انسانیت کی تعمیر میں اسلام کا حصہ
چودہ سو سال پہلے اسلام جب آیا تو اس وقت انسانیت رنگ اور نسل کی بنیاد پر مختلف طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اسلام نے یہ تصور دیا کہ سارے انسانوں کا خالق ایک ہے۔ اس نے ایک ہی مادہ سے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ مختلف انسانوں میں رنگ ونسل کا جو ظاہری فرق ہے وہ پہچان کے لیے ہے نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اسی کو مولانا الطاف حسین حالی (1837-1914) نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:
یہ پہلا سبق تھا کتاب ھدی کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
اسلام کی یہ آواز فطرت کی آواز تھی۔ چنانچہ وہ لوگوں کے دلوں میں اتر گئی ۔ جو لوگ انسانوں کو اونچ نیچ میں بانٹ کر ان کے اوپر حکومت کر رہے تھے۔ انھوں نے اسلام کی سخت مخالفت کی ۔ کیوں کہ ان کو دکھائی دیتا تھا کہ یہ نظریہ اگر پھیلا تو ان کی ہزاروں سال سے قائم شدہ بڑائی ختم ہو جائے گی۔
مگر اسلام کی آواز فطرت کی آواز تھی۔ وہ لوگوں میں نہایت تیزی سے پھیل گئی۔ دھیرے دھیرے اونچے طبقہ کے لوگ غیر مؤثر اقلیت بن گئے۔ یہاں تک کہ انسانی برابری کے نظریہ کی بنیاد پر اسلام ایک سماجی انقلاب لانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ انقلاب پہلے عرب میں آیا۔ اس کے بعد وہ پھیلنے لگا۔ یہاں تک کہ وہ قدیم آباد دنیا کے بیشتر حصوں میں چھا گیا۔
اسلام سے پہلے نچلے طبقہ کا کوئی آدمی اونچے طبقہ کے آدمی کے خلاف بول نہیں سکتا تھا۔ اسلام نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ ایک معمولی آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ خلیفہ وقت کے او پر تنقید کرے ۔ ایک عام آدمی وقت کے حاکم کو عدالت میں کھڑا کر سکے۔ مسجد کے اندر ایک غریب آدمی امیروں اور بادشاہوں کے ساتھ ایک صف میں شانہ بشانہ عبادت کر سکے ، وغیرہ۔
اسی طرح اسلام نے محاسبہ (introspection) کا احساس لوگوں کے اندر پیدا کیا۔ یعنی انسان اس دنیا میں آزاد نہیں ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور اس کی کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔ بلکہ ہر آدمی خدا کی پکڑ میں ہے۔ ہر آدمی موت کے بعد خدا کی عدالت میں پیش ہونے والا ہے۔
اس کے بعد نیکیوں کے لیے خدا کا انعام ہو گا اور برائی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب۔
یہ تصور جب لوگوں کے دماغ میں بیٹھا تو اس نے انھیں بالکل بدل ڈالا ۔ اب انسان کسی کے خلاف بری بات سوچنے سے بھی ڈرنے لگا۔ کیوں کہ اس کو اندیشہ تھا کہ خدا تو دل کی بات بھی جانتا ہے۔ پھر میں کیسے اس کی پکڑ سے بچ سکوں گا۔
جن لوگوں نے کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا تھا وہ انھوں نے اس کے مالک کو واپس کر دی۔ کیوں کہ پیغمبر اسلام نے بتایا کہ جو ز مین تمہاری نہیں ہے اس کو آج اگر تم اپنی ملکیت بناؤ گے تو کل وہ تمہارے لیے آگ کا انگارہ بن جائے گی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2680)۔
اس نظریہ سے متاثر ہونے کے بعد لوگ احتیاط کی زندگی گزارنے لگے ۔ انھوں نے دوسروں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیا ۔ وہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچ بولنے لگے ۔ وہ خیانت کو چھوڑ کر امانتدار بن گئے۔ وہ شر پسندی کو چھوڑ کر خیر پسند بن گئے۔ انھوں نے بے انصافی کو چھوڑ کر انصاف کا طریقہ اختیار کر لیا۔ وہ حق تلفی سے باز آگئے۔ اور انھوں نے حق کی ادائیگی کو اپنا طریقہ بنا لیا ۔ جو لوگ اپنے کو عزت والا بتاتے تھے اور دوسروں کو حقیر سمجھتے تھے وہ سب کو ایک نظر سے دیکھنے لگے۔
یہ تمام اخلاقی تبدیلیاں اس لیے آئیں کہ اسلام نے ان کے ذہن میں بٹھایا کہ تم ہر لمحہ خدا کی نظر میں ہو ۔ خدا کے فرشتے تمہارے عمل کا ریکار ڈ تیار کر رہے ہیں ۔ موت کے بعد آنے والی زندگی میں یہ سارا ریکارڈ پیش ہو گا اور اس کے مطابق سزا یا انعام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس اسلامی عقیدہ نے لوگوں کو اس طرح بدل دیا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ زندگی کو چھوڑ کر ذمہ دارا نہ زندگی گزارنے لگے۔
اس سلسلہ میں اسلام کا مزید کار نامہ یہ ہے کہ اس نے صرف اعلیٰ اصولوں کی تبلیغ نہیں کی۔ بلکہ اس کو اپنے مشن میں اس حد تک کامیابی ہوئی کہ اس نے ایک پورا معاشرہ عملاً اسی نہج پر قائم کر دیا۔
عرب میں اور عرب کے باہر اسلام نے جو معاشرہ قائم کیا وہ ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں تمام لوگ برابر کے افراد کی حیثیت سے رہتے تھے ۔ جہاں ہر آدمی کو یہ اعتماد ہوتا تھا کہ جس آدمی سے اس کا معاملہ پیش آئے گا وہ جھوٹ نہیں بولے گا ۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرے گا۔ وہ بد معاملگی نہیں کرے گا۔ وہ سازشی طریقہ اختیار نہیں کرے گا۔ ہر آدمی مطمئن تھا کہ دوسرے سے مجھے خود غرضی اور بدخواہی کا تجربہ نہیں ہوگا۔ کوئی کسی کا استحصال نہیں کرے گا ۔ کوئی کسی کے ساتھ لوٹ مار پر نہیں اتر آئے گا۔
اسلام نے ایسا معاشرہ بنایا جو پیشین گوئی کی حد تک با اخلاق تھا۔ جہاں ہر آدمی قابل پیشین گوئی کردار کی صفت اپنے اندر رکھتا تھا۔ جہاں آدمی پیشگی طور پر جان سکتا تھا کہ اگر میرا معاملہ کسی کے ساتھ پھنس جائے تو وہ میرا استحصال نہیں کرے گا۔ اگر میں کسی پر تنقید کر دوں تو وہ میرا دشمن نہیں ہو جائے گا۔ اگر کوئی غریب سے امیر یا محکوم سے حاکم بن جائے تو یہ چیز اس کو سرکش بنانے والی ثابت نہیں ہو گی۔ اگر کسی کے ساتھ میرا کوئی مال یا جائداد کا معاملہ ہو تو وہ بے انصافی پر نہیں اتر آئے گا۔
ایک اچھے انسانی معاشرہ کی تعریف یہ ہے کہ اس کے افراد سے ہمیشہ بہتر اخلاق کی امید کی جائے ۔ وہ قابل پیشین گوئی کر دار (predictable character) کے حامل ہوں۔ اور پیغمبر اسلام نے جو معاشرہ بنایا وہ ایسا ہی معاشرہ تھا۔ وہ انسانیت کے لیے ایک رحمت تھا ۔ اور زمین والوں کے لیے ایک برکت ۔
______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 24مئی 1996 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
