وغیرہ۔ تقریباً ایک سو چھوٹی بڑی ایجادات اس کی طرف منسوب ہیں۔ تھا مس الوا ایڈ یسن جب بچہ تھا تو وہ بہت زیادہ سوالات کرتا تھا۔ اسکول کی خاتون ٹیچر اس کے سوالات کا جواب نہ دے سکی تو اس نے اس معاملے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا اس بنا پر وہ اَلوا کی صلاحیت کو دریافت کرنے میں ناکام رہی۔ مگر اَلو اکی ماں اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھی۔ اس لیے اس نے بہت جلد اس حقیقت کو جان لیا کہ اَلوا کا زیادہ سوال کرنا دراصل اس کی تخلیقی ذہانت کا ثبوت ہے۔ اس نے مادرانہ شفقت کے ساتھ اَلوا کو علم وتحقیق کے راستے پر ڈال دیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک عظیم سائنس داں بن گیا۔
