رسول اللہ کا کردار

    طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیا نک تھی جب شہر کے لڑکے پیغیر اسلام کو پتھر مار مار کو شہر سے باہر لے جا رہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی صدر مقام پہنچے تھے تا کہ انھیں دین اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا ۔

آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سرسے پیر تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔

غور کیجیے یہ کسی آدمی کے لیے کتنا نازک وقت ہوتا ہے ۔ آپ نے خود ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا ۔ بلکہ آپ نے فرمایا’’ خدا یا انھیں صحیح راستہ دکھا۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ‘‘۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)

 رسول اللہ کا یہی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی دشمنی اور کوئی ہٹ دھرمی ٹھہر نہ سکی ۔ آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔

آپ نے ایک بار فرمایا:صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو بلکہ یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ صلہ رحم کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5991)۔ تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگائی جو قطعاً جھوٹ اور بے بنیاد تھی ۔ اس فرضی داستان کو گھڑ نے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نامی بھی شریک تھا جو حضرت ابو بکر کا رشتہ دار تھا۔ اس شخص کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو کچھ ماہانہ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے، تو آپ نے اس کی امدادی رقم بند کر دی ۔ اس پر اللہ کے رسول کے او پر یہ آیت (24:22)اتری کہ اگر کوئی شخص معاشی حیثیت سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو ۔ بلکہ اس کے جرم سے درگذر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد جاری رکھو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2661)۔

اسی طرح حضرت ابو بکر ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو گالی دی۔ حضرت ابو بکر پہلی بار گالی سن کر چپ رہے دوسری بار اس نے گالی دی تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر اس نے جب تیسری بار بدزبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور کچھ بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ فوراً وہاں سے اٹھ گیے۔ حضرت ابو بکر نے عرض کیا۔ یارسول الله کیا آپ مجھ سے خفا ہو گئے۔ فرمایاابو بکر جب تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے کھڑا تھا۔ جب تم نے جواب دیا تو وہ ہٹ گیا(سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 4896)۔

  گویا برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کا روائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی انسان خدا سے بہترانتقام نہیں لے سکتا۔

  حضرت علی رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ اس کے بعد ایک روز وہ تقاضے کے لیے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہودی نے جواب دیا — جب تک تو میرا قرض ادا نہ کرے گا میں تجھ کو نہیں چھوڑوں گا۔ چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کہ وہ اگلی صبح تک آپ کا دھرنا دیے بیٹھا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کا اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ لوگوں نے کہا حضور ایک یہودی آپ کو قید کیے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا — ہاں ۔ مگر مجھے ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ جب دوسرا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں اور آپ کے اس عمل سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک بہت مالدار شخص تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لیے آپ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ اور اب آپ کے اعلیٰ کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ ساری دولت آپ کے سامنے حاضر کر دی اور کہا کہ اس کو آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ (دلائل النبوۃ للبہیقی، جلد 6، صفحہ 280-281)

عبداللہ ابن ابی الحسماء بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پور انہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریئے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کرتا ہوں۔ مگر واپس آنے کے بعد میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد مجھ کو اپنا وعدہیاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا ، دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے فرمایاتم نے مجھ کو بہت تکلیف دی۔ میں تین روز سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4996)

اس طرح کے عمل میں اتنی کشش ہے کہ کٹر سے کٹر آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا السلام علیکم تباہی ہو تم پر ، حضرت عائشہ سے نہیں رہا گیا۔ انھوں نے کہا ’’بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو ‘‘۔آپ نے سنا تو منع فرمایا۔ آپ نے کہا — ’’خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے‘‘(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6024)۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کا دل جیتنے کے لیے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بدزبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے۔ ہتھیار کے حملے کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملے کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑتی ہے۔

براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کےساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا جن میں سے ایک شرط یہ تھی

 جو غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے اس کو وہ واپس کر دیں گے، مگرجو مسلمان ہمارے پاس آجائے گا ہم اس کو واپس نہیں کریں گے۔

یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ مکہ سے ایک مسلم نوجوان ابو جندل حدیبیہ پہنچے۔ ان کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں مکہ والوں نے قید کر رکھا تھا اور وہ بیڑیاں پہنے ہوئے گرتے پڑتے اس حال میں یہاں پہنچے تھے کہ ان کا جسم بیٹریوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھے دشمنوں کے چنگل سے بچائیے۔

یہ بے حد نازک موقع تھا۔ تمام صحابہ کی تلواریں کھنچ گئیں۔ ابوجندل کے جذباتی واقعہ کے بعد اس شخص کا رجحان یہ ہوگیا کہ معاہدہ کو کالعدم کر کے ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے۔ دوسری طرف مکہ والوں نے کہا ’’محمد! یہ معاہدہ کی تعمیل کا پہلا موقع ہے‘‘۔ خدا کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ چنانچہ انھیں دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا گیا۔

بظاہر اس واقعہ کے معنی صرف یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے ۔ مگر اس واقعہ میں وعدہ پورا کرنے کا جو شاندار مظاہرہ ہوا اس نے ظالموں کو اندر سے پچھاڑ دیا ۔ اگرچہ وہ ابو جندل کو اپنے ساتھ لے گئے اور انھیں اپنے یہاں قید میں رکھا۔ مگر ایفائے عہدکی اس بلند ترین علامت کو دیکھ کر مکہ کے لوگ اتنی کثرت سے مسلمان ہونے شروع ہوئے  کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابو جندل انھیں ایک زبر دست خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انھوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731-2732)

حضرت ابو ہر یرہ مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجار کے دشمنوں کی طرف چند سوار بھیجے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستہ میں پاگئے اور اسے گرفتار کر لائے۔ اور مدینہ لاکر مسجد کے ایک ستون سے اسے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال دریافت کیا۔ ثمامہ نے جواب دیا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی، اور اگر مجھ پر احسان کر کے چھوڑ دو گے توعمر بھر تمہارا شکر گزار ہوں گا۔ اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال چاہو میں پیش کرنے کو تیار ہوں یہ رسول اللہ نے اس کی رہائی کا حکم دیدیا۔

یہ واقعہ اس وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کے ہاتھ آجانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو تو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی عمل سے اس کی روح کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد نبوی میں آیا ۔ لوگ حیران تھے کہ وہ کس لیے دوبارہ یہاں آیا ہے ۔ مگر جب اس نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے اسے رہا کر کے در اصل ہمیشہ کے لیے گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ گیا جب وہ حرم میں پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کے اسلام کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے کہا ’’تم بے دین ہو گئے‘‘ثمامہ نے جواب  دیا ’’بے دین نہیں ہوا۔ البتہ محمد کے دین کو قبول کر لیا ہے‘‘۔

اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی، ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ انھوں نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو محمد کی اجازت کے بغیراب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1746)۔

کردار بظا ہر ایک بے قیمت چیز ہے۔ مگر اس کو دے کر آدمی کیسی کیسی قیمتی چیزوں کو خرید لیتا ہے۔

__________________________________

آل انڈیا ریڈیونئی دہلی سے 9 جون 1968 کو نشر کیا گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion