جائز حدود کے اندر
دہلی میں ایک امام مولانا قاسم قاسمی ہیں۔ وہ رود گراں کی مسجد میں امامت کرتے ہیں اور اس ے ساتھ مدرسہ حسین بخش میں قرآن کا درس دیتے ہیں۔ مگر وہ مسجد اور مدرسہ سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ وہ تعویذ گنڈے کا بھی کاروبار نہیں کرتے۔ وہ ان تدبیروں سے بھی بہت دور رہتے ہیں جن کے ذریعہ لوگ چندے اور ہدایہ وصول کرتے ہیں۔ اس کے باوجود جمناپار (گونڈہ) میں انہوں نے اپنا ذاتی مکان بنالیا ہے۔ ان کے یہاں دوٹیلی فون لگا ہوا ہے۔ ایک گھر پر اور ایک مطب میں، وغیرہ۔
یہ کامیابی انہوں نے کس طرح حاصل کی۔ اس کا راز محنت ہے۔ وہ فن طب سے واقف ہیں اور مرکب دوائیں خالص اجزاء کے ساتھ بناتے ہیں اور ان کو معقول منافع کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی جائز کمائی سے وہ سب کچھ حاصل کرلیا ہے جو دوسرے لوگ غلط طریقوں سے حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جائز حدود میں وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے آدمی جائز حد کو توڑ کرناجائز کے دائرہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ (ڈائری، 28مارچ1995)
