جاپان کی مثال
دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپانی ایک عسکری قوم (militarist people) کی حیثیت رکھتے تھے۔1945ء میں جاپان امریکی فوج کے مقابلے میں ہار گیا۔ اس کے بعد جنرل میک آرتھر (Douglas Mac Arthur) کو جاپان کا سپریم کمانڈر بنایا گیا۔ وہ 1945ء سے 1951ء تک جاپان کے فوجی حکمراں رہے۔
امریکی پالیسی کے تحت میک آرتھر کا خاص مشن یہ تھا کہ جاپان کی فوجی طاقت کو توڑیں اور اس کی عسکریت کو ختم کریں۔ اس مقصد کے لیے میک آرتھر نے وہ تدبیراختیار کی جس کو رخ پھیرنا (diversion) کہا جاتا ہے۔ یعنی جاپانیوں کو سیاسی ٹکراؤ سے ہٹا کر تعلیم اور صنعت کے میدان میں سرگرم کرنا۔ جاپان میں جنرل میک آرتھر کے مقصد کو، ایک جملہ میں ، اس طرح بیان کیا گیا ہے— اس جنگجو قوم کے جذبۂ عمل کو عسکریت سے ہٹا کر معاشی میدان میں سرگرم کرنا:
‘‘To channel the drive of this aggressive people away from militarism and into economic ambition.’’
اب جاپان کے لیے دو راستے تھے۔ایک یہ کہ وہ میک آرتھر کے منصوبے کو ’’امریکی سازش‘‘ قرار دے کر اس کے خلاف احتجاج اور ٹکراؤ کا منفی عمل شروع کر د ے۔ دوسرے یہ کہ وہ پیش آمدہ صورت حال کو مان لے اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے لیے نیا مستقبل بنانے کی کوشش کرے۔ جاپان نے پہلے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا۔
جنگ کے بعد کی چالیس سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ جاپان کی پالیسی نہایت کامیاب رہی۔ جاپان اگر ٹکراؤ کے راستے پر چلتا تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ امریکہ سے دوبارہ لڑائی چھڑ جاتی۔ جاپان کے بچے ہوئے وسائل بھی برباد ہو جاتے۔ مگر جب ا س نے امریکی منصوبے سے موافقت کر لیا تو اس کو امریکہ سے زبردست تعاون ملا۔ وہ امریکہ کی ’’چھتری‘‘ کے نیچے صنعتی ترقی کرنے لگا۔ اس طریقے پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان نے نصف صدی سے کم عرصے میں پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ حتیٰ کہ خود فاتح امریکہ کو اپنے مقابلےمیں بالآخر دفاعی حیثیت میں ڈال دیا۔
موجودہ دنیا میں یہی زندگی اور ترقی کا راز ہے۔ یہاں دشمن کی تخریبی سازشوں میں اپنے لیے تعمیری پہلو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ یہاں اغیار کے مخالفانہ منصوبوں کو اپنے موافق زینے کے طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس دانش مندی کا ثبوت دیں، وہی امتحان کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس برتر عقل کا ثبوت نہ د ے سکیں، ان کے لیے اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
