مدینہ میں اسلام کا آغاز
اسلام سے پہلے مکہ میں اور اس کے آس پاس میلے لگتے تھے۔ ذی قعدہ کے آغاز میں عکاظ کا مشہور میلہ لگتا تھا۔لوگ یہاں سے فارغ ہوکر مجنّہ کے میلے میں جاتے تھے جو تین ہفتے تک چلتا تھا۔ اس کے بعد ذوالمجاز کامیلہ تھا جو حج کے دنوں میں ہوتا تھا۔ ان میلوں کا اصل مقصد تجارت تھا۔اس کے ساتھ ان مواقع پر شعر و شاعری اور پہلوانی کے مقابلے ہوتے اور شراب و کباب کے دور چلتے۔ ان میلوں میں دور دور کے لوگ آ کر شریک ہوتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میلوں کا گشت شروع کیا۔ آپ ہر ہرقبیلہ کے پڑاؤ پر جا کر اس کو اسلام کا پیغام سناتے۔ اس زمانہ کا واقعہ آپ کے ایک ساتھی بتاتے ہیں جب کہ وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ انہوں نے کہا، میں ذوالمجاز کے بازار میں تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان دو سرخ یمنی چادروں میں ملبوس گز ر ہا ہے۔ وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا:يَاأَيُّهَاالنَّاسُ قُولُوا:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا(مسند احمد، حدیث نمبر16022)۔یعنی، اے لوگو، لا الہٰ الا اللہ کہو، کامیاب ہو گے۔ لوگ اس کی بات سننے کے لیے اس کے چاروں طرف جمع ہو رہے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے پیچھے چل رہا ہے۔ اس نے پتھر مار مار کر آپ کی پنڈلیاں اورٹخنے خون آلودکر رکھے تھے اور وہ کہتا جا تا تھا’ ’اے لوگو یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ ماننا‘‘۔میں نے پو چھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا یہ محمد نام کا ایک ہاشمی نو جوان ہے جو اپنے کو رسول بتاتا ہے۔ اور اس کے پیچھے دوسرا شخص اس کا چچا عبدالعزی ٰ(ابولہب ) ہے۔
حضرت محمد اس طرح میلوں میں جا جا کر تبلیغ کرتے تھے۔ ایک بار منٰی کے قریب مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو بھی اسلام کی طرف بلایا۔ مکہ کے تجربہ کے خلاف مدینہ والوں نے آپ کی بات کو تو جہ سے سنا اور ان کی ایک تعداد اس وقت مسلمان ہو گئی۔
مدینہ اس زمانہ میں یثرب کہلا تا تھا۔ اور مکہ کے چارسو کیلومیٹر کے فاصلہ پر مکہ کے شمال میں واقع تھا۔ یثرب کے آس پاس یہودیوں کے کئی قبیلے آباد تھے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں جب عراق کے بادشاہ بخت نصر نے فلسطین پر حملہ کیا اور بیت المقدس کو تاراج کر کے یہودیوں کو وہاں سے جلاوطن کر دیا توان کے بعض قبیلے عرب کی طرف بھاگ آئے اور خیبر، فدک اور یثرب میں آباد ہو گئے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ مسیح سے 120 سال قبل جب یمن میں مشہور سیلاب (سیل عرم )آیا اور وہاں کے لوگ دوسرے ملکوں میں جا کر بسے تو انہیں میں دو بھائی اوس اور خزرج تھے جو اپنے خاندانوں کے ساتھ یثرب میں آکر بس گئے۔ یہاں مزدوری اور کاشتکاری ان کے لیے گزر بسر کا ذریعہ تھا۔ ان کی آبادی بڑھی، یہاں تک کہ اوس اور خزرج دو بڑے بڑے قبیلے بن گئے۔
یہودیوں کے لیے اوس اور خزرج کے قبیلے مزدور فراہم کرنے کا ذریعہ تھے۔ اس کے علاوہ ان کا سودی کاروبار بھی ا نہیں لوگوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ یہودی اقتصادی طور پر برتر ہونے کے باوجود انسانی طاقت میں کمزور تھے۔ چنانچہ جب بھی جھگڑا ہوتا تو یہودی نہیں دھمکاتے کہ ’’ہماری مذہبی کتابوں کے مطابق عنقریب ایک بہت بڑے نبی پیدا ہونے والے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں گے اور تم کو عاداور ارم کی طرح مٹاد یں گے‘‘۔
یہ پس منظر تھا جب نبوت کے گیارہویں سال اوس اور خزرج کے لوگوں کو حضرت محمد کا پیغام ملا۔یہ لوگ عمرہ کی غرض سے مدینہ سے مکہ آئے تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا اور آپ کی باتیں سنیں تو ان کے وہ خیالات جاگ اٹھے جو انہوں نے اپنے پڑوسی یہودیوں سے سن رکھے تھے،ایک نے دوسرے سے کہا:
’’یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا یہودی ہم سے تذکرہ کرتے تھے۔‘‘
چنانچہ یثرب کے چھ آدمیوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ اگلے سال 621ء میں یثرب کے لوگ زیارت کعبہ کے لیے آئے تو وہاں کے مسلمانوں کی تعداد بارہ ہو چکی تھی۔ دس ایک قبیلہ کے تھے اور دو دوسرے قبیلہ کے۔ان لوگوں نے مکہ پہنچ کر ایک گھاٹی (عقبہ) میں حضرت محمد سے ملاقات کی اور مد ینہ میں اسلامی دعوت کے بارے میں مشورہ کیا۔ اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ بیعتِ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ ان لوگوں نے حضرت محمد کے ہاتھ ان شرائط پر بیعت کی:
1۔ ایک خدا کے سواکسی کی عبادت نہ کر یں گے۔
2۔ کسی کا مال نہ چرائیں گے۔
3۔ زنانہ کر یں گے۔
4۔ اپنی اولا دکوقتل نہ کر یں گے۔
5۔ کسی پر جھوٹی تہمت نہ لگائیں گے۔
6۔ نیک کاموں میں پیغمبر کی نافرمانی نہ کر یں گے۔
یثرب کے یہ مسلمان اپنے وطن واپس ہونے لگے تو حضرت محمد نے ان کی تبلیغی اور تعلیمی مدد کے لیے اپنے دو آدمیوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ یہ عبد اللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر تھے۔ ان دونوں نے یثرب پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو پچھلے سال اسلام لا چکے تھے۔ مدینہ کی فضا تبلیغِ اسلام کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔ کیوں کہ یہودیوں کے پڑوس کی وجہ سے وہ آنے والے پیغمبر سے آشنا ہو چکے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ آنے والا پیغمبر یہودی اور عیسائیوں کے بجائے خود ان کی قوم ( عرب) میں پیدا ہوا ہے تو وہ اور بھی خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا، اب تک ہم یہودیوں کے مقابلہ میں اس لیے کمتر تھے کہ ان کے پاس آسمانی کتاب ہے اور ہمارے پاس نہیں ہے۔
اب ہم عر بی پیغمبرپر ایمان لاکر آسمانی کتاب کے مالک بن سکتے ہیں۔
یثرب میں اسلام کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ عبداللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر ایک طرف مسلمانوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دیتے ، دوسری طرف عام باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرتے۔ اس تبلیغ کاذریعہ زیادہ تر یہ ہوتا کہ وہ لوگوں کوقر آن کی آیتیں پڑھ کر سناتے جس کے اندرعر بی زبان جاننے والے کے لیے بے پناہ تاثیری صلاحیت ہے۔ یثرب کے ایک سردار اُسید بن حضیر تھے۔ ان کوان مبلغین اسلام کی سرگرمیاں پسند نہ آئیں۔ایک روز تلوار لے کر ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے’’تم لوگ ہمارے بچوں اور عورتوں کو کیوں بہکاتے ہو۔تم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ اچھا نہ ہوگا۔‘‘
’’ جو کچھ ہم کہتے ہیں ، آپ بھی اسے سنیں۔اگر پسند آئے تو قبول کر یں،ور نہ انکار کر دیں۔‘‘
مصعب بن عمیر نے کہا۔
اسید بن حضیر سننے کے لیے تیار ہوئے تو مصعب بن عمیر نے قرآن کی آیتیں پڑھنی شروع کیں۔اسید ان کو سن کر پکار اٹھے’’یہ کلام کس قدر عمدہ ہے‘‘ اوراسی وقت اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح سعد بن معاذ یثرب کے ایک ممتاز شخص تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ اسید بن حضیر نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصہ کی حالت میں مصعب بن عمیر کے پاس پہنچے۔ مصعب نے ان سے بھی قرآن سننے کی درخواست کی۔ اور اس کے بعد کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔سعد پر اس کا اثر ہوا اور وہ اسی وقت اسلام کے حلقہ میں شامل ہو گئے۔ ان کا قبیلہ بنی اشہل بھی اپنے سردار کا ساتھ دیتے ہوئے اسی دن اسلام میں داخل ہو گیا۔ اس طرح 621 کے آخرتک یہودیوں کے سوا یثرب کی بیشتر آبادی مسلمان ہوگئی۔
یثرب میں دعوتی کام شروع ہونے کے تیسرے سال 622ء میں ، جب حج کا موسم آیا تو مدینہ کے پچہتر(75) مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے اور مشورہ کرنے کے لیے مکہ آئے۔ ان میں دو عورتیں بھی تھیں۔ یہ لوگ اپنے وطن کے زائرین کعبہ کے قافلہ کے ساتھ آئے تھے اور انہیں کے ساتھ منیٰ میں قیام کیا تھا اور خفیہ طور پر پیغمبر اسلام کو پیغام دیا تھا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ، رات کو ایک گھاٹی ( عقبہ ) میں آپ نے ان سے ملاقات کی۔اسی نسبت سے یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔
یثرب کے مسلمانوں نے اس موقع پر یثرب کے مقامی مسائل پر بھی آپ سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ یثرب کے قبیلوں میں آج کل ایک بادشاہ کے انتخاب کے سوال پر اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اگر چہ ایک زرگر نے یثرب کے ایک سردار عبد اللہ بن اُبی کے سر کی ناپ لی ہے تا کہ وہ اس کے لیے تاج بنائے۔ مگر یثرب کے سرداروں کی اکثریت اس کو بادشاہ بنانے پر متفق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان حالات میں، جب کہ یثرب کے باشندوں کی ایک معقول تعدادمسلمان ہو چکی ہے، اگر آپ ہجرت کر کے یثرب چلیں تو وہاں کے لوگ بادشاہ کے بجائے ایک پیغمبر کے انتخاب پر راضی ہو جائیں گے۔ کیوں کہ آپ نہ صرف پیغمبر ہیں بلکہ طائفہ قریش سے ہیں اور آپ کے باپ یثرب کے پاس مدفون ہیں۔
یہ ایک نازک سوال تھا۔ کیوں کہ حضرت محمد، ساری تکلیفوں کے باوجود، اب بھی قریش کے ایک فردتھے۔ مکہ سے ہجرت کر کے یثرب جانا قریش سے ہمیشہ کے لیے تعلق تو ڑلینا تھا۔ قبائلی دور میں اپنے قبیلہ سے کٹنا گو یا اپنے اعوان و انصار اور اپنے ذریعہ معاش دونوں سے دست بردار ہو جانے کے ہم معنیٰ تھا۔ آپ نے یثرب کے لوگوں سے کہا’’ کیا آپ لوگ میرے ساتھ بیعت النساء کرنے پر تیار ہیں‘‘بیعت النساء کا مطلب یہ تھا کہ اس بات کا عہد کیا جائے کہ بیعت والے کی حفاظت اپنے بچوں اور عورتوں کی طرح کر یں گے۔ براء بن معرور نے نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
’’اے خدا کے رسول ، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ہم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت و حمایت کرتے ہیں ،اسی طرح آپ کی بھی کر یں گے۔ ہم میدان جنگ کے شہسوار ہیں‘‘۔
یثرب کے لوگ بیت پر تیار ہو چکے تھے کہ ابوالہیشم بن التیہان نے آگے بڑھ کر کہا:
’’ اے خدا کے رسول ، آپ تعلق کے بعد یثرب کے یہودیوں سے ہمارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ ایسانہ ہو کہ آپ کسی وقت مکہ لوٹ جائیں اور ہم کو تنہا چھوڑ دیں‘‘۔
حضرت محمد نے فرمایا’’:ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔تمہارا خون میرا خون ہے، تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں تمہاری اور میری صلح و جنگ ایک ہے۔‘‘ اس کے بعد بیعت شروع ہوئی۔ بیعت کے دوران عباس بن عبادہ نے کہا:
’’اے گروہ خزرج ، سمجھ لو کہ تم کس چیز پر بیعت کرر ہے ہو، یہ عرب و عجم کے خلاف اعلانِ جنگ پر بیعت ہے‘‘۔سب نے کہا ’’ہاں ہم اسی پر بیعت کر رہے ہیں۔ ہمارا جان و مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے‘‘۔ اس کے بعد آپ نے یثرب کے مسلمانوں (انصار) میں سے بارہ آدمیوں کو’’ نقیب‘‘کی حیثیت سے چنا اوران سے کہا :
أَنْتُمْ كُفَلاءُ عَلَى قَوْمِكُمْ(الطبقات الکبریٰ، جلد3، صفحہ 452)۔یعنی، تم یثرب کے مسلمانوں پر نگراں ہو۔
اس طرح گویا ایک نئی جماعت و جودمیں آئی جو اس وقت کے رواج کے بالکل خلاف تھی۔اس جماعت کی بنیاد خاندانی اور قبائلی تعلقات پر نہ تھی بلکہ عقیدہ اورعمل پر تھی اور اسی نسبت سے اس کا نام امت مسلمہ تھا۔ یہ ’’عقبہ‘‘ جہاں حضرت محمد نے متواتر دو سال یثرب کے مسلمانوں سے بیعت لی ، اپنی سابقہ شکل میں آج موجود نہیں ہے۔ البتہ وہاں ایک مسجد اب بھی بطور نشان موجود ہے۔
اس کے بعد مسلمانوں کی زبان میں دو اصطلاحیں داخل ہو گئیں۔ ایک انصار، دوسرے مہاجرین۔ انصار سے مراد مدینہ کے مسلمان تھے۔ اور مہاجرین سے مراد مکہ کے مسلمان ۔ شروع میں انصار کا لفظ ان مسلمانوں کے لیے بولا جاتا تھا جنہوں نے 621-622میں حضرت محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ مگر بعد کو یہ لفظ مدینہ کے تمام مسلمانوں کے لیے بولا جانے لگا۔
یثرب کے مسلمان بیعت کے بعد اگلی صبح کو مکہ سے روانہ ہو گئے۔ تین دن بعد قریش کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے تیز رفتار اونٹوں پر اپنے آدمی دوڑائے کہ انہیں پکڑ کر مکہ واپس لائیں۔ مگر وہ لوگ چونکہ راستہ بدل کر جا رہے تھے ، تیز رفتار سوار انہیں پانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وہ لوگ خیریت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔
اب حضرت محمد نے ہجرت کے فیصلہ کے مطابق مکہ کے مسلمانوں سے کہہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر یثرب چلے جائیں اور وہاں اپنی قوت کو مجتمع کریں۔ مسلمان چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر مکہ سے جانے لگے۔ قریش بھی ان کی تاک میں لگ گئے۔ ہاشم بن عاص کو عین روانگی کے وقت پکڑ لیا اور زنجیر میں باندھ کر شہر کے باہر صحراء میں ڈال دیا۔ یہی اس زمانہ کی قید تھی۔ کیوں کہ مکہ میں کوئی قید خانہ نہ تھا۔ عرب کا پہلا قید خانہ حضرت محمد کی وفات کے بعد کوفہ میں بنایا گیا۔ انصار کو خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے کچھ آدمی تیز رفتار اونٹوں پر سوار کر کے مکہ بھیجے جنہوں نے ہاشم کی زنجیریں کھولیں اور اونٹ پر سوار کر کے مدینہ لے گئے۔ ہاشم کے بدن پر اس وقت ہڈی چمڑے کے سوا کچھ باقی نہ تھا۔ ایک مالدار مسلمان بنو جاش کے متعلق جیسے ہی معلوم ہوا کہ وہ یژب چلے گئے ، ابو سفیان نے ان کے بہت بڑے مکان پر قبضہ کر لیا۔ دوسرے مالدار مسلمان جو صہیب بن سنان رومی کے نام سے مشہور تھے ، ان کو قریش کے لوگوں نے پکڑا اور کہا کہ اے صہیب ، جب تم مکہ آئے تو فقیر تھے۔ اس شہر میں سوداگری کر کے تم مالدار ہو گئے ہو۔ جو دولت تم نے یہاں جمع کی ہے اس کو لے کر ہم تمہیں جانے نہ دیں گے۔ صہیب نے ساری دولت ان کے حوالے کر دی اور خالی ہاتھ یثرب چلے گئے۔ اس طرح بالآخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ اب صرف حضرت محمد اور ان کے دو قریبی ساتھی ابوبکر اور علی باقی رہ گئے۔ یا وہ کمزور اور نادار مسلمان جو قرآن کے الفاظ میں اس طرح دعائیں کرتے تھے:رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا(4:75)۔
