اخلاق کی طاقت

1933ء کا واقعہ ہے۔ فتح گڑھ(اترپردیش) کے علاقہ میں سکھوا نامی ڈاکو نے سنسنی پھیلا رکھی تھی۔ اس کی لوٹ مار بے پناہ ہوتی جا رہی تھی۔ پولیس کے افراد تک کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ اس کی گولیوں کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔ مگر عین اس زمانہ میں بھی ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی فہرستِ انتقام سے مستثنیٰ تھا۔ یہ سید صدیق حسن آئی سی ایس (وفات1963ء) تھے۔ صدیق حسن صاحب اس زمانہ میں فتح گڑھ میں جوائنٹ مجسٹریٹ تھے۔ سکھوا ڈاکو کے خلاف پولیس کی مہم انہیں کی ماتحتی میں چلائی گئی۔ مہینوں کی جدوجہد کے بعد سکھوا ڈاکو گرفتار ہوا اور صدیق حسن صاحب نے اس کے مقدمہ کی سماعت کر کے اس کو سزا کا حکم سنایا۔ مگر عین اس زمانہ میں جب کہ صدیق حسن صاحب سکھوا ڈاکو کے خلاف مہم کی قیادت کر رہے تھے، سکھوا ڈاکو نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے بتایا کہ وہ اکثر رات کو صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر آتا تھا۔ مگر ان کی شرافت کا خیال کر کے کبھی ان پر گولی نہیں چلائی۔

سید صدیق حسن صاحب کی وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے ایک ڈاکو بھی ان کی تعریف اور عزت کرتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتاہے جو خود سکھوا ڈاکو نے بتایا۔ اس نے کہا کہ ایک بار پولیس والے اس کو گرفتار کر کے سید صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر لائے۔ یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سکھوا نے صدیق حسن صاحب سے کہا:’’جنٹ صاحب آپ کا سکھوا سردی کھا رہا ہے‘‘۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب فوراً اندر گئے۔ اپنی نئی ریشمی قمیص اور کمبل لائے اور اس کو ڈاکو کے حوالے کرتے ہوئے کہا: ’’لو اس کو استعمال کرو۔ یہ تمہارے لیے ہے(17مئی1968ء)۔

کوئی شخص خواہ کتنا ہی نہتا ہو اس کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنے حریف کو جیت سکے ۔ یہ اخلاق کا ہتھیار ہے۔ ایک حکیم صاحب تھے۔ وہ شہر میں مطب کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن اپنے گاؤں آیا کرتے تھے۔ ان سے ان کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دشمنی ہوگئی۔ انہوں نے ایک آدمی کو چند سو روپے دیے اور کہا کہ رات کو جب حکیم صاحب واپس آ رہے ہوں تو ان کو پکڑ کر مار ڈالو۔ غریب آدمی روپے کے لالچ میں تیار ہوگیا اور گاؤں کے باہر پل کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا۔ حکیم صاحب پل کے پاس پہنچے تو وہ جھپٹ کر سامنے آگیا۔ حکیم صاحب اس کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کو مار ڈالنا چاہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔ اس کے بعد انہوں نے کہا’’کیا تم کو وہ دن یاد نہیں جب تم اپنے چھوٹے بچے کو ٹوکرے میں رکھ کر میرے پاس لائے تھے۔ بیماری نے اس کا برا حال کر دیا تھا اور تمہارے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ میں نے تمہارے لڑ کے کا مفت علاج کیا اور وہ اچھا ہوگیا کیا میرے اس احسان کا بدلہ وہی ہے جو تم اب میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو‘‘۔ یہ سنتے ہی آدمی نے اپنی لاٹھی پھینک دی اور حکیم صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے کہا:’’آپ نے سچ کہا۔ میں روپے کے لالچ میں آپ کو مارنے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ مگر اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ آپ مجھے معاف کردیں‘‘۔ ایک جانور کو کسی قسم کی اخلاقی دلیل حملہ کرنے سے روک نہیں سکتی۔ مگر انسان کو جیتنے کے لیے ایک اخلاقی دلیل بھی کافی ہے بشرطیکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک اخلاقی دلیل ہو ، نہ کہ محض الفاظ کا ایک مجموعہ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion