درد ناک انجام
پلین ٹروتھ (The Plain Truth)ایک مشہور امریکی میگزین ہے۔ وہ 7850000 کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں بھیجاجاتا ہے۔ اس ماہنامہ کی اشاعت ستمبر 1986 میں صفحہ اوّل پر ایک امریکی لڑکی کی تصویر ہے جو حیرانی کے عالم میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لڑکی کا نام سالی (Sally)ہے۔ میگزین میں اس لڑکی کا ایک خط شائع ہواہے۔ یہ ایک چھوٹا سا خط ہے مگر وہ جتنا چھوٹا ہے اتنا ہی زیادہ وہ درد ناک ہے۔ وہ مختصر خط ہے۔
When I was 8 years old I first had sex with a boy of 15. I did it because I lack love and attention from my parents. I need love, and my parents never show me any. Nothing really changed at home, and at 15 I became pregnant. My boyfriend blamed me and left. I had nowhere to turn, I was trapped, so I had an abortion. Now I’m afraid to date anyone, and I cry myself to sleep every night. (p. 5)
ترجمہ:جب میری عمر آٹھ سال تھی اس وقت میں نے پہلی بار ایک پند رہ سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی فعل کیا۔ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے محبت اور توجہ پانے سے محروم تھی ، مجھے محبت کی ضرورت تھی، مگر مجھے کبھی اپنے والد ین کی محبت نہ مل سکی (میرے اس حال کے باوجود ) گھر کے اند ر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور میں پندرہ سال کی عمر میں حاملہ ہوگئی۔ میرے دوست لڑکے نے مجھ کو ملزم ٹھہرایا اور مجھ کو چھوڑدیا۔ کوئی صورت میرے لیے باقی نہ رہی۔ میں پھنس کر رہ گئی۔ چنانچہ میں نے حمل ساقط کرالیا۔ اب میں کسی لڑکے سے تعلق قائم کرنے سے ڈرتی ہوں۔ ہر رات کو میں روتی رہتی ہوں یہاں تک کہ سوجاتی ہوں۔ (امریکا میں ہر دو منٹ میں ایک کم عمر لڑکی حاملہ ہوجاتی ہے۔)
پلین ٹر وتھ کے مذکورہ شمار ہ میں نیویارک کے اخبار نویس جارج ڈون کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکا میں 15 سے 19 سال کے درمیان کی ہر ایک ہزار لڑکیوں میں 96 لڑکیا ں حاملہ پائی گئی ہیں۔ (صفحہ 6)
یہ انجام ہے فطرت سے انحراف کرنے کا۔ا ﷲتعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں بنا یا۔ پھر مرد اور عورت کے تعلق کا ایک نظام مقرر کیا۔ وہ نظام یہ ہے کہ مرد اورعورت ایک خاص عمر کو پہنچ کر نکاح کر لیں۔ پھر وہ مل کر ایک گھر بنائیں۔ اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کریں۔ اس طرح انسانی نسل چلائی جائے۔ مگر جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو اتنا بڑھا یا کہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو بھی ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کردیا۔ اس نتیجہ میں مغرب کے معاشرہ میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں جن میں سے ایک وہ ہے جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔
عورت اور مرد کے درمیان آزاد انہ اختلاط اور بے قید تعلق فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ صنفی معاملہ میں عورت’’وحدت ‘‘ کو پسند کرتی ہے۔جب کہ مرد کا معاملہ طبعاً کسی قدر مختلف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزادانہ صنفی تعلق وفا دارانہ صنفی تعلق میں مانع بن جاتاہے جو مرد سے زیادہ عورت کے لیے نفسیاتی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ قیمت عورت کو بھگتنی پڑتی ہے۔
آسٹریلیا کی مشہور آزادی پسند خاتون مِزجرمین گريئر (Ms Germaine Greer) نے بڑی عمر کو پہنچ کر یہ اعتر اف کیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں آزادیِ نسواں کے لیے ان کا جوش وخروش حقیقت پسند انہ نہ تھا۔ انھوں نے ایک انٹرویومیں کہا:
‘‘What is worrying today is the results of the sexual liberation movement—the number of teenaged girls who have been on the pill since they were 12 and 13, the number of teenaged girls who get pregnant by the time they are 15 and 16. What is happening to them? Sex means something quite different for men. They can love and leave. When the time comes to go to university, they can take off quite easily. Women have a different sensibility. They love with their heads, hearts and loins. And a broken love affair leaves them quite shattered. I have seen it happen to people close to me. And it is terrible.’’
(Indian Express, 14 January, 1987)
آج جوچیز پر یشان کن ہے وہ آزاد صنفی تحریک کے نتائج ہیں۔ کم عمر لڑکیا ں جو 12 اور 13 سال کی عمر سے مانع حمل گولیاں استعمال كرنے لگتی ہیں اور وہ لڑکیاں جو 15ا ور 16 سال کی عمر میں حاملہ ہوجاتی ہیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ صنفی تعلق مرد کے لیے کافی مختلف معنی رکھتا ہے۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ محبت کریں اور چھوڑدیں۔ جب یونیورسٹی جانے کا وقت آتا ہے تو وہ نہایت آسانی سے روانہ ہوسکتے ہیں۔ عورتیں مرد سے مختلف حساسیت رکھتی ہیں۔ وہ اپنے دماغ ، اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ محبت کرتی ہیں۔ ایک ٹوٹا ہوا محبت کا رشتہ انھیں بالکل توڑکر رکھ دیتا ہے۔ میں یہ بات اپنے قریب کے لوگوں میں ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔اوریہ دہشت ناک ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی سوسائٹی میں بھی بگاڑ پایا جاتاہے اور مغرب کی سوسائٹی میں بھی۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ مسلمانوں کا بگاڑ اسلامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہواہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ خود ان کے اصولوں پر عمل کی پیداوار ہے۔
