کائنات کاابتدائی دھماکہ
ربّانی تعقّل کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔قرآن کی سورہ نمبر21میں کائناتی واقعہ کاذکرکیاگیاہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:کیاانکارکرنےوالوں نےنہیں دیکھاکہ آسمان اورزمین بندتھےپھرہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نےپانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیاپھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے(21:30)۔
اس آیت میں رتق اورفتق کالفظ ہے۔رتق کےمعنی ہیں کسی مجموعہ کا مخلوط یا منضم ہونا۔ اس سے مراد کائنات کا اصل مادہ ہے جو ابتدائی وقت میں ایک منضم الاجزاء کی صورت میں تھا۔ پھر اس ابتدائی مجموعہ میں دھماکہ ہواجس کےبعداس کےاجزاءوسیع خلا میں بکھر گئے اور پھر ایک لمبے عمل کے بعد موجودہ کائنات بنی۔ قرآن کی اس آیت کوقدیم مفسرین اس کےسادہ لفظی مفہوم کےاعتبارسےلیتےتھے۔اپنےسادہ لفظی مفہوم کے اعتبارسےبھی یہ آیت اہل حق کےلیے عظیم ایمانی فائدےرکھتی ہے۔ مگرموجودہ زمانہ میں جوتحقیقات ہوئی ہیں ان سےقرآن کےاس مجمل بیان کی تفصیل سامنےآئی ہے جو گویایقین اورمعرفت کا نیا دروازہ کھولنےوالی ہے۔
جدید فلکیاتی سائنس بتاتی ہے کہ تقریباً بیس بلین سال پہلے خلا میں ایک سپرایٹم تھا۔ اس میں اچانک دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے اور آخرکار انہوں نے موجودہ کائنات کی صورت اختیارکی۔ اسی سے موجودہ تمام اجرام بنے جن میں سےایک ہماری یہ زمین بھی ہے۔
دھماکہ(explosion)کی دوقسمیں ہیں۔ منصوبہ بند دھماکہ، اور منصوبہ کے بغیر خود بخود ہونے والا دھماکہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کےدھماکوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ بلامنصوبہ جودھماکےہوتےہیں وہ صرف تخریب کاسبب بنتےہیں۔مثلاً کسی بم یابم کے ذخیرے کا اپنے آپ پھٹ جانا۔ اس قسم کادھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیداکرتاہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہےجوسوچے سمجھےمنصوبہ کےتحت کیاجائے۔مثلاًپہاڑکےدرمیان سےسرنگ نکالنے کےلیے منصوبہ بندطورپرچٹانوں میں دھماکہ کرنا۔اس دوسری قسم کادھماکہ ہمیشہ مفیداورتعمیری نتیجہ پیداکرتاہے۔
جیساکہ معلوم ہے،کائنات کےآغازمیں سائنس کی تحقیق کےمطابق،بگ بینگ (big bang) کی صورت میں دھماکہ ہوا،اس سےانتہائی مفید اور بامعنی نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتاہےکہ یہ دھماکہ یقینی طورپرایک منصوبہ بند دھماکہ تھا۔ایک منصوبہ سازہستی نےاپنےمتعین منصوبے کےتحت اپنےنقشے کے مطابق، بالقصدیہ دھماکہ کیا۔ چنانچہ اس سے عین وہی بامعنی نتائج ظاہرہوئےجومنصوبے کےمطابق اس سے مطلوب تھے۔
اس جدیدتشریح کےمطابق،مذکورہ آیت کےیہ الفاظ کہ کیا انکار کرنےوالوں نے نہیں دیکھا — اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا(21:30)— نہایت بامعنی ہوجاتےہیں۔ کائنات کایہ ثابت شدہ آغازخالص علم انسانی کی سطح پراس حقیقت کوثابت کر رہاہےکہ اس کائنات کاایک خالق ہے۔اس نےنہایت بامعنی منصوبے کےتحت اس کائنات کو بنایا ہے۔اس حقیقت کےثابت ہونےکےبعدیہ بات اپنےآپ ثابت ہوجاتی ہےکہ انسان اورکائنات کی تخلیق بےمقصدنہیں ہوسکتی۔جیساکہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا:رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا (3:191)۔ یعنی، اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کا انکار کریں ان کےلیے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجودنہیں۔
ربّانی تعقّل کامطلب یہ نہیں ہےکہ یہ ثابت کیاجائےکہ سائنس کےتمام مضامین قرآن میں موجودہیں،یایہ کہ ساری کی ساری سائنس خودقرآن سےاخذکی گئی ہے۔ اس قسم کی باتیں اسلام اورسائنس دونوں سےبےخبری کانتیجہ ہیں۔اس قسم کی بات اصلاً قرآن کی تفسیرنہیں ہےبلکہ وہ قرآن کے حوالے سے اپنے قومی فخرکو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔اس سےزیادہ اس کی کوئی اورحیثیت نہیں۔
ربّانی تعقّل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کےذریعے نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں،ان کی روشنی میں قرآن کےاشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔ یہ وہی چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ— لَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ(سنن الترمذی، حدیث نمبر3130)۔ یعنی، قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کےبارےمیں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یقینی طور پر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانے میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
