اسلامی تربیت
آج جامعہ ملیہ (اسلامک اسٹڈیز) کے تین طالب علم ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں سے ایک انعام الرحمن فلاحی تھے۔ وہ جامعۃ الفلاح سے فارغ ہیں، اور اب اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کررہے ہیں۔ انعام الرحمن فلاحی صاحب کے والد کا نام مولانا رفیق عالم قاسمی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن ہیں نیز مرکز جماعت اسلامی میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ پر ہیں۔
انعام الرحمن فلاحی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ’’میں مولانا وحید الدین سے ملنے کے لیے جانا چاہتا ہوں‘‘۔ ان کے بیان کے مطابق مولانا رفیق قاسمی صاحب نے جواب دیا کہ ’’جاؤ، مگر وہاں استفادہ کی نیت سے بیٹھنا ‘‘۔
اسی کا نام اسلامی تربیت ہے۔ انعام الرحمن فلاحی کے والد اگر ان سے یہ کہتے کہ تم کو اگر ملنا ہے تو جماعت اسلامی کے کسی عالم سے ملو تو وہ اپنے بیٹے کو تحذّب کی تعلیم دیتے ۔ اگر وہ یہ کہتے کہ مولانا وحید الدین تو ایک نزاعی شخص ہیں تو وہ اپنے بیٹے کے اندر غیر علمی نقطۂ نظر پیدا کرتے۔ اگر وہ یہ کہتے کہ مولانا وحید الدین تو ہندولابی کے آدمی ہیں تو وہ اپنے بیٹے کے اندر الزام تراشی کا مزاج پیدا کرتے۔ اس کے برعکس، جب انہوں نے اپنے بیٹے سے مذکورہ جملہ کہا تو ان کا یہ جملہ اپنے بیٹے کے لیے مثبت لائنوں پر تربیت کا ذریعہ بن گیا۔ (ڈائری،21اپریل1997)
