ابتدائی حالات
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ 2160 تا 1985 ق م ہے۔ چار ہزار سال پہلے وہ اپنے وطن عراق سے نکلے اور اپنے چھوٹے لڑکے اسماعیل کو حجاز (عرب) کے غیر آباد علاقہ میں بسا دیا۔ جب حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انہوں نے قبیلہ جرہم کی ایک نیک خاتون سے نکاح کر لیا۔ ان کے ذریعہ سے یہاں صحرائی ماحول میں ایک نسل تیار ہوئی جس کے اندر انسانی خصوصیات کمال درجہ میں تھیں۔ کیوں کہ ان پر شہری تمدن کا کوئی سایہ نہ پڑا تھا۔ دور دراز کا یہ علاقہ تمدن کی تمام خرابیوں سے یکسر پاک تھا۔ فطرت کے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے ان کے اندر حق گوئی ، جرأت و بہادری اور آزادی کے اعلیٰ انسانی اخلاق موجود تھے۔ اس لیے ان کے اندر متمدن قوموں کے مقابلہ میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔
حضرت ابراہیم اپنے دعوت سفر کے دوران کبھی کبھی یہاں آتے اور اپنے گھر والوں کی پوری نگرانی کرتے۔ جب حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم نے ان کو ساتھ لے کر مکہ میں اللہ واحد کی عبادت کے لیے ایک چھوٹا سا گھر اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اس گھر کی دیکھ بھال حضرت اسماعیل کے ذمہ کی اور اللہ تعالیٰ سے اسماعیل کی نسل کی پرولفریشن (proliferation) کے لیے خدا سے دعا کی۔ یہ پہلا گھر تھا جو صرف خدا کی عبادت کے لیے زمین پر بنایا گیا۔
حضرت اسماعیل کی نسل میں تقریباً 60 پشت کے بعد عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ اس خاندان کا نام قریش تھا۔ عرب کے تمام خاندانوں میں قریش کا خاندان سب سے ممتاز و معزز مانا جاتا تھا۔ اس خاندان میں بڑے بڑے عظیم شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے ، مثلاً عدنان ، نضر ، فہر ، قصی بن کلاب ، وغیرہ۔ قصی اپنے زمانہ میں حرم کعبہ کے متولی بنائے گئے۔ اس کی وجہ سے ان کی عظمت میں بہت اضافہ ہوا۔ قصی نے بہت بڑے بڑے کام کیے۔
قصی سے پہلے قریش کے خاندان مختلف مقامات پر منتشر تھے۔ قصی نے ان سب کو مکہ میں کعبہ کے اطراف میں جمع کیا۔ ان کے لیے گھر بنائے اور ان کو منظم کر کے ایک چھوٹی سی ریاست قائم کی۔ اس طرح قریش کو حجاز میں سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی۔ یہاں سے ان کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے۔
خانۂ کعبہ سارے عرب کا مرکز تھا۔ حج کے موقع پر ہزاروں آدمی یہاں زیارت کے لیے آتے تھے۔ قصی سے پہلے یہاں ان کی میزبانی کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔ قصی نے کہا کہ ان حاجیوں کی میزبانی ہمارا فرض ہے اور اس کام کے لیے انہوں نے باقاعدہ ایک رقم مقرر کی۔ اس رقم سے حاجیوں کے کھانے اور پانی کا انتظام کیا جاتا تھا۔
یہ کام ان کے بعد ان کے خاندان والے کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ حرم کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو تمام عرب میں بڑی عزت اور اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔ عرب میں عام طور پر لوٹ مار کا رواج تھا۔ اس کی وجہ سے راستے محفوظ نہ تھے لیکن قریش چونکہ کعبہ کے متولی تھے اور حاجیوں کی خدمت کرتے اس لیے ان کے قافلہ کو کوئی نہیں لوٹتا تھا اور وہ امن کے ساتھ تجارت کے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔
عبدالمطلب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے ، انہوں نے کعبہ کی تولیت کے زمانہ میں بہت کام کئے۔ سب سے بڑا کام انہوں نے یہ کیا کہ زمزم کا کنواں جو پٹ کر گم ہو گیا تھا اس کو بڑی محنت سے صاف کرایا۔ اس کی وجہ سے ان کی عزت و شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔
عبدالمطلب کے دس لڑکے تھے جن میں سے پانچ بہت مشہور ہوئے۔ ایک عبداللہ جو رسول اللہ کے والد تھے۔ دوسرے ابو طالب جو اگرچہ اسلام نہیں لائے مگر انہوں نے ایک عرصہ تک آپ کی سرپرستی کی۔ تیسرے حضرت حمزہ اور چوتھے حضرت عباس۔ آپ کے ان دونوں چچا نے اسلام قبول کیا۔ پانچویں ابولہب ، ابولہب اپنے اسلام دشمنی کے لیے بہت مشہور ہوا۔
عبدالمطلب کے بیٹے عبداللہ ہر اعتبار سے عرب اوصاف کا نمونہ تھے۔ عبداللہ کا نکاح آمنہ بنت وہب سے ہوا جو قبیلہ زہرہ کے رئیس وہب بن عبد مناف کی لڑکی تھیں۔ وہ قریش کی عورتوں میں عزت اور نسب کے اعتبار سے نہایت شریف خاتون شمار کی جاتی تھیں۔ انہی عبداللہ اور آمنہ سے محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے جو اعلیٰ ترین انسانی اوصاف کا مکمل نمونہ تھے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد عبداللہ کا انتقال ہو گیا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ربیع الاول کے مہینہ میں 22 اپریل 571ء کو ہوئی۔ آپ کی پیدائش کی اطلاع آپ کے دادا عبدالمطلب کو ملی تو وہ آپ کو لے کر کعبہ میں گئے ۔ وہاں انہوں نے نومولود بچے کے لیے دعا مانگی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آپ کی پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد رکھا۔ عقیقہ کی اس تقریب میں قبیلۂ قریش کے تمام لوگ شریک ہوئے۔
محمد کا نام عرب میں بالکل نیا تھا۔ قریش نے اس غیر مانوس نام رکھنے کا سبب پوچھا تو عبدالمطلب نے کہا:تاکہ ساری دنیا میں میرے بیٹے کی تعریف کی جائے۔
عرب کے اونچے گھرانوںمیں یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے بچہ کو دودھ پلانے کے لیے کسی صحرائی خاتون کے حوالے کر دیتے تھے تاکہ بچے کی ابتدائی پرورش کھلی فضا میں ہو سکے اور وہ فصیح عربی زبان بھی سیکھ جائے۔ بدوؤں ، جو کہ دیہات و قصبات میں رہتے تھے ، ان کی زبان نہایت فصیح ہوتی تھی۔ اس رواج کے مطابق ، آپ کو قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک عورت حلیمہ بنت ابی ذُویب کے حوالہ کر دیا گیا۔ یہی وہ خاتون ہیں جو حلیمہ سعدیہ کے نام سے مشہور ہیں۔
حلیمہ سعدیہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنی بستی سے قبیلہ کی چند عورتوں کے ساتھ اس تلاش میں نکلی کہ دودھ پینے والا بچہ ملے تو اس کو اپنے ساتھ لے آؤں۔ میں ایک گدھی پر سوار تھی۔ ہم لوگ پرمشقت سفر کے بعد مکہ پہنچے۔ ہم میں کوئی عورت ایسی نہ تھی جسکے سامنے ’’محمد‘‘ کو پیش نہ کیا گیا ہو۔ مگر جب اس کو معلوم ہوتا کہ آپ یتیم ہیں تو وہ آپ کو لینے سے انکار کر دیتی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ بچہ کے باپ کی طرف سے اچھے سلوک کی امید رکھتے تھے۔ ہر عورت یہ سوچتی کہ جب وہ یتیم ہے تو اس کے ماں اور دادا سے کیوںکر اچھے سلوک کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس لیے کسی ن ے آپ کو لینا پسند نہ کیا۔
حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ آئی ہوئی عورتوں میں سے ہر عورت کو کوئی نہ کوئی دودھ پینے والا بچہ مل گیا۔ صرف میں باقی رہ گئی۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی بچہ کو لیے بغیر یہاں سے واپس جاؤں۔ اب میں اس یتیم کے پاس جاؤں گی اور اس کو لے آؤں گی۔ میرے شوہر نے کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے برکت دے دے۔ چنانچہ میں دوبارہ آپ کے گھر گئی اور آپ کو لے آئی۔ میرے اس فعل کا سبب اس وقت اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مجھے آپ کے سوا کوئی اور بچہ نہ ملا ۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم دو سال اور کچھ مہینے حلیمہ سعدیہ کے پاس رہے۔ یہ زمانہ خود حلیمہ سعدیہ کے لیے بڑے خیر و برکت کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو آپ کی ماں کے پاس مکہ پہنچا دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ آمنہ اور اپنے دادا عبدالمطلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حفاظت میں تھے۔ اللہ تعالیٰ جس مقام تک آپ کو پہنچانا چاہتا تھا ، اس کے لحاظ سے آپ کی بہترین پرورش فرما رہا تھا۔ جب آپ چھ سال کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔
اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داد عبدالمطلب بن ہاشم کے ساتھ رہنے لگے۔ عبدالمطلب مکہ کے باعزت لوگوں میں سے تھے۔ ان کے لیے کعبہ کے پاس فرش بچھایا جاتا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں آتے تو وہ بھی اس فرش پر بیٹھ جاتے۔ اگر کوئی آپ کو ہٹاتا تو عبدالمطلب کہتے کہ میرے بچہ کو چھوڑ دو، خدا کی قسم وہ بہت شان والا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہ واقعہ عام الفیل کے آٹھ سال بعد پیش آیا۔
عبدالمطلب کے انتقال کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ ابو طالب ایک تاجر تھے۔ وہ اپنی تجارت کے سلسلہ میں شام کی طرف جانے لگے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کا شوق ظاہر کیا۔ اگرچہ اس وقت آپ کم عمر تھے مگر ابو طالب نے شفقت کی بنا پر ان کو اپنے ساتھ لے لیا۔
ان کا تجارتی قافلہ شام کے شہر بُصریٰ میں اترا۔ یہاں کے کلیسا میں ایک مسیحی راہب رہتا تھا جس کا نام بُخیرہ تھا۔ بحیرہ نے قدیم مذہبی کتابوں کو پڑھا تھا کہ عرب سے ایک پیغمبر ظاہر ہوں گے۔ اس نے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو بعض علامتوں سے اس نے پہچان لیا کہ یہی بچہ وہ شخص ہے جس کو خدا کی طرف سے آخری پیغمبر بنایا جانے والا ہے۔ چنانچہ اس نے آپ کی اور پورے قافلہ کی دعوت کی۔ بحیرہ نے ابو طالب سے پوچھا کہ اس لڑکے کا تم سے کیا رشتہ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ بحیرہ نے کہا کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ اس لڑکے کا باپ زندہ نہ ہونا چاہیے۔ جب ابو طالب نے بتایا کہ آپ کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے تو بحیرہ نے کہاکہ تم اپنے بھتیجے کو لے کر اپنے وطن واپس جاؤ اور یہود سے ان کی حفاظت کرو۔ خدا کی قسم، اگر انہوں نے اس کو پہچان لیا تو وہ ضرور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوانی کے مرحلہ میں اس طرح داخل ہوئے کہ اللہ آپ کی نگرانی کررہا تھا تاکہ جاہلیت کی کوئی گندگی آپ کونہ لگ سکے۔ آپ سن بلوغ کو پہنچے تو آپ کا حال یہ تھاکہ مکہ کے لوگوں میں آپ سب سے بہتر اخلاق والے اور سب سے زیادہ شریف اور سنجیدہ انسان کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے۔ آپ سے کبھی کسی کو بدکلامی یا وعدہ خلاف کا تجربہ نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ آپ کے جاننے والے آپ کو امین کہنے لگے۔
آپ جس زمانہ میں مکہ میں تھے ، ایک قبائلی جھگڑے کی بنا پر قریش اور بنو قیس کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ اس لڑائی کو حرب فُجار کہا جاتا ہے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔
جب آپ 25 سال کے ہوئے تو قریش کی ایک بیوہ خاتون ، خدیجہ بنت خویلد کی طرف سے آپ کو نکاح کا پیغام ملا۔ خدیجہ کی عمر اس وقت 40 سال ہو چکی تھی۔ وہ مکہ کی ایک شریف اور مالدار خاتون شمار ہوتی تھیں۔ وہ ایک تجارتی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور خود بھی لوگوں کے ذریعہ تجارت کرتی تھیں اور نفع کا ایک حصہ انہیں دے دیتی تھیں۔
ابتدامیں جب ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور امانت داری کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرا مال لے کر میرے غلام میسرہ کے ساتھ شام جائیں۔ میں آپ کو اس سے زیادہ معاوضہ دوں گی جتنا کہ میں دوسروں کو دیتی ہوں۔ آپ سامان فروخت کر کے دوبارہ مکہ واپس آئے اور اس کی رقم خدیجہ کو دی تو وہ بہت خوش ہوئیں کیوں کہ انہیں اس سے دگنا فائدہ حاصل ہوا تھا۔
ان تجربوں کے بعد خدیجہ پر آپ کے اخلاق اور آپ کی شخصیت کا بہت زیادہ اثر پڑا۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اپنے چچا سے مشورہ کے بعد اس پیغام کو قبول کر لیا۔ خدیجہ پہلی خاتون تھیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا۔ان کی زندگی میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہ کیا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئیں۔ آپ کے فرزند ابراہیم جو بچپن میں انتقال کر گئے ، ان کے سوا آپ کی تمام اولاد خدیجہ بنت خویلد سے تھی۔
آپ کے تمام فرزند بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ صاحبزادیوں میںرقیہ ، زینب ، ام کلثوم اور فاطمہ ، زمانۂ اسلام تک رہیں۔ وہ سب آپ پر ایمان لائیں اور آپ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 35 سال تھی۔ اس وقت قریش نے کعبہ کی نئی تعمیر کا ارادہ کیا۔ انہوں نے سا بقہ تعمیرکو ڈھا دیااور پتھر جمع کرکے نئی دیوار بنانا شروع کیا۔ جب دیوار کی بلندی وہاںتک پہنچی جہاں حجراسود کو نصب کرنا تھا تو قبیلوںمیں جھگڑا ہو گیا۔ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہ حجراسود کو اٹھا کر اس کے مقام پررکھے۔ کوئی شخص یہ حق دوسرے کو دینے پر راضی نہ تھا۔ یہ اختلاف یہاں تک بڑھا کہ لوگ جن پر آمادہ ہو گئے۔ یہ صورت حال غالباً 5 دن تک جاری رہی۔ آخر ان کے بعض بڑوں نے مداخلت کرکے انہیں آمادہ کیاکہ وہ باہم مشورہ کریں اور مسئلہ کا پرامن حل تلاش کریں۔
کہا جاتا ہے کہ ابوامیہ بن مغیرہ جو قریش کا ایک بوڑھا آدمی تھا ، ان نے یہ تجویز پیش کی کہ کل صبح کو جو پہلا شخص مسجد کے اندر داخل ہو اس کو ثالث بنا لیا جائے اور اس کے فیصلہ کی روشنی میں اس اختلافی مسئلہ کو حل کیا جائے۔ سب نے یہ رائے مان لی۔
اگلے دن جب وہ لوگ بیت اللہ میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، انہوں نے آپ کو دیکھ کر کہا یہ تو امین (محمد) ہیں۔ ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ لوگوں کی درخواست پر آپ نے کہا کہ میرے پاس ایک چادر لے آؤ۔
جب چادر لائی گئی تو آپ نے حجراسود کواٹھا کر اس چادر میں رکھ دیا اورکہاکہ ہر قبیلہ کا سردار چادر کے کنارے کو پکڑ لے۔ اس طرح سب مل کر اس کو اٹھائیں ، انہوں نے ایساہی کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر مقام نصب تک پہنچے تو آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کرمطلوبہ جگہ پررکھ دیا۔ اس کے بعد کعبہ کی تعمیر دوبارہ جاری ہو گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی زندگی کے بارےمیں بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ یہاں چند مزید واقعات مختصر طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔
قدیم عرب میں تین اشخاص— فضل بن فضالہ ، فضل بن وداعہ، فضیل بن حارث۔ انہوں نے باہم مل کرایک معاہدہ مرتب کیا۔ ان لوگوں کے نام کے آغاز میں چونکہ ’’فضل‘‘ تھا ، اس لیے یہ معاہدہ حلف الفضول کے نام سے مشہور ہوا۔ ابن ہشام نے اس کی بابت زبیر بن عبدالمطلب کے کچھ اشعار نقل کیے ہیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے کہ فضل نامی اشخاص نے حلف لیا اور باہم معاہدہ کیا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا:
إنّ الْفُضُولَ تَحَالَفُوا، وَتَعَاقَدُوا أَلّا يُقِيمَ بِبَطْنِ مَكّةَ ظَالِمُ
مذکورہ اشخاص کے انتقال کے بعد یہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً پندرہ سال کی تھی کہ عرب میں وہ خانہ جنگی ہوئی جس کو حرب الفجار کہا جاتا ہے۔ اس میں قریش اور قیس کے قبیلے آپس میں لڑے تھے۔ اس کے بعد بدامنی بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ لوگوں کو خیال ہوا کہ حلف الفضول کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
کہا جاتا ہے کہ یمن کا ایک شخص مکہ آیا۔ اس نے اپنا تجارتی سامان العاص بن وائل السہمی کے ہاتھ فروخت کیا۔ اس نے سامان کی پوری قیمت ادا نہ کی۔ اس کے بعد مذکورہ آدمی نے کچھ اشعار کہے۔ ان اشعار میں اپنی مظلومی بیان کی اور اس پر فریاد کی۔ اس سے مکہ والوں کی غیرت بھڑک اٹھی۔ زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بہت سے لوگ عبداللہ بن جدعان کے گھر پر جمع ہوئے۔
گفتگو اور مشورہ کے بعد طے ہوا کہ حلف کی تجدید کی جائے۔ چنانچہ لوگوں نے دوبارہ عہد کیا اور اس بات کا وعدہ کیا کہ مکہ میں اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی ظلم کیا جائے گا ، خواہ وہ یہاں کا باشندہ ہو یا باہر سے آیا ہو تو تمام لوگ اس کا ساتھ دیں گے اور ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ مظلوم کو اس کا حق ادا کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعثت سے پہلے اس معاہدہ میں شریک تھے۔ آپ نے ایک بار فرمایا کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر پر معاہدہ کے وقت موجود تھا۔ میں سرخ اونٹوں کو لے کر بھی اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہ کروں گا اور اگر زمانۂ اسلام میں مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور اس کو قبول کروں گا (الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ103)۔
اس زمانہ میں عربوں کے درمیان اس قسم کے اور بھی اخلاقی اور اصلاحی معاہدے تھے۔ مثلاً بنو عبدالدار اور ان کے حامیوں نے ایک بار کعبہ کے پاس جمع ہو کر قسمیں کھائیں اور یہ عہد کیا کہ وہ ایک دوسرے کو بے امداد نہ چھوڑیں گے اور ایک کو دوسرے کے حوالے نہ کریں گے(الطبقات الکبریٰ، جلد1، صفحہ 63)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے اصلاحی معاہدوں کو ختم نہیں کیا ، بلکہ ان کی توثیق فرمائی۔ آپ نے کہا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جو بھی معاہدہ تھا ، اسلام نے اس کے استحکام ہی کو مزید بڑھایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے پہلے تجارت کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی الحمساء کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے ایک بار آپ سے لین دین کا معاملہ کیا ، میرے ذمہ کچھ دینا باقی تھا۔ میں نے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریئے، میں ابھی رقم لے کر آتا ہوں۔ گھر آنے کے بعد اتفاق سے میں اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد مجھے وعدہ یاد آیا۔ میں فوراً روانہ ہو کر وعدہ کے مقام پر پہنچا۔ میں نے پایا کہ آپ اسی مقام پر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے مجھے ملامت نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ تم نے مجھے زحمت دی۔ میں تین دن سے اسی جگہ تمہارا انتظار کر رہا ہوں(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر4996 )۔
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کرتا تھا۔ بعد کو جب میں مدینہ آ کر آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ کو پہچانتے ہو۔ میں نے کہا کہ کیوں نہیں۔ آپ تو میرے شریک تجارت تھے اور آپ کیسے اچھے شریک تھے۔ نہ کبھی دھوکا دیتے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے (مسند احمد، حدیث نمبر15500 )۔
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کوئی نبی ایسا نہیں جس نے کبھی بکریاں نہ چَرائی ہوں۔ صحابہ نے کہاکہ کیا آپ نے بھی۔ رسول اللہ نے کہا کہ ہاں ، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے معاوضہ پر چرایا کرتا تھا۔
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مقام ظہران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ وہاں ہم لوگ پیلو کے پھل چننے لگے۔ آپ نے فرمایاکہ سیاہ پھل دیکھ کر توڑو، وہ زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہاکہ کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں جس سے آپ کو یہ بات معلوم ہوئی۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں اور میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر2149 )۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کادوسرا سفر اس وقت کیا جب کہ آپ کی عمر تقریباً 25 سال تھی۔ اس زمانہ میں قریش کے کچھ لوگ مضاربت کے اصول پر تجارت کیا کرتے تھے۔اس تجارتی سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ لین دین کے کسی معاملہ میں ایک شخص سے آپ کا اختلاف ہو گیا۔اس نے کہاکہ لات و عزّیٰ کی قسم کھاؤ تو میں مان جاؤں گا۔ آپ نے کہاکہ میں نے آج تک کبھی لات و عزّیٰ کی قسم نہیں کھائی۔ اگر کبھی اتفاقاً لات و عزّیٰ سے میرا گزر ہوتا ہے تو میں اعراض کر کے وہاںسے گزر جاتا ہوں۔
نبوت سے پہلے بھی آپ شرک اور بداخلاقی سے دور رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کے سیرت نگار ابو محمد عبدالملک بن ہشام نے ابن اسحاق کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:
’’پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح جوان ہوئے کہ اللہ آپ کی نگرانی اور حفاظت کررہا تھا۔ اور جاہلیت کی گندگیوں سے آپ کو بچائے ہوئے تھا۔ کیوں کہ اللہ چاہتا تھاکہ وہ آپ کو عزت اور پیغمبری عطا فرمائے۔ یہاں تک کہ آپ اس نوبت کو پہنچ گئے کہ آپ اپنی قوم کے اندر مردانگی میں سب سے افضل اور ان میں سب سے بہتر اخلاق والے ہو گئے۔ حسب و نسب میں سب سے شریف اور ہمسائیگی میں سب سے اچھے ہو گئے۔ بردباری میں سب سے اعلیٰ اور بات چیت میں سب سے زیادہ سچے ہو گئے۔ امانت داری میں سب سے اونچے ہو گئے۔ اسی طرح برے اخلاق میں آپ سب سے زیادہ دور ہو گئے۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کو الامین کہا جانے لگا۔ (سیرۃ ابن ہشام،جلد1، صفحہ 197)
