تعمیم کی غلطی
سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہےجس کو تعمیم (generalization) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک استثنائی مثال کولےکراس کوعمومی شکل دینااور اس سےکلی رائےبنانا۔تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچتےہوئےنظرآئیں گے۔ مثلاً بائبل (نیاعہدنامہ)میں ہےکہ حضرت مسیح نے فرمایا کہ:یہ نہ سمجھوکہ میں زمین پرصلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوارچلوانےآياہوں۔
"Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword." (Matthew, 10:29)
حضرت مسیح کاقول ان کےپورےکلام میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتاہے۔ان کے زیادہ تر اقوال محبت اور اخلاق جیسی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں مذکورہ قول کولے کر یہ کہنا حضرت مسیح کا مشن تلوار چلوانا تھا، ایک استثنا کو عموم کا درجہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غلط تعمیم ہوگی جو علمی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔
اسی قسم کی غلط تعمیم قرآن کےبارےمیں بھی کی گئی ہے۔قرآن سےقتال کی بعض آیتوں کو لےکرکچھ لوگ دعویٰ کرتےہیں کہ قرآن جنگ وقتال کی کتاب ہے۔حالانکہ یہ ایک کھلی ہوئی غلط تعمیم ہے۔قرآن کی ننانوےفیصدسےزیادہ آیتیں وہ ہیں جوامن اور انسانیت جیسے مثبت موضوعات سےتعلق رکھتی ہیں۔ایک فیصدسےبھی کم آیتیں وہ ہیں جوکھلی ہوئی جارحیت کی صورت میں دفاع کےاحکام بتاتی ہیں۔ایسی حالت میں چندآیتوں کو لےکر یہ کہناکہ یہی قرآن کی عمومی تعلیم ہے،سراسرغلط ہےاورعلمی اعتبارسےناقابل قبول ہے۔
تعمیم کی یہ فکری برائی ہمارےمعاشرہ میں پھیلتی جارہی ہے۔لوگوں کاعام مزاج یہ ہے کہ جس آدمی سےوہ خوش ہوں گے اس کی کچھ خوبیوں کولےکراس کومبالغہ آمیزاندازمیں بیان کریں گے۔وہ انہی چندخوبیوں کی بنیادپراپنےمحبوب کی مکمل تصویربنائیں گے۔اس کے برعکس، جس آدمی سےوہ ناخوش ہوں اس کی خوبیوں کووہ نظراندازکریں گے۔وہ ڈھونڈ کر اس کی کچھ برائیاں نکالیں گےاوران برائیوں کومبالغہ آمیزاندازمیں بیان کرکےیہ تاثر دیں گے کہ یہی ان کےمبغوض آدمی کی مکمل تصویر ہے۔
تعمیم کی یہ دونوں ہی صورتیں سراسرغلط ہیں۔یہ طریقہ غیرعلمی بھی ہےاوراخلاق اور انصاف کے خلاف بھی۔ جس معاشرہ میں تعمیم کایہ طریقہ رائج ہوجائےوہاں ہرآدمی کی تصویر مصنوعی بن جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں ایسی رائیں قائم کریں گے جن کا حقیقت واقعہ سےکوئی تعلق نہ ہوگا۔
راقم الحروف کوبھی اپنےدعوتی مشن میں اس قسم کی غلط تعمیم کاتجربہ ہوا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ میرےبارےمیں یہ مشہور کرتے ہیں کہ ان کو تو بس ایک بات اسلام میں ملی ہے، صلح حدیبیہ۔ حالانکہ یہ سراسربےبنیادبات ہے۔میری دوسوسے زیادہ کتابیں ہیں اورہزاروں سے زیادہ مقالات ومضامین چھپ چکےہیں۔کوئی شخص ان میں دیکھ سکتاہےکہ میری ان تحریروں میں صلح حدیبیہ کی بات ایک فیصدسےبھی کم ہے۔اسلام کی دوسری تعلیمات اور وقت کے مسائل کااسلامی جواب جیسےمضامین سےمیری تحریریں بھری ہوئی ہیں۔ مگر خود ساختہ تعمیم کے ذریعہ یہ غلط تاثردیاجاتاہےکہ مجھےتو سارےقرآن وحدیث میں صرف ایک چيزملی، صلح۔ جو لوگ ایساکہتےہیں ان کامعاملہ بلاشبہ غیرعلمی بھی ہےاور دیانت کےخلاف بھی۔
